30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں جاتا۔ ہاں اپنے حساب کتاب کیلئے بِل وغیرہ بنالینا مناسب ہے۔یونہی کوئی چیز وارنٹی پر ہوتی ہے تو بِل بنوایا جاتا ہے کہ بعد میں اُسی کی بنیاد پر وارنٹی استعمال ہوتی ہے۔
(7)…آیت میں لفظ ’’یُضَآرَّ‘‘ آیا ہے۔ عربی کے اعتبار سے اسے معروف اور مجہول دونوں معنوں میں لیا جاسکتا ہے۔ایک صورت یعنی مجہول کے اعتبار سے معنیٰ ہوگا کہ کاتبوں اور گواہوں کو ضرر یعنی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کاتب اور گواہ اپنی ضرورتوں میں مشغول ہوں تو انہیں اس وقت لکھنے پر مجبور کیا جائے، ان سے ان کا کام چھڑوایا جائے یا کاتب کو لکھنے کا معاوضہ نہ دیا جائے یا گواہ دوسرے شہر سے آیا ہواور اسے سفر کا خرچہ نہ دیا جائے۔ دوسری صورت یعنی معروف پڑھنے میں معنیٰ یہ ہوگا کہ کاتب اور گواہ لین دین کرنے والوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ فرصت اورفراغت کے باوجود نہ آئیں یا لکھنے میں کوئی گڑبڑ کریں۔
(8)…آیت کے اس حصے ’’وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ ‘‘ میں خریدوفروخت کرتے ہوئے گواہ بنالینے کا حکم ہے اور یہ حکم مستحب ہے۔
یہاں آیت میں گواہ کا مسئلہ بھی بیان کیا گیاہے، اس کی مناسبت سے گواہی کے چند احکام بیان کئے جاتے ہیں۔
(1)… گواہ کے لیے آزاد، عاقل، بالغ، اور مسلمان ہونا شرط ہے۔ کفار کی گواہی صرف کفار پر مقبول ہے۔
(2)… تنہا عورتوں کی گواہی معتبر نہیں خواہ وہ چار ہی کیوں نہ ہوں مگروہ معاملات جن پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے جیسا کہ بچہ جننا اور عورتوں کے خاص معاملات ان میں ایک عورت کی گواہی بھی مقبول ہے۔
(3)…حدودو قصاص میں عورتوں کی گواہی بالکل معتبر نہیں صرف مردوں کی شہادت ضروری ہے، اس کے سوا اور معاملات میں ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی بھی مقبول ہے۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۲، ص۱۴۴)
گواہی دینا فرض اور چھپانا ناجائز ہے:
اس آیت میں فرمایا گیا کہ ’’جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں ‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ گواہی دینا فرض ہے، لہٰذا جب مُدّعی گواہوں کو طلب کرے تو انہیں گواہی کا چھپانا جائز نہیں۔ یہ حکم حدود کے سوا اور معاملات میں ہے، حدود میں گواہ کوبتانے اور چھپانے دونوں کا اختیار ہے بلکہ چھپانا افضل ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی حدیث شریف میں ہے ، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہتبارک و تعالیٰٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الحدود، باب الستر علی المؤمن۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۱۸، الحدیث: ۲۵۴۴)
لیکن چوری کے معاملے میں مال لینے کی گواہی دینا واجب ہے تاکہ جس کا مال چوری کیا گیا ہے اس کا حق تَلف نہ ہو، البتہ گواہ اتنی احتیاط کرسکتا ہے کہ چوری کا لفظ نہ کہے اور گواہی میں یہ کہنے پر اِکتفا کرے کہ یہ مال فلاں شخص نے لیا۔
وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌؕ-فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗؕ-وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَؕ-وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠(۲۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر تم سفر میں ہواور لکھنے والا نہ پاؤ تو گِرَو ہو قبضہ میں دیا ہوا اور اگر تم میں ایک کو دوسرے پر اطمینان ہو تو وہ جسے اس نے امین سمجھا تھا اپنی امانت ادا کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اس کا دل گنہگار ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اور اگر تم سفر میں ہواور لکھنے والا نہ پاؤ تو (قرض خواہ کے) قبضے میں گِروی چیز ہواور اگر تمہیں ایک دوسرے پر اطمینان ہوتو وہ (مقروض) جسے امانت دار سمجھا گیا تھا وہ اپنی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جاننے والا ہے۔
{وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ: اور اگر تم سفر میں ہو۔} یہاں گروی رکھنے کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر تم حالت ِ سفر میں ہواور قرض کی ضرورت پیش آجائے اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے یا لکھنے کا موقع نہ ملے کہ اوپر بیان کئے گئے حکم پر عمل ہوسکے تو مقروض قرض خواہ کے قبضے میں کوئی چیز رہن رکھوا دے ۔ ہاں اگر تمہیں ایک دوسرے پر اعتماد ہواور اس وجہ سے تم کوئی تحریر وغیرہ نہ لکھو تو اب مقروض کو چاہیے کہ جب اسے امانت دار سمجھا گیا ہے تو وہ اس حسنِ ظن کو پورا کرے اور اپنی امانت یعنی قرض وقت پر ادا کردے اور اس ادائیگی میں اللہ تعالٰی سے ڈرے۔
(1)… قرض وغیرہ ادھار کے معاملات میں رہن رکھنے کا حکم استحبابی ہے۔
(2)… حالتِ سفر میں رَہن یعنی گروی رکھنا آیت سے ثابت ہوا اور غیر سفر کی حالت میں حدیث سے ثابت ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری اور سنن ترمذی میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مدینہ طیبہ میں اپنی زرہ مبارک یہودی کے پاس گروی رکھ کر بیس صاع جَو لئے تھے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب شراء النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالنسیئۃ، ۲ / ۱۰، الحدیث: ۲۰۶۹، ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی الرخصۃ فی الشراء الی الاجل، ۳ / ۸، الحدیث: ۱۲۱۹)
(3)… جس چیز کو گروی رکھا جائے وہ قرض خواہ کے قبضہ میں دینا ضروری ہے۔ بغیر قبضہ کے رہن نہیں ہوسکتا۔(فتاوی رضویہ، ۲۵ / ۲۴۷)
رہن کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت جلد 3 حصہ 17سے رہن کا بیان مطالعہ فرمائیں۔
سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 282اور 283سے متعلق اہم تنبیہ:
اس رکوع کی دونوں آیات پر غور کریں اور سمجھیں کہ اللہ تعالٰی نے ہمارے خالصتاً دنیاوی مالی معاملات میں بھی ہمیں کتنے واضح حکم ارشاد فرمائے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارا دین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع