30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً:تمام لوگ ایک دین پر تھے۔} حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے عہد تک سب لوگ ایک دین اور ایک شریعت پر تھے، پھر ان میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالٰی نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مبعوث فرمایا ،یہ بعثت میں پہلے رسول ہیں،(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۳، ۱ / ۱۵۰)
رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاسلسلہ شروع ہوا ۔ نیز لوگوں کی ہدایت کیلئے بہت سے انبیاء اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کتابیں اور صحیفے عطا کئے گئے جیسے حضرت آدم ،حضرت شیث اور حضرت ادریس عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر صحیفے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر توریت ،حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر زبور، حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر انجیل اور خاتَم الانبیاء محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر قرآن نازل فرمایا۔انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ہدایات آجانے کے بعد بھی لوگوں نے اختلاف کیا جیسے یہودونصاریٰ نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا اور آپس کے حسد کی وجہ سے کتاب اللہ کو بھی مشقِ ستم بنانے سے باز نہ آئے۔یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو حضور پرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ذریعے حق کی ہدایت فرمائی چنانچہ یہودو نصاریٰ کو جن باتوں میں اختلاف تھا ان میں جو حق تھا اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو وہ سمجھادیا۔
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ(۲۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد نہ آئی، پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پرپہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔
{اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ : کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔} یہ آیت غزوۂ احزاب کے متعلق نازل ہوئی جہاں مسلمانوں کو سردی اور بھوک وغیرہ کی سخت تکلیفیں پہنچی تھیں۔(قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۵، ۲ / ۲۷، الجزء الثالث)
اس میں انہیں صبر کی تلقین فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ راہِ خدا میں تکالیف برداشت کرنا ہمیشہ سے خاصانِ خدا کا معمول رہا ہے۔ ابھی تو تمہیں پہلوں کی سی تکلیفیں پہنچی بھی نہیں ہیں۔بخاری شریف میں حضرت خَبّاب بن ارت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَخانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر مبارک سے تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما تھے ،ہم نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کی کہ یارسول اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، ہمارے لیے کیوں دعا نہیں فرماتے؟ ہماری کیوں مدد نہیں کرتے؟ ارشادفرمایا: تم سے پہلے لوگ گرفتار کیے جاتے تھے، زمین میں گڑھا کھود کر اس میں دبائے جاتے تھے،آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کرڈالے جاتے تھے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت نوچے جاتے تھے لیکن ان میں سے کوئی مصیبت انہیں ان کے دین سے روک نہ سکتی تھی۔(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲ / ۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۲)
{وَ زُلْزِلُوْا: اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا۔} سابقہ امتوں کی تکلیف و شدت اس انتہاء کو پہنچ گئی کہ فرمانبردار مومن بھی مدد طلب کرنے میں جلدی کرنے لگے اور اللہ کے رسولوں نے بھی اپنی امت کے اصرار پر فریاد کی حالانکہ رسول بڑے صابر ہوتے ہیں اور ان کے اصحاب بھی لیکن باوجود ان انتہائی مصیبتوں کے وہ لوگ اپنے دین پر قائم رہے اور کوئی مصیبت ان کے حال کو مُتغَیّر نہ کرسکی چنانچہ ان کی فریاد پر بارگاہِ الہٰی سے جواب ملا کہ سن لو، بیشک اللہ تعالٰی کی مدد قریب ہے ، اس جواب سے انہیں تسلی دی گئی اور یہی تسلی حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو دی گئی۔ اس آیت اور تفسیر میں مبلغین کیلئے اور نئے مسلمان ہونے والوں کے لئے اور نئے نئے کسی نیکی کے ماحول اپنانے والوں کیلئے تسلی اور بشارت ہے کہ وہ صبرواستقامت کے ساتھ اپنی تبلیغ، دین اور نیکی پر چلتے رہیں۔
یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَؕ-قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ(۲۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان: تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں ، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کروتو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کروبیشک اللہ اسے جانتا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: آپ سے سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں ؟تم فرماؤ: جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافر کے لئے ہے اور تم جو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے۔
{یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ: آپ سے سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں ؟۔} یہ آیت حضرت عمرو بن جموح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جواب میں نازل ہوئی جو بوڑھے شخص تھے اور بڑے مالدار تھے، انہوں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے سوال کیا تھا کہ کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں ؟ اس آیت میں انہیں بتادیا گیا (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۵، ۱ / ۱۵۲)
کہ جس قسم کا اور جس قدر مال قلیل یا کثیرخرچ کرو اس میں ثواب ہے اور خرچ کرنے کی جگہیں یہ ہیں یعنی والدین، رشتے دار، یتیم، مسکین اور مسافر۔ یہاں دو مسائل ذہن نشین رکھیں :
(۱)…اس آیت میں صدقہ نافلہ کا بیان ہے۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۵،۱ / ۲۵۶)
(۲)…ماں باپ کو زکوٰۃ اور صدقات واجبہ دینا جائز نہیں۔(رد المحتار، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ۳ / ۳۴۴)
كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠(۲۱۶)
ترجمۂ کنزالایمان: تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہواور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع