30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں ، (یہ حکم) اس کے لئے (ہے) جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے اور بچے کے باپ پر رواج کے مطابق عورتوں کے کھانے اور پہننے کی ذمہ داری ہے۔ کسی جان پر اتنا ہی بوجھ رکھا جائے گا جتنی اس کی طاقت ہو ۔ماں کو اس کی اولاد کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ تکلیف دی جائے اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی (حکم) ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ( دوسری عورتوں سے) اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر کوئی مضائقہ نہیں جب کہ جومعاوضہ دیناتم نے مقرر کیاہو وہ بھلائی کے ساتھ ادا کردو اور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
{وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ:اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔} طلاق کے بیان کے بعد یہ سوال طبعاًسامنے آتا ہے کہ اگر طلاق والی عورت کی گود میں شیر خوار بچہ ہو تو اس کی جدائی کے بعد اس کی پرورش کا کیا طریقہ ہوگا اس لیے حکمت کا تقاضا تھا کہ بچہ کی پرورش کے متعلق ماں باپ پر جو احکام ہیں وہ اس موقع پر بیان کر دیئے جائیں لہٰذا یہاں ان مسائل کا بیان ہوا۔ آیت کا خلاصہ اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ دوسال مکمل کرانے کا حکم اس کے لئے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے کیونکہ دو سال کے بعد بچے کو دودھ پلانا ناجائز ہوتا ہے اگرچہ اڑھائی سال تک دودھ پلانے سے حرمت ِ رضاعت ثابت ہوجاتی ہے اور اگر وہ میاں بیوی باہمی مشورے سے کسی اور سے بچے کو دودھ پلوانا چاہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں البتہ اس صورت میں دودھ پلانے والی عورت کو اس کی اجرت صحیح طریقے سے ادا کی جائے گی۔ ماں کو اس کی اولاد کی وجہ سے تکلیف نہ دی جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد سے تکلیف دی جائے۔ ماں کو ضَرر دینا یہ ہے کہ جس صورت میں اس پر دودھ پلانا ضروری نہیں اس میں اسے دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے اور باپ کو ضرر دینا یہ ہے کہ اس کی طاقت سے زیادہ اس پر ذمہ داری ڈالی جائے۔ یا آیت کا یہ معنیٰ ہے کہ نہ ماں بچے کو تکلیف دے اور نہ باپ۔ ماں کا بچے کو ضرر دینا یہ ہے کہ اس کو وقت پر دودھ نہ دے اور اس کی نگرانی نہ رکھے یا اپنے ساتھ مانوس کر لینے کے بعد چھوڑ دے اور باپ کا بچے کو ضرر دینا یہ ہے کہ مانوس بچہ کو ماں سے چھین لے یا ماں کے حق میں کوتاہی کرے جس سے بچہ کو نقصان پہنچے ۔یہاں یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ دودھ پلانے کے حوالے سے جو باپ کا قائم مقام ہے اس کا بھی یہی حکم ہے ۔
بچے کو دودھ پلانے کے متعلق چند احکام:
(1)…ماں خواہ مطلقہ ہو یا نہ ہواس پر اپنے بچے کو دودھ پلانا واجب ہے بشرطیکہ باپ کو اجرت پر دودھ پلوانے کی قدرت نہ ہویا کوئی دودھ پلانے والی میسر نہ آئے یابچہ ماں کے سوا اور کسی کا دودھ قبول نہ کرے اگر یہ باتیں نہ ہوں یعنی بچہ کی پرورش خاص ماں کے دودھ پر موقوف نہ ہو تو ماں پر دودھ پلانا واجب نہیں مستحب ہے۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۳۳، ۱ / ۲۸۳)
(2)… دودھ پلانے میں دو سال کی مدت کا پورا کرنا لازم نہیں۔ اگر بچہ کو ضرورت نہ رہے اور دودھ چھڑانے میں اس کے لیے خطرہ نہ ہو تو اس سے کم مدت میں بھی چھڑانا ، جائز ہے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۳۳، ۱ / ۱۷۳)
(3)… بچہ کی پرورش اور اس کو دودھ پلوانا باپ کے ذمہ واجب ہے اس کے لیے وہ دودھ پلانے والی مقرر کرے لیکن اگر ماں اپنی رغبت سے بچہ کو دودھ پلائے تو مستحب ہے۔
(4)…شوہر اپنی بیوی کو بچہ کے دودھ پلانے کے لیے مجبور نہیں کرسکتا اور نہ عورت شوہر سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت طلب کرسکتی ہے جب تک کہ اس کے نکاح یا عدت میں رہے۔
(5)… اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہواور عدت گزر چکی ہوتو وہ اس سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے۔
(6)…بچے کے اخراجات باپ کے ذمہ ہوں گے نہ کہ ماں کے ذمہ۔
آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بچے کا نسب باپ کی طرف شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے ’’مَوْلُوْدٌ‘‘ یعنی ’’بچے ‘‘کو ’’لَهٗ‘‘یعنی مذکر کی ضمیر کی طرف منسوب کرکے بیان فرمایا، لہٰذا اگر باپ سید ہواور ماں غیر سیدہو تو بچہ سید ہے اور اگر باپ غیر سید اور ماں سیدانی ہو تو بچہ غیر سید ہی شمار ہوگا۔
{وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ: اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی ہے۔} یعنی اگر باپ فوت ہوگیا ہو تو جو ذمہ داریاں باپ پر ہوتی ہیں وہ اب اُس کے قائم مقام پر ہو ں گی۔
وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۲۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو اے والیوتم پر مواخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اور تم میں سے جو مرجائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اوردس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب وہ اپنی(اختتامی) مدت کو پہنچ جائیں تو اے والیو! تم پر اس کام میں کوئی حرج نہیں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شریعت کے مطابق کرلیں اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
{وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ:اور تم میں سے جو مرجائیں۔} سورہ بقرہ آیت 229کی تفسیر میں عورتوں کی عدتوں کا بیان گزر چکا ہے۔ یہاں آیت میں فوت شدہ آدمی کی بیوی کی عدت کا بیان ہے کہ فوت شدہ کی بیوی کی عدت 4ماہ 10دن ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو ورنہ عورت 130دن پورے کرے گی۔(فتاوی رضویہ، ۱۳ / ۲۹۴-۲۹۵)
یہ بھی یاد رہے کہ یہ عدت غیر حاملہ کی ہے، اگر عورت کو حمل ہے تو اس کی عدت ہر صورت میں بچہ جننا ہی ہے۔
(1)…شوہر کی وفات کی یا طلاقِ بائن کی عدت گزارنے والی دورانِ عدت نہ گھر سے باہر نکل سکتی اورنہ بناؤ سنگھار کرسکتی ہے خواہ زیور سے کرے یا رنگین و ریشمی کپڑوں سے یا خوشبو ، تیل اور مہندی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع