دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًىؕ-وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ(۲۶۳)

ترجمۂ  کنزالایمان: اچھی بات کہنا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہواور اللہبے پرواہ حلم والا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اچھی بات کہنا اور معاف کردینا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہواور اللہ بے پرواہ، حلم والا ہے۔

{قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ: اچھی بات کہنا اورمعاف کردینا بہتر ہے ۔}   اگر سائل کو کچھ نہ دیا جائے تو اس سے اچھی بات کہی جائے اور خوش خُلُقی کے ساتھ جواب دیا جائے جو اسے ناگوار نہ گزرے اور اگر وہ سوال میں اصرار کرے یا زبان درازی کرے تو اس سے در گزر کیا جائے ۔سائل کوکچھ نہ دینے کی صورت میں اس سے اچھی بات کہنا اور اس کی زیادتی کو معاف کردینا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد اسے عار دلا ئی جائے یا احسان جتایا جائے یا کسی دوسرے طریقے سے اسے کوئی تکلیف پہنچا ئی جائے۔

{وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ: اور اللہ بے پرواہ ہے۔} آیت کے آخر میں اللہ تعالٰی  کی دو صفات کابیان ہوا کہ وہ بندوں کے صدقات سے بے پرواہ اور گناہگاروں کو جلد سزا نہ دے کر حِلم فرمانے والا ہے۔      (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۳، ۱ / ۲۰۷)

اپنے ماتحتوں کی خطاؤں سے در گزر کریں :

            اس آیت میں بھی ہمیں نصیحت ہے کہ اللہ  تعالٰی  غنی و بے پرواہ ہو کر بھی حلیم ہے کہ بندوں کے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور تم تو ثواب کے محتاج ہو لہٰذا تم بھی فقراء و مساکین اور اپنے ماتحتوں کی خطاؤں سے در گزر کیا کرو۔ حلم سنتِ اِلہِیّہ بھی ہے اور سنت ِ مُصْطَفَوِیَّہ بھی۔سُبْحَانَ اللہ، کیسے پاکیزہ اخلاق کی کیسی نفیس تعلیم دینِ اسلام میں دی گئی ہے۔ ذیل میں مسکینوں اور ما تحتوں کے بارے میں سیدُ المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تعلیمات ملاحظہ ہوں۔

(1)…حضرتِ اُمّ بُجَیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  فرماتی ہیں ، میں نے بارگاہِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ایک مسکین میرے دروازے پر آ کر کھڑ اہوتا ہے اور میرے پاس اس کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا (تو میں کیاکروں ) رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اگر تیرے پاس جلے ہوئے کُھر کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ ہی اسے دیدے۔  (ترمذی، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء فی حق السائل، ۲ / ۱۴۶، الحدیث: ۶۶۵)

(2)… حضرت ابو مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے۔ غلام نے کہا: میں اللہ تعالٰی  کی پناہ مانگتا ہوں۔ اور اسے مارنا شروع کر دیا۔ غلام نے کہا: میں اللہ کے رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی پناہ مانگتا ہوں۔ تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’خدا کی قسم! اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے جتنا تم اس پر قادر ہو۔ حضرت ابو مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے اس غلام کو آزاد کر دیا۔ (مسلم، کتاب الایمان والنذور، باب صحبۃ الممالیک۔۔۔ الخ، ص۹۰۵، الحدیث: ۳۶(۱۶۵۹))

(3)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مار رہا ہواور وہ اللہ تعالٰی کا واسطہ دے تو اس سے اپنے ہاتھ اٹھا لو۔(ترمذی، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء فی ادب الخادم، ۳ / ۳۸۲، الحدیث: ۱۹۵۷)

            اور نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنے خدمت گاروں سے کیساسلوک فرماتے تھے اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجئے، چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جب تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تو آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کوئی خادم نہیں رکھا ہواتھا (میرے سوتیلے والد) حضرت طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر بارگاہِ رسالت  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، انس سمجھدار لڑکا ہے اس لئے یہ آپ کی خدمت گزاری کا شرف حاصل کرے گا۔ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے (دس سال تک) سفر و حَضر میں حضور پُر نورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت کرنے کی سعادت حاصل کی، لیکن جو کام میں نے کیا اس کے بارے میں آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور جو کام میں نے نہ کیااس کے بارے میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ’’تم نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا؟(بخاری، کتاب الوصایا، باب استخدام الیتیم فی السفر والحضر۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۴۳، الحدیث: ۲۷۶۸)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًاؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۲۶۴)

ترجمۂ  کنزالایمان: اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے، تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اے ایمان والو! احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے برباد نہ کردو اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھلاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں لاتا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر ہوجس پر مٹی ہے تواس پر زورداربارش پڑی جس نے اسے صاف پتھر کر چھوڑا، ایسے لوگ اپنے کمائے ہوئے اعمال سے کسی چیز پر قدرت نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کوہدایت نہیں دیتا۔

{لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ: اپنے صدقے برباد نہ کردو۔} ارشاد فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! جس پرخرچ کرو اس پر احسان جتلا کر اور اسے تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے کا ثواب برباد نہ کردو کیونکہ جس طرح منافق آدمی لوگوں کو دکھانے کیلئے اور اپنی واہ واہ کروانے کیلئے مال خرچ کرتا ہے لیکن اس کا ثواب برباد ہوجاتا ہے اسی طرح فقیر پر احسان جتلانے والے اور اسے تکلیف دینے والے کا ثواب بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھو کہ  جیسے ایک چکنا پتھر ہو جس پر مٹی پڑی ہوئی ہو، اگراس پر زوردار بارش ہوجائے تو پتھر بالکل صاف ہوجاتا ہے اور اس پر مٹی کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ یہی حال منافق کے عمل کا ہے کہ دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ عمل ہے اور روزِ قیامت وہ تمام عمل باطل ہوں گے کیونکہ وہ رضائے الہٰی کے لیے نہ تھے یا یوں کہہ لیں کہمنافق کا دل گویا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن