30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آزاد ماحول میں گرفتار ہو کر اپنی زندگی کے مقصد کو بھلا کر عیش کوشیوں میں مگن ہو گیا۔ میرا ہر ہر سانس مجھے موت سے قریب کیے جا رہا تھا مگر میری غفلت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ آخرکار اس خوابِ غفلت سے بیدار ہونے کا سبب بن گیا ہوا کچھ یوں کہ ایک دن ہمارے علاقے کے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ سبز عمامے والے ایک اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہو گئی۔ سلام دُعا کے بعد انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے ۱۵ شعبان المعظم ۱۴۳۰ھ شبِ براء ت کے سلسلے میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعِ ذکر و نعت میں شرکت کی دعوت دی۔ ان کے حسنِ کردار اور میٹھی گفتار کے سامنے میں انکار نہ کر سکا۔ میں نے اجتماعِ ذکر و نعت میں شرکت کی ہامی بھر لی۔ جب شبِ براء ت آئی تو شیطان نے مجھے اس مقدس رات کی برکتوں سے محروم کرنے کی خاطر مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے غفلت و سستی میں مبتلا کر دیا چنانچہ میں نے نماز عشاء اپنے محلے کی مسجد میں ادا کی اور اس کے بعد مسجد کے صحن میں ایک کونے میں جا کر لیٹ گیا محض سستی کی بناپر میرا دل اجتماع میں جانے پر آمادہ نہیں تھا، اسی وقت بجلی بھی چلی گئی اب مسجد میں اندھیرا ہو گیا اس سے مجھے اپنے ارادے میں کامیابی حاصل ہونے کی امید پکی ہو گئی لیکن میرے رب کو میری ہدایت منظور تھی۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ میں نے دیکھا ایک شخص موبائل کی لائٹ جلائے اِدھر اُدھر کچھ دیکھ رہا ہے جیسے کسی کو تلاش کر رہا ہو اتنے میں اس روشنی کا رُخ میری طرف ہو گیا اور وہ شخص میری جانب بڑھنے لگا جونہی میرے قریب آیا میں نے غور سے دیکھا تو یہ وہی اسلامی بھائی تھے جنہوں نے مجھے شبِ براء ت کے اجتماع کی دعوت دی تھی۔ میرے دل میں خیال آیاکہ اس اسلامی بھائی کو میری اصلاح کی کس قدر کڑھن ہے، اندھیرے میں بھی مجھے ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ اپنے ساتھ اجتماع میں لے جائیں وگرنہ آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں کس کو پرواہ ہے کہ کسی کے پیچھے بھاگتا پھرے، یہ تو میرے خیرخواہ ہیں میں یہی سوچ رہا تھا کہ انہوں نے فرمایا: آج اتنی مقدس رات ہے کہ جس میں بندوں کے متعلق اہم فیصلے کیے جاتے ہیں ، کیا خبر ہمارے مقدر میں کیا لکھا جائے گا اس حال میں اگر ہم رب کریم کے اطاعت والے کاموں میں مصروف ہوں گے تو اللہ تعالیٰ رحم و کرم فرما دے گا اور دعوتِ اسلامی کایہ اجتماع عبادت کاایک بہترین ذریعہ ہے جہاں پرسوز نعتیں ، سنتوں بھرے بیان کے ساتھ ذکر اور رقت انگیز دعا میں ربِّ کریم سے سابقہ گناہوں کی معافی اور آئندہ کے اعمال ناموں میں خیر و بھلائی والے امور کی التجائیں ہوں گی۔ ان کی اخلاص سے تربتر گفتگو سے میرا دل نرم ہو گیا، میں ہاتھوں ہاتھ ان کے ساتھ اجتماع میں شرکت کے لئے چل پڑا۔ جب اجتماع میں پہنچے تو وہاں میں نے ہر طرف سبز سبز عماموں کی بہاریں اور نظم و ضبط کی عکاسی کرتی اسلامی بھائیوں کی قطاریں دیکھی تو دل کو بڑا سرور حاصل ہوا۔ پر سوز مناجات کے بعد سنتوں بھرا بیان سنا، مبلغِ دعوتِ اسلامی کا رُلا دینے والا بیان سن کر میرے اندر احساسِ ندامت اجاگر ہو گیا، جب رقت انگیز دعا ہوئی تو خوفِ خدا کے باعث میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے صدقِ دل سے توبہ کی اور اجتماع کے اِختتام پر میں نے وہاں لگائے گئے بستے سے سبز سبز عمامہ شریف خرید کر سرپر بندھوا لیا اور پکا ارادہ کر لیا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع