30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو؟ ہرگز نہیں۔ یقیناً یہ صرف اسلام ہی ہے۔
وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ﳝ- وَ اَحْسِنُوْاۚۛ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۹۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خودکو ہلاکت میں نہ ڈالو اورنیکی کرو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتاہے۔
{وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔} راہِ خدا میں خرچ کرنے کا اصل حکم تو مال کے حوالے سے ہے لیکن علامہ صاوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس کے معنیٰ کی مزید وسعت کو بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی فرمانبرداری اوراس کی رضا کے کاموں میں اپنے جان و مال کو صرف کرو خواہ جہاد ہو یا رشتے داروں سے حسنِ سلوک یا اللہ تعالٰی کے کمزور اور غریب بندوں کی مددکی صور ت میں ہو۔ (صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۱ / ۱۶۳)
{وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ: اور اپنے ہاتھوں خودکو ہلاکت میں نہ ڈالو۔} خود کو ہلاکت میں ڈالنے کی بہت سی صورتیں ہیں :
(1)…صحیح بخاری میں ہے’’یہ آیت خرچ کرنے سے متعلق نازل ہوئی۔(بخاری، کتاب التفسیر، باب وانفقوا فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ، ۳ / ۱۷۸، الحدیث: ۴۵۱۶)
یعنی راہ ِ خدا میں خرچ کرنا بند کرکے یا کم کرکے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
(2)… حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’یہ آیت ہم انصار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے بارے میں نازل ہوئی، جب اللہ تعالٰی نے اسلام کو غلبہ عطا فرما دیا اور اس کے مددگار کثیر ہوگئے تو ہم میں سے بعض نے بعض سے سرگوشی کرتے ہوئے کہا: (جہاد کی مصروفیت میں ) ہمارے مال ضائع ہو گئے لہٰذااب اللہ تعالٰی نے اسلام کو غلبہ عطا فرما دیا ہے تو (کیا ہی اچھا ہو کہ)اگر ہم اپنے اموال میں ٹھہریں اور جو ضائع ہوا اس کی درستی کرلیں ، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور جو ہم نے کہا اس کا رد فرمایا کہ ہلاکت توجہاد چھوڑکر اپنے اموال کی درستی میں لگ جانا ہے۔ (ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ البقرۃ، ۴ / ۴۵۴، الحدیث: ۲۹۸۳)
(3)… انصار جتنا اللہ تعالٰی توفیق دیتا صدقہ و خیرات کرتے رہتے ۔ ایک سال انہیں تنگدستی کاسامنا ہوا تو انہوں نے یہ عمل روک دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴ / ۱۸۹، الحدیث: ۵۶۷۱)
(4)… حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ کوئی شخص گناہ کرتا اور کہتا میری بخشش نہ ہو گی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴ / ۱۸۹، الحدیث: ۵۶۷۲)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ راہِ خدا میں خرچ کرنے کو ترک کرنا بھی ہلاکت کاسبب ہے، فضول خرچی بھی ہلاکت ہے، جہاد ترک کرنا بھی ہلاکت ہے یونہی اس طرح کی ہر وہ چیز جو ہلاکت کا باعث ہوان سب سے باز رہنے کا حکم ہے حتّٰی کہ بے ہتھیار میدان جنگ میں جانایا زہر کھانا یا کسی طرح خود کشی کرناسب حرام ہے۔چونکہ خودکشی خود کو ہلاک کرنے کی نہایت ہی نمایاں صورت ہے لہٰذا یہاں اس کی وعید بیان کی جاتی ہے، چنانچہ خود کشی کے بارے میں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے پہاڑ سے گر کر خود کشی کی وہ مسلسل جہنم میں گرتا رہے گا اور جس نے زہر کھا کر خود کشی کی ( قیامت کے دن) وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں اسے ہمیشہ کھاتا رہے گا اورجس نے چھری کے ذریعے خود کو قتل کیا ، (قیامت کے دن) وہ چھری اس کے ہاتھ میں ہو گی اور دوزخ کی آگ میں ہمیشہ وہ چھری اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔(بخاری، کتاب الطب، باب شرب السمّ والدواء بہ۔۔۔ الخ، ۴ / ۴۳، الحدیث: ۵۷۷۸)
وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ-فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ-وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗؕ-فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍۚ- فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْٙ-فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْؕ-تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠(۱۹۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو پھر اگر تم روکے جاؤ تو قربانی بھیجو جو میسر آئے اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے تو بدلہ دے روزے یا خیرات یا قربانی پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہواور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو پھر اگر تمہیں (مکہ سے) روک دیا جائے تو (حرم میں ) قربانی کا جانور بھیجو جو میسر آئے اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے تو روزے یا خیرات یا قربانی کا فدیہ دے پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے اس پر قربانی لازم ہے جیسی میسر ہو پھر جو (قربانی کی قدرت) نہ پائے تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے (اس وقت رکھو) جب تم اپنے گھر لوٹ کر جاؤ، یہ مکمل دس ہیں۔یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہواور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔
{وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ:اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو۔}آیت میں مراد یہ ہے کہ حج و عمرہ دونوں کو ان کے فرائض و شرائط کے ساتھ خاص اللہ تعالٰی کے لیے بغیر سستی اور کوتاہی کے مکمل کرو۔
حج کی تعریف اور حج و عمرہ کے چند احکام:
حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذی الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اور کعبہ معظمہ کے طواف کا ۔اس کے لیے خاص وقت مقرر ہے جس میں یہ افعال کئے جائیں تو حج ہے ۔ حج 9ہجری میں فرض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع