دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

ہو۔ دوسری خصلت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی میں نے کبھی بت کی پوجا نہیں کی کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ پتھر ہے نہ نفع دے سکے نہ نقصان۔ تیسری خصلت یہ ہے کہ میں کبھی زنا میں مبتلا نہ ہوا کیونکہ میں اس کو بے غیرتی سمجھتا تھا۔ چوتھی خصلت یہ تھی کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ میں اس کو کمینہ پن خیال کرتاتھا۔ (تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۹، ص۱۰۱ملتقطاً)

             سبحان اللہ، کیاسلیم الفِطرت تھے۔ حضرت علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ اگر شراب کا ایک قطرہ کنویں میں گر جائے پھر اس جگہ منارہ بنایا جائے تو میں اس پر اذان نہ کہوں گااور اگر دریا میں شراب کا قطرہ پڑ جائے پھر دریا خشک ہوجائے اور وہاں گھاس پیدا ہو تومیں اس میں اپنے جانوروں کو نہ چراؤں گا۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۹، ص۱۱۳)

            سبحان اللہ! گناہ سے کس قدر نفرت ہے۔ ’’اللہ تعالٰی ہمیں ان کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔  

جوئے کے متعلق احکام:

(1)…جوا کھیلنا حرام ہے۔

(2)…جوا، ہر ایسا کھیل ہے جس میں اپنا کل یا بعض مال چلے جانے کا اندیشہ ہو یا مزید مل جانے کی امید ہو۔

(3) …شطرنج تاش ، لڈو، کیرم، بلیئرڈ، کرکٹ وغیرہ ہار جیت کے کھیل جن پر بازی لگائی جائے سب جوئے میں داخل اور حرام ہیں۔یونہی کرکٹ وغیرہ میں میچ یا ایک ایک اوور یا ایک ایک بال پر جو رقم لگائی جاتی ہے یہ جوا ہے، یونہی گھروں یا دفتروں میں چھوٹی موٹی باتوں پر جو اس طرح کی شرطیں لگتی ہیں کہ اگر میری بات درست نکلی تو تم کھانا کھلاؤ گے اور اگر تمہاری بات سچ نکلی تو میں کھانا کھلاؤں گا یہ سب جوئے میں داخل ہیں۔ یونہی لاٹری وغیرہ جوئے میں داخل ہے۔ آج کل موبائل پرکمپنی کو میسج کرنے پر ایک مخصوص رقم کٹتی ہے اور اس پر بھی انعامات رکھے جاتے ہیں یہ سب جوئے میں داخل ہیں۔

{وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ: آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟} تفسیر خازن میں ہے کہ سرکارِدوعالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے مسلمانوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی تو صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: صدقہ کی مقدار ارشاد فرمادیں کہ کتنا مال راہِ خدا میں دیا جائے،اس پر یہ آیت نازل ہوئی (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۹، ۱ / ۱۵۹)

            اور فرمایا گیا کہ جتنا تمہاری حاجت سے زائد ہو ۔ ابتدائے اسلام میں حاجت سے زائد مال خرچ کرنے کا حکم دیا گیا، صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم اپنے مال میں سے اپنی ضرورت کی مقدار لے کر باقی سب راہ خدا میں تصدُّق کردیتے تھے۔یہ حکم اگر بطورِ فرض کے تھا تو زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے منسوخ ہوگیا اور اگر نفلی حکم تھا تو آج بھی مستحب طور پر باقی ہے۔

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰىؕ-قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌؕ-وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۲۲۰)

ترجمۂ  کنزالایمان:دنیاو آخرت کے کام سوچ کر کرو اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ  زبردست حکمت والا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: دنیااور آخرت کے کاموں میں (غوروفکر کرلیاکرو) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں۔تم فرماؤ: ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر ان کے ساتھ اپنا خرچہ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے جداخوب جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا۔ بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

{فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ: دنیا و آخرت کے کاموں میں۔} اس حصے کا تعلق پچھلی آیت کے آخری جملے سے ہے اور اس کا معنٰی یہ بنے گا ’’ تا کہ تم دنیا و آخرت کے معاملے میں غور و فکر کرو۔ یعنی جتنا تمہاری دنیوی ضرورت کے لیے کافی ہو وہ لے کر باقی سب مال اپنی آخرت کے نفع کے لیے خیرات کردو ۔ اس سے جداگانہ بھی دنیا و آخرت کے کام سوچ سمجھ کر ہی کرنے چاہئیں۔

{ وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى: اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں۔} جب یہ آیت: اِنَّ  الَّذِیْنَ  یَاْكُلُوْنَ  اَمْوَالَ  الْیَتٰمٰى  ظُلْمًا (النساء: ۱۰) نازل ہوئی کہ یتیموں کا مال کھانے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرنے والا ہے تو لوگوں نے یتیموں کے مال جدا کر دیئے اور ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا اس میں یہ صورتیں بھی پیش آئیں کہ جو کھانا یتیم کے لیے پکایاجاتا اس میں سے کچھ بچ جاتا اور خراب ہوجاتا اور کسی کے کام نہ آتا، اس میں یتیموں کا نقصان ہونے لگا۔ یہ صورتیں دیکھ کر حضرت عبداللہ  بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور سید المرسلین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کی کہ اگر یتیم کے مال کی حفاظت کی نیت سے اس کا کھانا اس کے سرپرست اپنے کھانے کے ساتھ ملالیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یتیموں کے فائدے کے لیے ملانے کی اجازت دی گئی۔(ابو داود، کتاب الوصایا، باب مخالطۃ الیتیم فی الطعام، ۳ / ۱۵۷، الحدیث: ۲۸۷۱، تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۰، ۲ / ۴۰۴)

لیکن ساتھ ہی تنبیہ فرمادی کہ تمہیں یتیموں کے فائدے کیلئے مال ملانے کی اجازت تو دیدی گئی ہے لیکن کون اچھی نیت سے یتیموں کا مال ملاتا ہے اور کس کی نیت میں فساد ہوتا ہے یہ اللہ  تعالٰی بہتر جانتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ ظاہراً تو یتیموں کا فائدہ کررہے ہواور حقیقت میں ان کا مال ہڑپ کرنے کا ارادہ ہو۔آیت مبارکہ کا یہ حصہ’’وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ‘‘  کہ اللہ  تعالٰی اصلاح کی نیت والے اور فساد کی نیت والے دونوں کو جانتا ہے،یہ فرمان نہایت جامع ہے اور زندگی کے ہزاروں شعبوں کے لاکھوں معاملات میں رہنمائی کیلئے کافی ہے جہاں ایک ہی چیز میں اچھی اور بری دونوں نیتیں ہوسکتی ہیں وہاں دوسرے لوگ اگرچہ بری نیت کو نہ جانتے ہوں لیکن اللہ تعالٰی تو جانتا ہے۔

یتیموں سے متعلق 2 احکام:

(1)…یتیم وہ نابالغ بچہ یا بچی ہے جس کا باپ فوت ہو گیا ہو، اگر اس کے پاس مال ہواور اپنے کسی ولی کی پرورش میں ہواس کے احکام اس آیت میں مذکور ہیں کہ ولی خواہ اس یتیم کا مال اپنے مال سے ملا کر اس پر خرچ کرے یا علیحدہ رکھ کر جس میں یتیم کی بہتری ہو وہ کرسکتا ہے لیکن ملانا خراب نیت سے نہیں ہونا چاہیے۔

(2)…اگرچہ اس آیت کا نزول یتیموں کی مالی اصلاح کے بارے میں ہوا مگر اصلاح کے لفظ میں ساری مصلحتیں داخل ہیں۔ یتیموں کے اخلاق، اعمال ،تربیت، تعلیم سب کی اصلاح کرنی چاہیے ۔ یوں سمجھیں کہ یتیم ساری مسلم قوم کیلئے اولاد کی طرح ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن