دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

پتھر کی چٹان ہے، اس کی عبادات خصوصاً صدقات اور ریا کی خیراتیں گویا وہ گردو غبار ہیں جو چٹان پر پڑ گئیں ، جن میں بیج کی کاشت نہیں ہو سکتی، رب تعالیٰٰ کا ان سب کو رد فرما دینا گویا وہ پانی ہے جو سب مٹی بہا کر لے گیا اور پتھر کو ویسا ہی کر گیا۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر صدقہ ظاہر کرنے سے فقیر کی بدنامی ہوتی ہو تو صدقہ چھپا کردینا چاہیے کہ کسی کو خبر نہ ہو۔لہٰذا اگر کسی سفید پوش یا معزز آدمی یا عالم یا شیخ کو کچھ دیا جائے تو چھپا کر دینا چاہیے۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو علم دین سکھایا ہوتو اس کی جزا کی بھی بندے سے امید نہ رکھے اور نہ اسے طعنے دے کیونکہ یہ بھی علمی صدقہ ہے۔

آیت’’لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:

            اس آیت سے ہمیں یہ باتیں معلوم ہوئیں۔

(1)…ریاکاری سے اعمال کا ثواب باطل ہوجاتاہے۔ اس کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کیلئے احیاء ُالعلوم جلد3 میں سے’’ریاکاری کا بیان‘‘مطالعہ کریں۔([1])

(2)…فقیر پر احسان جتلانا اور اسے ایذاء دینا ممنوع ہے اور یہ بھی ثواب کو باطل کردیتا ہے۔

(3)… کافر کا کوئی عمل بارگاہِ الہٰی میں مقبول نہیں۔

(4)…جہاں ریاکاری یااس طرح کی کسی دوسری آفت کا اندیشہ ہو وہاں چھپا کر مال خرچ کیا جائے۔

(5)…اعلانیہ اور پوشیدہ دونوں طرح صدقہ دینے کی اجازت ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ آیت 271اور 274میں صراحت کے ساتھ اس کا بیان ہے، لیکن اپنی قلبی حالت پر نظر رکھ کر عمل کیا جائے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں ریاکاری، احسان جتلانا اور ایذاء دینا تینوں بد اعمال کی بھرمار ہے۔ مالدار پیسہ خرچ کرتا ہے تو جب تک اپنے نام کے بینر نہ لگوالے یا اخبار میں تصویر اور خبر نہ چھپوالے اسے چین نہیں آتا، خاندان میں کوئی کسی کی مدد کرتا ہے تو زندگی بھر اُسے دباتا رہتا ہے، جب دل کرتا ہے سب لوگوں کے سامنے اسے رسوا کردیتا ہے، جہاں رشتے دار جمع ہوں گے وہیں اپنے مدد کرنے کا اعلان کرنا شروع کردے گا۔ اللہ تعالٰی ایسوں کو ہدایت عطا فرمائے۔

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۶۵)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ پر ہواس پر زور کا پانی پڑا تو دُونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور جولوگ اپنے مال اللہ کی خوشنودی چاہنے کیلئے اور اپنے دلوں کو ثابت قدم رکھنے کیلئے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس باغ کی سی ہے جو کسی اونچی زمین پر ہواس پر زوردار بارش پڑی تو وہ باغ دگنا پھل لایا پھر اگر زور دار بارش نہ پڑے تو ہلکی سی پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

{اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ: جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔} اس آیت میں ان لوگوں کی مثال بیان کی گئی ہے۔جو خالصتاً رضائے الہٰی کے حصول اور اپنے دلوں کو استقامت دینے کیلئے اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہیں کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کا باغ ہر حا ل میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ، ایسے ہی بااخلاص مومن کا صدقہ کم ہو یا زیادہ اللہ تعالٰی اس کو بڑھاتا ہے۔ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دل کی کیفیت دیکھی جاتی ہے نہ کہ فقط مال کی مقدار ،جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالٰی تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔(مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ۔۔۔ الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴))

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ-لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِۙ- وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُﳚ -فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠(۲۶۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: کیا تم میں کوئی اسے پسند رکھے گا کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا جس کے نیچے ندیاں بہتیں اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھلوں سے ہے اور اسے بڑھاپا آیا اور اس کے ناتواں بچے ہیں تو آیا اس پر ایک بگولا جس میں آگ تھی تو جل گیا ایسا ہی بیان کرتا ہے اللہ تم سے اپنی آیتیں کہ کہیں تم دھیان لگاؤ۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجور اور انگوروں کاایک باغ ہو جس کے نیچے ندیاں بہتی ہوں ، اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں اور اسے بڑھاپا آجائے اور حال یہ ہو کہ اس کے کمزور وناتوان بچے ہوں پھر اس پر ایک بگولا آئے جس میں آگ ہو توسارا باغ جل جائے۔ اللہ تم سے اسی طرح اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔

{اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ: کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا۔} ارشاد فرمایاکہ کیا تم میں کوئی شخص یہ پسند کرے گا ،مراد یہ ہے کہ کوئی یہ پسند نہ کرے گا کیونکہ یہ بات کسی عاقل کیلئے قابلِ قبول نہیں کہ اس کا باغ ہو جس میں قسم قسم کے درخت ہوں ،پھلوں سے لدا ہوا ہو، وہ باغ فرحت انگیز و دلکُشا بھی ہواور نافع اور عمدہ بھی، آدمی اسے اپنے بڑھاپے کاسہاراسمجھتا ہو جو انسان کی حاجت کا وقت ہوتا ہے اور آدمی کمانے کے قابل نہیں رہتا اور اُس بڑھاپے میں اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں جو کمانے کے قابل نہ ہوں اوروہ پرورش کے محتاج ہوں۔ الغرض وہ وقت انتہائی شدید محتاجی کا ہوتا ہے لیکن اس بڑھاپے اور حاجت کے وقت شدید قسم کی آندھی چلے جس میں بگولے ہوں اور ان بگولوں میں آگ ہواور وہ آگ آدمی کے مستقبل کے اِس واحد سہارے یعنی باغ کو جلا کر راکھ کر دے تو اس وقت آدمی کے رنج و غم اور حسرت ویاس کاکیا عالَم ہوگا؟ اللہ اَکْبَر، یہی حال اس شخص کا ہے جس نے اعمالِ حسنہ تو کیے ہوں مگر رضائے الہٰی کے لیے نہیں بلکہ ریا کاری کی غرض سے کئے اور وہ اس



[1] ۔۔۔۔ امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم الْعَالِیَہ کی کتاب ،، نیکی کی دعوت،، (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا صفحہ 63 تا 106 کا مطالعہ کرنا بھی مفید ہے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن