30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : اگر کسى نے بالغ ہونے سے پہلے حج کرلىا تھا ، اب بالغ ہونے کے بعد صاحبِ اِستطاعت ہونے پر اپنا فرض حج دوبارہ کرنا ہوگا یا پہلے جو کرلىا تھا وہى کافى ہے ؟(سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب : نابالغ پر حج فرض نہىں ہوتا لیکن اگر اس نے حج کرلىا تو اس پر ثواب پائے گا کیونکہ نابالغ کى نىکى مقبول ہے ۔ البتہ نابالغی کی حالت میں کیے گئے حج سے فرض حج ادا نہىں ہو گا لہٰذا بالغ ہونے کے بعد اگر وہ صاحبِ اِستطاعت ہوا اور حج فرض ہونے کی دِیگر شرائط بھی پائی گئیں تو اب اسے فرض حج کرنا ہو گا ۔ ([1]) زندگى مىں اىک بار حج فرض ہے ۔ ([2]) بعض لوگ بَرسرِروزگار ہونے کو حج کے فرض ہونے کی شرط سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہىں ہے ۔
کسى کے حج کروا دىنے سے فرض حج کب ادا ہوگا؟
سُوال : اگر کسى شرعى فقىر نے حج کر لىا اور پھر وہ بعد مىں صاحبِ حىثىت ہو گىا تو کىا اب اُسے دوبارہ حج کرنا پڑے گا؟
جواب : اگر حجِّ بدل کىا تھا تو پھر اس کا اپنا فرض حج ادا نہ ہوا([3])حج کے مَسائل میں شرعى فقىر کى اِصطلاح نہىں ہے بلکہ حج کی شرائط کا اِعتبار ہے ۔ اگر کسی کے پاس اَربوں روپے ہىں لىکن وہ اىسا بىمار ہے کہ سفر کر ہى نہىں سکتا تو اب اُس پر لازم نہیں کہ خود حج کرے ہى کرے بلکہ وہ چاہے تو حجِّ بَدل کروا دے ىا حج کرنے کی وصىت کر دے ۔ اِسی طرح اگر کسی شخص کو کسی نے تحفے میں رقم دی اور اُس نے اس رقم سے حج کر لىا تو اس کا فرض حج ادا ہو جائے گا اور اگر کسى نے حج کروا دىا جىسا کہ آجکل لوگ حج کے لیے بھىج دیتے ہىں تو بھی فرض حج ادا ہو جائے گا ۔ ([4])
فیکٹری میں نماز پڑھنے کی جگہ نہ ہونا
سُوال : میرا دوست ایک ملک مىں کام کرتا ہے ، اس کا کہنا ہے کہ مجھے فجر اور عشا کى نماز تو گھر مىں پڑھنا نصىب ہو جاتى ہے لیکن ظہر، عصر اور مغرب کے اوقات میں فىکٹرى مىں ہوتا ہوں ، اب اَلمىہ ىہ ہے کہ فیکٹری کے اندر نماز پڑھنے کى جگہ نہىں اور باہر برف ہى برف ہوتى ہے تو اِس صورت میں مىرے لىے کىا حکم ہے ؟
جواب : نماز تو فرض ہے ۔ اگر فیکٹری میں نماز پڑھنا ممکن نہىں تو پھر اىسى جگہ نوکرى چھوڑنی ہو گی ۔ ([5])نماز تو معاف نہىں ہو گى ۔ لہٰذا کوشش کر کے نماز کے لیے کچھ جگہ بنا لے ۔ نماز کے لىے ویسے بھی تھوڑی سی جگہ چاہىے جو معمولی کوشش کے بعد فیکٹری میں بنائی جا سکتی ہے ۔ نماز پڑھنے والے تو ٹرىن اور ہوائى جہاز مىں بھی کوئی کونا تلاش کر کے نماز پڑھ لیتے ہىں ۔
سُوال : اگر کوئى شخص اپنى خالہ سے تىن سال سے نہ بول رہا ہو تو اسے کس طرح صُلح کرنى چاہىے ؟
جواب : اُسے صُلح کرنے کے لیے اپنی خالہ کے پاس خود چل کر جانا چاہیے اور اُن سے مُعافی مانگ لینی چاہیے ۔ یاد رہے ! تین سال کا عرصہ گزر جانے کے سبب خالہ سے دُشمنی باقی رکھنا جائزنہیں ہو جائے گا بلکہ صِلۂ رحمی واجب ہونے کے باعِث رِشتہ جوڑنا ہی پڑے گا ۔ اگر کسی ناجائز طریقے پر رِشتہ کٹا تھا تو جو تین سال کا عرصہ گزرا اس کی بھی خالہ سے مُعافی مانگنا ہو گی ۔ البتہ اگر ملک سے باہر ہونے یا اس طرح کی کسی دوسری صورت کے پائے جانے کی وجہ سے خالہ سے رابطہ ہی نہیں ہو پاتا تھا تو یہ الگ بات ہے ۔
ذِمَّہ داران اور مبلغین کے لیے صِلۂ رحمی کے مَدَنی پُھول
سُوال : دعوتِ اسلامى کے ذِمَّہ دار یا مبلغ اسلامی بھائی کو صِلۂ رحمی(یعنی رِشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک) کے مُعاملے مىں اپنا زىادہ کردار ادا کرنا چاہىے اور اُسے اپنے خاندان اور رِشتہ داروں سے زىادہ اچھے طرىقے سے میل جول اور اُن کے دُکھ سُکھ مىں شرىک رہنا چاہیے تاکہ وہ انہىں دعوتِ اسلامى کے مَدَنى کاموں مىں شامل کر سکے ۔ اگرچہ ہمارے مبلغ اسلامى بھائىوں کی اپنے خاندانوں میں مدنی کاموں کی کوششىں ہوتى ہوں گى لیکن عام طور پر دىکھا ىہ جاتا ہے کہ خاندان اور گھر کے جو عاشقانِ رَسول ہوتے ہىں مثلاً بھائی ، والد ، ماں ، بہن وغیرہ ان کے مدنى ماحول مىں آنے کی تعداد کم ہوتی ہے ، اس کى وجہ شاید ىہ بھى ہوسکتى ہے کہ ذِمَّہ دار یا مبلغ اسلامی بھائی خاندان مىں ملنا جلنا کم کرتے ہوں گے تو آپ یہ راہ نمائی فرما دیجیے کہ اس سلسلے میں دعوتِ اسلامی کے اىک مبلغ یا ذِمَّہ دار کو کیا کِردار ادا کرنا چاہیے ؟(نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : اِس سلسلے میں میرا بہت پُرانا واقعہ کچھ یُوں ہے کہ جب دعوتِ اسلامی کو بنے ہوئے تھوڑے ہی سال ہوئے تھے اور ہمارے ملک کے حالات بھی اچھے تھے جس کے باعث میرے لیے حفاظتی اُمُور کے مَسائل نہیں تھے اور میری حفاظت کے لیے حارسین اور گارڈز وغیرہ بھی میرے ساتھ نہیں ہوا کرتے تھے اُس وقت کچھ خاندانی مَسائل
[1] فتاویٰ رضویہ، ۱۰ / ۷۷۵
[2] فتاویٰ ھندية، کتاب المناسک، الباب الاول فی تفسیرالحج و فرضیته ...الخ، ۱ / ۲۱۶
[3] بہارِ شریعت، ۱ / ۱۲۰۱، حصہ : ۶
[4] میقات سے باہر کا رہنے والا جب میقات تک پہنچ جائے اور پیدل چل سکتا ہو تو سواری اُس کے لیے شرط نہیں، لہٰذا اگر فقیر ہو جب بھی اُسے حجِ فرض کی نیت کرنی چاہیے نفل کی نیت کریگا تو اُس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہو گا اور مطلق حج کی نیت کی یعنی فرض یا نفل کچھ معین نہ کیا تو فرض ادا ہو گیا ۔ (بہارِشریعت ، ۱ / ۱۰۴۱، حصہ : ۶)
[5] جہنم کے خطرات ، ص۱۹۲ ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع