30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دنوں میں عورتوں سے ملاپ میں بہت زیادہ مبالغہ کرتے تھے۔ مسلمانوں نے حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے حیض کا حکم دریافت کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۳، ۲ / ۶۴، الجزء الثالث)
اور اِفراط و تفریط کی راہیں چھوڑ کر اعتدال کی تعلیم فرمائی گئی اور بتادیا گیا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے ہم بستری کرنا حرام ہے۔ اور چونکہ یہ قرآن کی واضح آیت سے ثابت ہے لہٰذا ایسی حالت میں جماع جائز جاننا کفر ہے اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سخت گنہگار ہوا اس پر توبہ فرض ہے۔(بہار شریعت، حصہ دوم، نفاس کا بیان، ۱ / ۳۸۲)
یونہی ناف سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک کی جگہ سے لذت حاصل کرنا منع ہے۔(رد المحتار، کتاب الطہارۃ، ۱ / ۵۳۴)
بقیہ ان سے گفتگو کرنا، ان کے ساتھ کھانا پینا حتّٰی کہ ان کا جوٹھا کھانا بھی جائز ہے ،گناہ نہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرنا حرام ہے کیونکہ وہ بھی گندگی کا مقام ہے۔
{فَاِذَا تَطَهَّرْنَ: پھر جب خوب پاک ہوجائیں۔} خوب پاک ہونے سے مراد ایامِ حیض ختم ہونے کے بعد غسل کر لینا ہے۔
(1)…حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔
(2)…حیض کے دنوں میں عورت کیلئے تلاوتِ قرآن، نماز، روزہ، مسجد میں داخلہ، قرآن کو چھونا اور خانہ کعبہ کا طواف حرام ہوجاتاہے۔
(3)…ذکرودرود وغیرہ میں کوئی حرج نہیں البتہ اس کیلئے وضو کرلینا مستحب ہے۔
(4) …ایامِ حیض کے روزوں کی قضا عورت پر لازم ہے جبکہ نمازیں معاف ہیں۔مزید تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ 2کا مطالعہ فرمائیں۔
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۪-فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ٘-وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان: تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں ، تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہواور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو۔
ترجمۂ کنزالعرفان: تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہوآؤ اور اپنے فائدے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہواور اے حبیب ! ایمان والوں کوبشارت دو۔
{نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ:تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں۔}عورتوں سے متعلق فرمایا کہ وہ تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی عورتوں کی قربت سے نسل حاصل کرنے کا ارادہ کرو ،نہ کہ صرف اپنی خواہش پوری کرنے کا۔ نیز عورت سے ہر طرح ہم بستری جائز ہے لیٹ کر، بیٹھ کر ، کھڑے کھڑے ، بشرطیکہ صحبت اگلے مقام میں ہو کیونکہ یہی راستہ کھیتی یعنی اولاد کا ثمرہ حاصل کرنے کا ہے۔
{وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ:اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو۔} اس سے مراد ہے کہ اعمال صالحہ کرویا جماع سے قبل بسم اللہ پڑھو نیز بیویوں میں مشغول ہو کر عبادات سے غافل نہ ہو جاؤ۔
اولاد کوشیطان سے محفوظ رکھنے کی دعا:
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے ،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے تو کہے:
’’بِسْمِ اللہِ اَللّٰہُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ‘‘
اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ!عَزَّوَجَلَّ، ہمیں شیطان سے محفوظ رکھنا اور اس کو بھی شیطان سے محفوظ رکھنا جو تو ہمیں عطا فرمائے۔
پس (یہ دعا پڑھنے کے بعد صحبت کرنے سے) جو بچہ انہیں ملا اسے شیطان نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔(بخاری، کتاب الوضو ء، باب التسمیۃ علی کلّ حال وعند الوقاع، ۱ / ۷۳، الحدیث: ۱۴۱)
وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۲۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کو اپنی قَسَموں کا نشانہ نہ بنالو کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اور اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ کے نام کو احسان کرنے اور پرہیزگاری اختیارکرنے او ر لوگوں میں صلح کرانے میں آڑنہ بنالواور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
{وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ: اور اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ کے نام کو آڑنہ بنالو۔} حضرت عبد اللہبن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے قسم کھائی تھی کہ میں اپنے بہنوئی حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے نہ کلام کروں گا نہ ان کے گھر جاؤں گا اورنہ ان کے مخالفین سے ان کی صلح کراؤں گا۔ جب اس کے متعلق ان سے کہا جاتا تو وہ کہتے کہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لیے یہ کام کر ہی نہیں سکتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۴، ۱ / ۱۶۴)
اور نیک کام نہ کرنے کی قسم کھانے سے منع کردیا گیا۔
نیکی سے باز رہنے کی قسم کھانے والے کو کیا کرنا چاہئے:
یہاں ایک اہم مسئلہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی شخص نیکی سے باز رہنے کی قسم کھالے تو اس کو چاہیے کہ قسم کو پورا نہ کرےبلکہ وہ نیک کام کرے اور قسم کا کفارہ دے ۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: جس شخص نے کسی امر پر قسم کھالی پھر معلوم ہوا کہ خیر اور بہتری اس کے خلاف میں ہے تو چاہیے کہ اس امرِ خیر کو کرلے اور قسم کا کفارہ دے۔(مسلم، کتاب الایمان، باب ندب من حلف یمینًا۔۔۔ الخ، ص ۸۹۸، الحدیث: ۱۲(۱۶۵۰))
یہی حکم سورۂ نور آیت نمبر 22میں بھی مذکور ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع