30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصطفی کارنگ چڑھنے لگا۔ رقت انگیز دعا کے دوران میں نے بد مذہبیت سے توبہ کی اور اسی اجتماع میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کے دستِ بابرکت پر بیعت ہو کر عطاری بن گیا اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ تادم تحریراَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ پابندی سے روزانہ صدائے مدینہ لگانے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{4} سبز عمامہ کاتاج سجالیا
چونگی امر سدھو ( مرکز الاولیاء لاہور) گلستان کالونی نمبر 2 کے مقیم اسلامی بھائی کے تحریری بیان کالُبِّ لُبَاب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں گناہوں کی دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔ اسکول کالج کے برے ماحول کی وجہ سے میرے شب وروز گناہوں میں بسر ہو رہے تھے، فیشن پرستی کی لَت ایسی پڑی تھی کہ میں آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت کی نشانی یعنی داڑھی منڈوا کر گندی نالی میں بہا دیا کرتا۔ الغرض میرے چاروں جانب غفلت کے گہرے سائے منڈلا رہے تھے پھر مجھ پر کرم ہو گیا سبب کرم یہ ہوا کہ میرے علاقے میں دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی رہائش پذیر تھے، جب کبھی میری ان سے ملاقات ہوتی تووہ مجھے دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں شرکت کا ذہن دیتے مگر میں ہر بار ہی ٹال دیا کرتا۔ مگر اس اسلامی بھائی نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل انفرادی کوشش جاری رکھی۔ 2007ء میں ماہِ مقدس ربیع الاول شریف اپنی آب و تاب سے کائنات کومنوّر کررہا تھا اور اس کی رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور فضائیں ہر جانب اپنی برکتیں لٹا رہی تھیں۔ ایک دن وہ اسلامی بھائی میرے پاس آئے اور مجھے حضور اکرم، نور مجسم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت مبارکہ کے سلسلے میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماع ذکر و نعت میں شرکت کاذہن دیا۔ آخرکار ان کی اس بار کی کوشش کامیاب رہی اور میں نے اجتماعِ ذکرونعت میں شرکت کی ہامی بھرلی۔ کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ جشنِ ولادت کی ان خوشیوں سے بہرہ ورہونے کے لئے ہم باب المدینہ کراچی آ گئے ۔ یہاں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے اجتماع میلاد میں شرکت کی سعادت پائی۔ اس اجتماع میں نور والے مصطفی کی آمد کی خوشیوں اور شادمانیوں کا سماں ہی نرالا تھا۔ دلوں کوجلا بخشنے والی نعتوں اور مبلغِ دعوتِ اسلامی کے بیان اور خصوصاً صبحِ بہاراں کے نورانی وروحانی منظر نے میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا کردیا۔ اور میرے دل میں دعوتِ اسلامی کی محبت گھرکر گئی۔ عاشقانِ رسول کے ساتھ جشنِ آمد رسول کی خوشیاں منانے کے بعد ہم واپس لوٹ آئے۔ ایک دن میں نے خواب دیکھا کہ اپنے سر پر سبز سبز عمامہ کا تاج سجا رکھا ہے۔ اگلے روز میں نے اپنا یہ خواب اپنے علاقے کی مسجد کے امام صاحب کوسنایا کیونکہ امام صاحب بھی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے انہوں نے میرا خواب سننے کے بعد مجھے یہ ذہن دیا کہ اگر آپ نے خواب میں اپنے سرپر عمامہ شریف کاتاج سجا دیکھا ہے پھر تو آپ کو بیداری میں بھی عمامہ شریف کاتاج سجالینا چاہیئے پھر انہوں نے ہاتھوں ہاتھ اپنا عمامہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع