30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لی“شائع کیا ہے ، اِس میں صِلۂ رحمی سے متعلق مَسائل اور پُھوپھی سے جا کر صلح کرنے والے ایک بھتیجے کی بڑی پیاری اور دِلچسپ حکایت موجود ہے اِس کا مُطالعہ کیجیے ۔ ([1])
مچھلی کے فوائد اور اس کے شرعی اَحکام
سُوال : کون سى مچھلى کھانا جائز ہے ؟ نیز مچھلى کھانے کے کىا فوائد ہىں؟
جواب : مچھلى حلال ہے اور مچھلى کے سِوا درىا کا ہر جانور حرام ہے ۔ ([2])جو مچھلى طبعی موت مَر کر پانى میں اُلٹى تىر جائے وہ حرام ہے ۔ ([3]) اگر مچھلی مَری تو پانى میں ہى لىکن طبعى موت سے نہىں بلکہ کسی نے پانی مىں کوئى کىمیکل ڈال دىا جس کی وجہ سے یہ مر گئى ىا دوسرى مچھلى نے اسے کاٹ لىا تو مَر گئی یا کسى نے کانٹا پھىنکا اور کانٹا پھنس گىا اور وہ اس کانٹے کے زخم سے تڑپ تڑپ کر مَر گئى تو ایسی مچھلىاں بھى حلال ہىں ۔ ([4])اِسی طرح اگر زندہ مچھلی کو کسی پرندے نے نوچ ڈالا یا زندہ مچھلی کو کوئی پرندہ اُٹھا کر لے گىا اور اُسے نوچتا رہا اور جب اس نے اُسے نیچے پھىنکا تو مَری ہوئی نیچے گرى مگر ىہ پتا ہے کہ پرندے نے زندہ حالت میں اُٹھائى تھى تو اب ىہ مچھلی بھى حلال ہے ۔ یونہی اگر کسی مچھلى نے دوسری زندہ مچھلى نگل لى اور اب اس مچھلى کو پکڑ کر کسى نے کاٹااور اس کے پىٹ سے مَرى ہوئى مچھلى نکلى تو اگر اس کے بدن مىں تبدىلی واقع نہ ہوئی ہو جىسے جسم کا نرم پڑ جانا یا بدبو دار ہو جانا وغیرہ اس طرح کى کوئى علامت کہ جس کے باعث اسے سڑنا کہىں تو یہ بھی حلال ہے اور اگر تبدیلی آ گئی تو اسے کھانا منع ہے ۔ ([5]) رہی بات یہ کہ مچھلى کے کیا فوائد ہیں؟تو ظاہر ہے مچھلی ایک غِذا ہے ، اگر اسے کھائىں گے تو اس کے فائدے ہى فائدے پائیں گے ، اس سے پىٹ بھرے گا اور طاقت آئے گى ۔ ہمارے ىہاں مچھلی کا سر نہىں کھایا جاتا اور بہت سے لوگ اسے پھىنک دىتے ہىں حالانکہ مچھلی کے سر مىں بڑى طاقت ہوتى ہے ۔
سُوال : جھینگا کھانا کیسا ہے ؟([6])
جواب : یہ قاعدہ تو دُرُست ہے کہ مچھلى کے علاوہ دریا کا ہر جانور حرام ہے مگر جھینگا مچھلى ہے ىا نہىں ؟ اِس بارے مىں عُلَما کا اِختلاف ہے ، بعض عُلَما اسے مچھلى تسلىم نہىں کرتے ۔ صِرف وُہی عُلَما اسے حلال کہتے ہىں جنہوں نے جھىنگے کو مچھلى تسلىم کىا ہے ۔ اعلىٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے جھینگے کے بارے میں تحقیق فرمائى ہے اور اسے مچھلى تسلىم کىا ہے مگر یہ بھی فرمایا ہے کہ جھینگے کے مچھلی ہونے یا نہ ہونے میں عُلَما کا اِختلاف ہے اِس لىے بچنا بہتر ہے ۔ ([7]) اب اگر کوئی جھىنگا کھائے تو گناہ نہىں مگر اسے کھانے سے بچے تو اچھا ہے ۔
سُوال : مىں ہر وقت غصے مىں رہتا ہوں اِس کا کوئی حل بتا دیجیے ۔
جواب : اِس کا حل ىہ ہے کہ آپ کسى طرح اپنے آپ کو یہ بُھلا دىجیے کہ ” مىں ہر وقت غُصّے مىں رہتا ہوں ۔ “کیا ىہ سُوال کرتے وقت بھى آپ غصے مىں تھے ؟جب آپ برىانى کھاتے ہىں تو کىا اُس وقت بھی غصے مىں ہوتے ہىں؟جب آپ کہىں دعوتِ ولىمہ مىں جاتے ہىں تو کىا آپ کو غصہ چڑھا ہوتا ہے ؟جب آپ کا بچہ مسکراتا ہوا” اَبُو ، اَبُو “کہہ کر آپ سے لپٹتا ہے تو کیا آپ اُسے غصے مىں اُٹھا کر زمین پر پٹخ دىتے ہىں ؟ہر وقت غصے مىں کوئى بھی نہىں ہوتا لہٰذا اگر آپ اپنے ذہن سے یہ نکال دىں گے کہ مىں ہر وقت غصے مىں ہوتا ہوں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ آپ کا غصہ ختم ہو جائے گا ۔ ىہ ایک نفسىاتى اثر ہوتا ہے ، بعض لوگ یہ بولتے بولتے غصے میں بھر جاتے ہیں کہ مىرا غُصہ خراب ہے لہٰذامىرے سے زىادہ چَڑ بڑ نہىں کرنا ۔ بڑى عمر والوں کے بارے میں تو مشہورہے کہ وہ غُصّہ زیادہ کرتے ہىں اور بات بات پر غصہ ہو جاتے ہىں مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اللہ پاک کى رحمت ہے کہ مجھے غصہ بہت کم آتا ہے اور مىرا یہ ذہن بھی بنا ہوا ہے کہ مجھے غصہ کم آتا ہے ۔ جس دِن خُدا نخواستہ شىطان نے میرے ذہن میں یہ بٹھا دىا کہ اب تُو بڈھا ہو گىا ہے ، ٹر ٹر بہت کرتا ہے اور جب دىکھو غصے مىں رہتا ہے اور لوگوں کو جھاڑ دىتا ہے تواس دِن سے مىں جھاڑنا شروع کر دوں گا اور میرا غصہ بڑھنا شروع ہو جائے گا ۔ غصہ تو اىک دن کے بچے کو بھى آتا ہے لىکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مجھے کم آتا ہے اور جب آتا ہے تو اس کا اِظہار کم ہوتا ہے ۔ جب کبھی مجھے غُصہ آتا ہے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اس کو قابو کر لوں کیونکہ اگر غصے میں کسی کا دِل دُکھ گیا تو گناہ مىں پڑ جاؤں گا ۔ یاد رکھیے ! غُصّے مىں گناہوں کے صُدور کا اِمکان بہت ہوتا ہے اس لیے غُصّے کو کنٹرول کرلىا جائے اور بندہ چُپ ہوجائے یا غُصّے کا علاج اس طرح کرے کہ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم پڑھ لے ، اگر کھڑا ہے تو بىٹھ جائے ، بىٹھا ہے تو لىٹ جائے اور زمىن سے چمٹ جائے یا وُضو کر لے اِنْ شَآءَ اللّٰہ غُصّہ چلا جائے گا ۔ جب بھی
[1] یہ رسالہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا تحریر کردہ ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[2] فتاویٰ ھندیة، کتاب الذبائح، الباب الثانی فی بیان مایؤکل من الحیوان ومالایؤکل، ۵ / ۲۸۹
[3] درمختار، کتاب الذبائح، ۹ / ۵۱۱
[4] درمختار مع رد المحتار، کتاب الذبائح، ۹ / ۵۱۲ ماخوذاً
[5] محیط برھانی، کتاب الصید، الفصل السابع فی صید السمک، ۶ / ۴۴۹ ماخوذاً
[6] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[7] فتاویٰ رضویہ، ۲۰ / ۳۳۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع