دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

بشارت پہلے سے دیدی گئی۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ(۵)

ترجمۂ  کنزالایمان:اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں نہ آسمان میں۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:   بیشک اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ،نہ زمین میں اورنہ ہی آسمان میں۔

{اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ:بیشک اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔} آسمان و زمین کی ہر چیز، ہر وقت، تمام تر تفصیلات کے ساتھ بغیر کسی کی تعلیم و خبر کے جاننا اللہ تعالٰی کی صفت ہے ،یہ وصف کسی بندے میں نہیں ، کیونکہ مخلوق کو جو علم ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے بتانے سے ہے اور وہ بھی مُتَناہی اور قابلِ فناہے، یعنی اس کی کوئی نہ کوئی انتہاء ہے اور وہ ختم بھی ہوسکتا ہے ، نیز وہ تب سے ہے جب سے اللہ تعالٰی نے بتایا اور تب تک ہے جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے۔ ایسے علم کو علمِ عطائی کہتے ہیں ، جیسے اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکے متعلق ارشاد فرمایا:

’’وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘‘(سورۂ انعام:۷۵)

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور ہم یونہی ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت دکھاتے ہیں۔

            اس آیت میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو مشاہدہ ِ ارض و سَماء کے ذریعے علم عطا کئے جانے کاذکر ہے۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: وہی ہے جوماؤں کے پیٹوں میں جیسی چاہتا ہے تمہاری صورت بناتا ہے ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ ) زبردست ہے، حکمت والا ہے۔

{هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ: وہی ہے جوماؤں کے پیٹوں میں تمہاری صورت بناتا ہے ۔} ایک بے قدر چیز کو انسانی شکل میں ڈھال دینا، اسے مرد یا عورت، گورا یا کالا، خوب صورت یا بدصورت بنانا اللہ تعالٰی کی قدرت سے ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچے کی شکل بنانا، اس میں روح پھونکنا، اس کی تقدیر لکھنا یہ سب کچھ فرشتہ کرتا ہے لیکن فرشتہ چونکہ اللہ تعالٰی کے حکم اور اختیار سے کرتا ہے لہٰذا فرمایا کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ تم میں سے ہر ایک کی خِلْقَت اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھی جاتی ہے، پھر وہ خون کے لوتھڑے کی صورت ہو جاتا ہے، پھر گوشت کی بوٹی کی طرح ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالٰی ایک فرشتہ بھیجتا ہے جسے چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل ،رزق، دنیا میں رہنے کی مدت اور بد بخت یاسعادت مند ہونا لکھو۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، ۲ / ۳۸۱، الحدیث: ۳۲۰۸)

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ﳘ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ﳕ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ-كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۷)

ترجمۂ  کنزالایمان: وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنٰی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اِشتِباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کَجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اِشتباہ ہے تووہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ (لوگوں میں ) فتنہ پھیلانے کی غرض سے اور ان آیات کا (غلط) معنیٰ تلاش کرنے کے لئے ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مطلب اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اورعقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں۔

{اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ: صاف معنیٰ رکھنے والی آیتیں۔} قرآن پاک میں دو طرح کی آیات ہیں :

(1)… مُحْکَمْ، یعنی جن کے معانی میں کوئی اِشْتِبَاہ نہیں بلکہ قرآن سمجھنے کی اَہلیت رکھنے والے کو آسانی سے سمجھ آجاتے ہیں۔

(2)… مُتَشَابِہْ، یعنی  وہ آیات جن کے ظاہری معنیٰ یا تو سمجھ ہی نہیں آتے جیسے حروفِ مقطعات ،یعنی بعض سورتوں کے شروع میں آنے والے حروف جیسے سورۂ بقرہ کے شروع میں ’’الٓمّٓ‘‘ہے اور یا متشابہ وہ ہے جس کے ظاہری معنیٰ سمجھ تو آتےہیں لیکن وہ مراد نہیں ہوتے جیسے اللہ تعالٰی کے ’’یَدْ‘‘یعنی ’’ہاتھ‘‘ اور ’’وَجْہٌ‘‘یعنی ’’چہرے ‘‘ والی آیات ۔ ان کے ظاہری معنیٰ معلوم تو ہیں لیکن یہ مراد نہیں ، جبکہ ان کے حقیقی مرادی معنیٰ میں کئی احتمال ہوسکتے ہیں اور ان میں سے کون سا معنیٰ اللہ تعالٰی کی مراد ہے یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے یا وہ جسے اللہ تعالٰی اس کاعلم دے۔پہلی قسم یعنی مُحْکَمْ کے بارے میں فرمایا کہ’’ یہ کتاب کی اصل ہیں ، یعنی احکام شرعیہ میں ان کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور حلال و حرام میں انہیں پر عمل کیا جاتا ہے ۔

{اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ: وہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے۔} یہاں سے دو گروہوں کا تذکرہ ہے ۔ پہلا گروہ گمراہ اور بدمذہب لوگوں کا ہے جو اپنی خواہشاتِ نفسانی کے پابند ہیں اور متشابہ آیات کے ظاہری معنٰی لیتے ہیں جو کہ صریح گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہوتا ہے یا ایسے لوگ متشابہ آیات کی غلط تاویل کرتے ہیں۔ دوسرا گروہ سچے مومنوں کا ہے جو متشابہ آیات کے معانی کو سمجھے یا نہ سمجھے لیکن وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ محکم و متشابہ سارے کاسارا قرآن ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو معنی متشابہ کی مراد ہیں وہ حق ہیں اوراس کا نازل فرمانا حکمت ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن