دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

کی طرف رجوع کریں۔

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۪-وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْاۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ-وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا٘-وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠(۲۳۱)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو یا نکوئی  کے ساتھ چھوڑ دو اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور اللہکی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور و ہ جو تم پر کتاب و حکمت اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ اللہ  سب کچھ جانتا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اوروہ اپنی (عدت کی اختتامی) مدت (کے قریب) تک پہنچ جائیں تو اس وقت انہیں اچھے طریقے سے روک لو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انہیں نقصان پہنچانے کے لئے نہ روک رکھو تاکہ تم(ان پر) زیادتی کرو اور جو ایسا کرے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا مذاق نہ بنالو اور اپنے اوپر اللہ  کا احسان یاد کرو اور اس نے تم پر جو کتاب اور حکمت اتاری ہے (اسے یاد کرو) اس کے ذریعے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ اللہ  سب کچھ جاننے والا ہے۔

{وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو۔} یہ آیت ایک انصاری کے بارے میں نازل ہوئی، انہوں نے اپنی عورت کو طلاق دی تھی اور جب عدت ختم ہونے کے قریب ہوتی تھی تورجوع کرلیا کرتے تھے تاکہ عورت قید میں پڑی رہے۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی ۔(در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۳۱، ۱ / ۶۸۲)

             جس کا خلاصہ ہے کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو اوروہ اپنی عدت کی اختتامی مدت کے قریب پہنچ جائیں تو اس وقت انہیں اچھے طریقے سے روک لو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔ تمہیں رجوع کا اختیار تو دیا گیا ہے لیکن اس اختیار کو ظلم و زیادتی کا حیلہ نہ بناؤ کہ انہیں نقصان پہنچانے اورایذاء دینے کی نیت سے رجوع کرتے رہو۔ یہ فعل سراسر اللہ تعالٰی کی آیتوں کو ٹھٹھامذاق بنانے کے مُتَرادِف ہے کہ جیسے مذاق میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کی جاتی اسی طرح تم اللہتعالیٰٰ کی آیتوں کی پرواہ نہیں کرتے اور یہ بھی یاد رکھو کہ جو اس طرح کرتا ہے وہ اپنی جان پر ہی ظلم کرتا ہے کہ حکمِ الہٰی کی مخالفت کرکے گنہگار ہوتا ہے۔تمہیں تو اپنے اوپر اللہ تعالٰی کا احسان یادکرنا چاہیے کہ اس نے تمہیں اسلام کی دولت عطا کی اور سیدُالانبیاء  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا امتی بنایا ، تمہیں تمہاری عبادات، معاملات اور معاشرت کے طریقے سکھائے ، تمہیں تو اللہتعالیٰٰ کی عطا کردہ کتاب اور حکمت کو یاد کرنا چاہیے اور اللہ تعالٰی کی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے، زندگی کے تمام معاملات میں اللہتعالیٰٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے ۔ کائنات میں تمہارے اپنی بیویوں پر ظلم و ستم اور احکامِ شرعیہ کی مخالفت کو اور کوئی نہ بھی جانتا ہو لیکن اللہتعالیٰٰ توسب کچھ جاننے والا ہے، اس کی بارگاہ میں تو جواب دینا ہی پڑے گا۔سبحان اللہ، کتنی پیاری نصیحت ہے، کتنا پیارا بیان ہے۔ اللہ تعالٰی کرے کہ ہمارے گھروں کے معاملات بھی اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق ہوجائیں۔

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِؕ-ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۲۳۲)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ  اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی(عدت کی) مدت پوری ہوجائے تو اے عورتوں کے والیو! انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ آپس میں شریعت کے موافق رضا مند ہوجائیں۔یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ کام ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

{وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو۔} حضرت مَعْقِل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہن کا نکاح عاصم بن عدی کے ساتھ ہوا تھا انہوں نے ایک طلاق دیدی لیکن عدت گزرنے کے بعد پھر عاصم نے نکاح کی درخواست کی تو حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مانع ہوئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(بخاری ، کتاب النکاح، باب من قال لا نکاح الّا بولیّ، ۳ / ۴۴۲، الحدیث: ۵۱۳۰)

             آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی عورت کی عدت گزر جائے اور عدت کے بعد وہ عورت کسی سے نکاح کا ارادہ کرے خواہ وہ کوئی نیا آدمی ہو یا وہی ہو جس نے طلاق دی تھی تو اگر وہ مردو عورت باہم رضامند ہیں تو عورت کے سرپرستوں کو بلاوجہ منع کرنے کا حق نہیں۔ اس حکم کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ ہر اس آدمی کو نصیحت کی جارہی ہے جو اللہ تعالٰی اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ مزید فرمایا کہ اس حکم پر عمل کرنا تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی و طہارت کا باعث ہے کیونکہ بعض اوقات سابقہ تعلقات کی وجہ سے عورتیں غلط قدم بھی اٹھالیتی ہیں جو بعد میں سب کیلئے پریشانی کا باعث بنتا ہے ،اس لئے عورتوں کو مزید نکاح سے بلاوجہ منع نہ کرو۔ تمہاری حقیقی حکمت و مصلحت کو تم نہیں جانتے ،اللہ تعالٰی جانتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ اگر عورت غیر کُفو میں بغیر اجازتِ ولی نکاح کرے تو وہاں اولیاء کا حق ہوتا ہے۔ تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ 7میں ’’کفو کا بیان ‘‘ مطالعہ کریں۔

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَؕ-وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَاۚ-لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖۗ-وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَۚ-فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاؕ-وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَاسلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۳۳)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہے اور جس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو اور جو باپ کا قائم مقام

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن