30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شریف میرے سر پر سجادیا اور استقامت کی دعاؤں سے نوازا۔ اس کے بعد دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں شرکت اور مدنی قافلوں میں سفر کی برکت سے رفتہ رفتہ میں مدنی ماحول میں رنگتا چلاگیا بارہ دن اور تین تین دن کے مدنی قافلوں میں سفر کی سعادتیں پانے لگا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل، رسولِ اکرم عَلَیہِ السَّلام کے لطف وکرم اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نظر فیضِ اثر کی بدولت میں نے مدنی حلیہ اپنا لیا۔ اب سر پر سبز سبز عمامہ شریف، چہرے پر داڑھی شریف اور بدن پر سفید مدنی لباس اپنی بہاریں لٹا رہا ہے۔ تادمِ تحریر اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ حلقہ مشاورت میں شعبہ تعلیم اور تعویذاتِ عطاریہ کے ذمہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہوں۔ امیرِ اہلسنّت کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے وصیت نامہ لکھ کر دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران کو جمع کروا دیا ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے گھر میں بھی کافی حد تک مدنی ماحول بن چکا ہے۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{5} فلموں کاجنونی
ضیا کوٹ (سیالکوٹ، پنجاب) کے علاقے مدینہ ٹاؤن رشیدکالونی کے رہائش پذیر اسلامی بھائی نے اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کے اسباب کچھ یوں بیان فرمائے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ ماں باپ کا اکلوتا تھا، ان کے لاڈ پیار کی وجہ سے میں بہت بگڑ گیا۔ برے دوستوں کی صحبت میں رہ کر آوارہ گردی کرتا۔ کرکٹ دیکھنے اور کھیلنے کا بے حد شوقین تھا۔ فلمیں دیکھنے کا تو جنون کی حد تک شوق تھا، جب بھی کوئی نئی فلم آتی اس کی اسٹوری کوئی دوست سنانے لگتا تو نہ سنتا بلکہ وہی فلم دیکھنے سنیما گھر پہنچ جاتا۔ اسی وجہ سے میری زندگی کے انمول ہیرے سنیما گھر کی زینت بننے میں ہی صرف ہوتے۔ میری اس جنونی حالت کو دیکھ کر میرے دوست کہتے تھے کہ یہ تو سنیما گھر میں ہی مرے گا۔ میرے اس پاگل پن کی یہی حد نہیں تھی بلکہ بعض اوقات اپنے اس شوق بد کی خاطر فلموں کی شوٹنگ دیکھنے بھی پہنچ جاتا۔ گانوں کا اس قدر رَسیا (شوقین) تھا کہ جونئی فلم دیکھتا جب تک اس کے گانوں کی کیسٹ لے نہ لیتا گھر نہ آتا۔ میری گناہوں بھری زندگی میں مدنی انقلاب کچھ اس طرح برپا ہوا کہ ایک سبز عمامے والے اسلامی بھائی نے مجھے شبِ معراج کے سلسلے میں دعوتِ اسلامی کے اجتماعِ ذکر و نعت میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے یہ سوچ کر ہاں کر دی کہ چلو وہاں شرارتوں اور ٹھٹھہ مسخری میں وقت پاس ہو جائے گا۔ چنانچہ یہی غرضِ فاسد لئے میں اپنے چند دوستوں کوساتھ لے کر کینٹ کی حنفیہ غوثیہ مسجد میں جا پہنچا۔ اسی مسجد میں دعوتِ اسلامی کے تحت شبِ معراج کے اجتماعِ ذکر و نعت کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اجتماع میں نعت خوانی کا سلسلہ جاری تھا۔ ایسی مقدس رات کہ جس میں ہمارے پیارے آقا و مولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ملاقات و دیدارِ الٰہی کا شرف ملا کے تقدس کا خیال کیے بغیر ہم سب دوست شیطان کے ہاتھوں کھلونا بنے اونچی اونچی آوازیں نکال کر نعت خوانی میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع