دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

ترجمۂ  کنزالایمان: کاہے کے انتظار میں ہیں مگر یہی کہ اللہ  کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: لوگ تواسی چیز کا انتظار کررہے ہیں کہ بادلوں کے سایوں میں ان کے پاس اللہ کا عذاب اور فرشتے آجائیں اور فیصلہ کردیا جائے اوراللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔

{هَلْ یَنْظُرُوْنَ: کس چیز کا انتظار کرتے ہیں۔} فرمایاجارہا ہے کہ دینِ اسلام چھوڑنے اور شیطان کی فرمانبرداری کرنے والے کس چیز کا انتظار کررہے ہیں؟ کیا اس کا کہ اللہ  تعالٰی کا عذاب اور عذاب کے فرشتے اتر آئیں اور ان کا قصہ تمام کردیا جائے۔

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍؕ-وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۱۱)

ترجمۂ  کنزالایمان: بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں اور جو اللہ کی نعمت کواپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

{ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ: ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں۔} فرمایا گیا کہ بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں عطا فرمائیں ، ان کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے معجزات کو ان کی نبوت کی صداقت کی دلیل بنایا، ان کے ارشاد اور ان کی کتابوں کو دین اسلام کی حقانیت کا گواہ بنایا۔یاد رہے کہ یہ پوچھنا حقیقت میں انہیں قائل کرنے اور شرمندہ کرنے کے لئے ہے اور ان کی اپنی نافرمانیوں کے باوجود اللہ تعالٰی کی مہربانیوں کا اقرار کرانے کے لئے ہے۔

{وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ: اور جو اللہ کی نعمت کو بدل دے۔} اللہ تعالٰی کی نعمت سے آیات الہٰیہ مراد ہیں جو ہدایت کاسبب ہیں اوران کی بدولت گمراہی سے نجات حاصل ہوتی ہے انہیں میں سے وہ آیات ہیں جن میں سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت اور حضور پر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہود و نصاریٰ کا اپنی کتابوں میں تحریف کرنا اس نعمت کو تبدیل کرناہے۔

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۘ-وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۲۱۲)

ترجمۂ  کنزالایمان: کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی کو خوشنما بنادیا گیا اور وہ مسلمانوں پرہنستے ہیں اور (اللہ سے) ڈرنےوالے قیامت کے دن ان کافروں سے اوپر ہوں گے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔

{زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا: کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی کو خوشنما بنادیا گیا۔} کافروں کیلئے دنیا کی زندگی آراستہ کردی گئی یعنی انہیں یہی زندگی پسند ہے، وہ اسی کی قدر کرتے اور اسی پر مرتے ہیں۔دنیا کی زندگی وہ ہے جو نفس کی خواہشات میں صرف ہواور جو توشہ آخرت جمع کرنے میں خرچ ہو وہ بفضلہ تعالیٰٰ دینی زندگی ہے۔ اس آیت میں وہ لوگ داخل ہیں جو آخرت سے غافل ہیں۔

{وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اور وہ مسلمانوں پرہنستے ہیں۔} کفار غریب مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور دنیاوی سازو سامان سے ان کی بے رغبتی دیکھ کر ان کی تحقیر کرتے تھے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ،حضرت عمار بن یاسر، حضرت صہیب اور حضرت بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمکو دیکھ کر کفار مذاق اڑایا کرتے تھے اور دولت ِدنیا کے غرور میں اپنے آپ کو اونچاسمجھتے تھے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۲، ۱ / ۱۵۰)

            ان کے متعلق فرمایا کہ قیامت کے دن ایماندار اِن کافروں سے بلندو بالا ہوں گے کیونکہ بروزِ قیامت مومنین قرب ِ الہٰی میں ہوں گے اور کفار جہنم میں ذلیل و خوارہوں گے ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غریب مسلمانوں کا مذاق اڑانایا کسی مومن کو ذلیل یا کمینہ جاننا کافروں کا طریقہ ہے۔فاسق و کافر اگرچہ مالدار ہو ذلیل ہے اور مومن اگرچہ غریب ہو ، کسی بھی قوم سے ہو عزت والا ہے بشرطیکہ متقی ہو۔

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً- فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ۪-وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِؕ-وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْۚ-فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖؕ-وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۲۱۳)

ترجمۂ  کنزالایمان: لوگ ایک دین پر تھے پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف انہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے آپس کی سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: تمام لوگ ایک دین پر تھے تو اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے ہوئے اور ڈر سناتے ہوئے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلافات میں فیصلہ کردے اورجن لوگوں کو کتاب دی گئی انہوں نے ہی اپنے باہمی بغض و حسد کی وجہ سے کتاب میں اختلاف کیا (یہ اختلاف )اس کے بعد(کیا) کہ ان کے پاس روشن احکام آچکے تھے تو اللہ نے ایمان والوں کو اپنے حکم سے اُس حق بات کی ہدایت دی جس میں لوگ جھگڑ رہے تھے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن