دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

سے کسی کو کچھ نہیں مل سکتا جب تک وہ نہ چاہے اور وہ عطا نہ فرمائے ۔ ذاتی علم اسی کا ہے اور اس کے دینے سے کسی کو عطائی علم ہوسکتا ہے جیسے وہ اپنی مَشِیَّت سے لوگوں کو اَسرار ِ کائنات پر اور انبیاء و رُسُلعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غیب پر مطلع فرماتا ہے ۔ اللہ تعالٰی کی عظمت بے نہایت ہے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۵،۱ / ۱۹۶)

                تنبیہ: اس آیت میں اِلہِیّات کے اعلیٰ مسائل کا بیان ہے، جتنا اس میں غور کرتے جائیں اللہ تعالٰی کی عظمت اور اس کے بارے میں عقائد اتنا ہی واضح ہوتے جائیں گے۔

آیتُ الکرسی کے فضائل:

            اس آیت کو آیتُ الکرسی کہتے ہیں ، احادیث میں اس کی بہت فضیلتیں بیان کی گئی ہیں ،ان میں سے 4 فضائل درج ذیل ہیں :

 (1)…آیتُ الکرسی قرآنِ مجید کی سب سے عظیم آیت ہے۔(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضل سورۃ الکہف وآیۃ الکرسی، ص۴۰۵، الحدیث: ۲۵۸(۸۱۰))

(2)…جوسوتے وقت آیتُ الکرسی پڑھے تو صبح تک اللہ تعالٰی اس کی حفاظت فرمائے گا اور شیطان اس کے قریب نہ آسکے گا۔(بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورۃ البقرۃ، ۳ / ۴۰۵، الحدیث: ۵۰۱۰)

(3،4)…نمازوں کے بعد آیتُ الکرسی پڑھنے پر جنت کی بشارت ہے۔ رات کو سوتے وقت پڑھنے پر اپنے اور پڑوسیوں کے گھروں کی حفاظت کی بشارت ہے۔(شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۵۸، الحدیث: ۲۳۹۵)

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ ﳜ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ-لَا انْفِصَامَ لَهَاؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۵۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑی مُحکَم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں اور اللہ  سنتا جانتا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: دین میں کوئی زبردستی نہیں ،بیشک ہدایت کی راہ گمراہی سے خوب جدا ہوگئی ہے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا جس سہارے کو کبھی کھلنا نہیں اوراللہ سننے والا، جاننے والاہے۔

{لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ: دین میں کوئی زبردستی نہیں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شیطان کا انکار کرے اور اللہ   تعالیٰٰ پر ایمان لائے تو اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا اور یہ ٹوٹنے والا نہیں اِلاّیہ کہ بندہ خود ہی اسے چھوڑ دے ۔

آیت ’’ لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:

(1)… صفاتِ اِلہِیَّہ کے بعد ’’ لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ‘‘ فرمانے میں یہ اشارہ ہے کہ اب عقلمند آدمی کے لیے قبولِ حق میں تاخیر کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔  کسی کافر کو جبراً مسلمان بنانا جائز نہیں مگر مسلمان کو جبراً مسلمان رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ دینِ اسلام کی توہین اور دوسروں کیلئے بغاوت کا راستہ ہے جسے بند کرنا ضروری ہے، لہٰذا کسی مسلمان کو مُرتَد ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی یا تو وہ اسلام لائے یا اسے قتل کیا جائے گا۔ اللہ  تعالٰی نے بنی اسرائیل کے مرتدین سے فرمایا تھا

’’فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ‘‘(بقرہ: ۵۴) ترجمۂ  کنزالعرفان: اپنے آپ کو قتل کے لئے پیش کر دو۔

(2)…اس آیت میں  ’’کفر ‘‘کا لفظ لغوی معنی میں ہے یعنی انکار کرنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے لئے ضروری ہے  کافرپہلے اپنے کفر سے توبہ کرے اور بیزار ہو، اس کے بعد ایمان لانا صحیح ہوتا ہے۔ اگر کوئی مرتد ہوجائے تو وہ بھی صرف کلمہ پڑھ لینے یا مسلمانوں والا کوئی دوسرا کام کرلینے سے مسلمان نہ ہوگا جب تک اپنے اس اِرتِداد سے توبہ نہ کرے۔

(3)…اس آیت میں طاغوت سے بچنے کا جو فرمایا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اسلام پر مضبوطی سے وہ ہی قائم رہ سکتا ہے جو بے دینوں کی صحبت، ان کی الفت ،ان کی کتابیں دیکھنے ،ان کے وعظ سننے سے دو رہے اور جو اپنے ایمان کی رسی پر خود ہی چھریاں چلائے گا اس کی رسی کا کٹنے سے بچنا مشکل ہے۔

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ- یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۲۵۷)

ترجمۂ  کنزالایمان: اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اللہ مسلمانوں کا والی ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں۔ یہی لوگ دوزخ والے ہیں ،یہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

{اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اللہ مسلمانوں کا والی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی مومنوں کا دوست ہے کہ انہیں کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے ایمان و ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے، انہیں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور صالحین کے طریقے کی طرف لاتا ہے جبکہ کافروں کا دوست شیطان ہے جو انہیں فطرت ِ صحیحہ کی روشنی سے کفر کی تاریکیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ حق کا راستہ ایک ہے اور باطل کے بہت سارے راستے ہیں ، اس لئے یہاں ’’نور‘‘ کو واحد اور ’’ ظلمات‘‘ کو جمع ذکر کیا گیا۔

نور کی طرف جانے کاسب سے بڑ اذریعہ:

            یاد رہے کہ مومنوں کے نور کی طرف جانے کاسب سے بڑا ذریعہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں چنانچہ سورۂ ابراہیم آیت نمبر 1میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی ’’ لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ‘‘ تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکالیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن