30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(7)… یہ واقعات مرنے کے بعدزندہ کئے جانے کی بہت بڑی دلیل ہیں۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)
ترجمۂ کنزالایمان: ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کی طرح ہے جس نے سات بالیاں اگائیں ،ہر بالی میں سو دانے ہیں اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔
{مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ } راہِ خدا میں خرچ کرنے والوں کی فضیلت ایک مثال کے ذریعے بیان کی جارہی ہے کہ یہ ایسا ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں ایک دانہ بیج ڈالتا ہے جس سے سات بالیاں اُگتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانے پیدا ہوتے ہیں۔ گویا ایک دانہ بیج کے طور پر ڈالنے والاسات سو گنا زیادہ حاصل کرتا ہے ، اسی طرح جو شخص راہِ خدامیں خرچ کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے اس کے اخلاص کے اعتبار سے سات سو گنا زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے اور یہ بھی کوئی حد نہیں بلکہاللہ تعالٰی کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اور وہ کریم و جواد ہے جس کیلئے چاہے اسے اس سے بھی زیادہ ثواب عطا فرما دے چنانچہ کئی جگہ پر اس سے بھی زیادہ نیکیوں کی بشارت ہے جیسے پیدل حج کرنے پر بعض روایتوں کی رو سے ہر قدم پر سات کروڑ نیکیاں ملتی ہیں۔(مسند البزار، مسند ابن عباس رضی اللہ عنہما، طاوس عن ابن عباس، ۱۱ / ۵۲، الحدیث: ۴۷۴۵)
نیکی کی تمام صورتوں میں خرچ کرنا راہِ خدا میں خرچ کرنا ہے :
اس آیت میں خرچ کرنے کا مُطْلَقاً فرمایا گیا ہے خواہ خرچ کرنا واجب ہو یا نفل، نیکی کی تمام صورتوں میں خرچ کرنا شامل ہے خواہ وہ کسی غریب کو کھانا کھلانا ہو یا کسی کو کپڑے پہنانا، کسی غریب کو دوائی وغیرہ لے کر دینا ہو یا راشن دلانا، کسی طالب علم کو کتاب خرید کر دینا ہو یا کوئی شِفا خانہ بنانا یا فوت شدگان کے ایصالِ ثواب کیلئے فُقراء و مساکین کو تیجے، چالیسویں وغیرہ پر کھلادیا جائے۔
{اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ: دانے نے سات بالیاں اگائیں۔} یہاں فرمایا گیا کہ بیج کے طور پر ڈالے جانے والے دانے نے بالیاں اگائیں حالانکہ اگانے والاحقیقت میں اللہ تعالٰی ہی ہے، دانہ کی طرف اس کی نسبت مجازی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مجازی نسبت کرنا جائز ہے جب کہ یہ نسبت کرنے والا غیرِ خدا کو تَصَرُّف و اختیار میں مستقل نہ سمجھے۔ اسی لیے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ دوا نافع ہے اور یہ مضر ہے، یہ در دکی دافع ہے، ماں باپ نے پالا، عالم نے گمراہی سے بچایا، بزرگوں نے حاجت روائی کی وغیرہ۔ ان سب میں مجازی نسبت ہے اور مسلمان کے اعتقاد میں فاعلِ حقیقی صرف اللہ تعالٰی ہے باقی سب وسائل ہیں۔
نیک اعمال میں یکسانیت کے باوجود ثواب میں فرق ہوتا ہے:
نیز یہ بھی یاد رہے کہ نیک اعمال تویکساں ہوتے ہیں مگر ثواب میں بعض اوقات بہت فرق ہوتا ہے یا تواس لئے کہ اخلاص اور حسنِ نیت میں فرق ہوتا ہے یا حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نسبت کی وجہ سے تھوڑا عمل زیادہ ثواب کا باعث ہوتا ہے جیسا کہ حضورپرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا (اللہ تعالٰی کی راہ میں ) خرچ کرے تو اس کا ثواب میرے کسی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ایک مُد (ایک چھوٹی سی مقدار) بلکہ آدھا مُد خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔(بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی: لو کنت متخذاً خلیلاً، ۲ / ۵۲۲، الحدیث: ۳۶۷۳)
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔
ترجمۂ کنزالعرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
{اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔} شانِ نزول : یہ آیت حضرتِ عثمانِ غنی اور حضرتِ عبدالرحمٰن بن عو ف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے حق میں نازل ہوئی، حضرتِ عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر لشکرِ اسلام کے لئے ایک ہزار اونٹ بمع سازوسامان کے پیش کئے اور حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے چار ہزار درہم صدقہ کے طور پربارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں حاضر کئے اور عرض کیا کہ میرے پاس کل آٹھ ہزار درہم تھے، ان میں سے آدھے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے ر کھ لیے اور آدھے راہِ خدا میں پیش کردئیے ہیں۔ سرکارِدوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو تم نے دیئے اور جو تم نے رکھے اللہ تعالٰی دونوں میں برکت فرمائے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۲، ۱ / ۲۰۶)
{مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى: نہ احسان جتائیں اور نہ تکلیف دیں۔} صدقہ دینے کے بعداحسان جتلانا اور جسے صدقہ دیا اسے تکلیف دینا ناجائز و ممنوع ہے اور اس سے صدقے کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ آیت 264 میں فرمایا کہ احسان جتلا کر اور ایذاء دے کر اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔ احسان جتلانا تو یہ ہے کہ دینے کے بعد دوسروں کے سامنے اظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور یوں اس کا دل میلا کریں اور تکلیف دینا یہ ہے کہ اس کو عار دلائیں کہ تونادار تھا، مفلِس تھا، مجبور تھا، نکما تھا ہم نے تیری خبر گیری کی یا اور طرح اُس پر دباؤ ڈالیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۲، ۱ / ۲۰۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع