30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : اگر شرعى مَسائل بىان ہو رہے ہوں تو اِس دَوران تسبىح پڑھنے سے توجہ بٹے گى ، تسبیح پڑھنا اور بىان سننا دونوں کام اىک ساتھ نہیں ہوسکیں گے لہٰذا اِس دَوران کچھ پڑھنے کے بجائے ىکسوئى اور توجہ کے ساتھ بیان اور مَسائل سننے چاہئیں ۔ البتہ جب پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ذِکر آئے تو صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکہنے مىں حرج نہىں ہے ۔ یُوں ہی موقع کى مُناسبت سے سُبْحٰنَ اللہ! بھی کہہ سکتے ہیں ۔
داد وتحسین کے لیے سُبْحٰنَ اللہ!کہنا ذِکر نہیں
سُوال : بعض مبلغین حاضرین سے بار بار سُبْحٰنَ اللہ!کہلواتے اور اس پر جَنَّت میں دَرخت لگنے کی بشارت سُناتے ہیں ، کیا یہ دُرُست ہے ؟ ([1])
جواب : بعض نادان مبلغىن کہتے ہىں کہ بولو : سُبْحٰنَ اللہ! جَنَّت مىں دَرخت لگے گا ۔ اىسا نہ کہا جائے کیونکہ ىہاں سُبْحٰنَ اللہ!کہلوانا اپنے نفس کے لىے ہوتا ہے مثلا ًبىان کر رہے ہىں اور کوئى لِفٹ نہىں کروا رہا تو کہتے ہیں : بولو : سُبْحٰنَ اللہ ، تو ىہ ذِکر نہىں بلکہ کلمۂ تحسىن ہے جس سے نفس کو مزہ آتا ہے ۔ بعض بولتے ہیں : مَاشَآءَاللّٰہ! کىا بات ہے ! ىہ بھى کلمۂ تحسىن کہلاتا ہے ۔ بہرحال نعت شریف، شِعر یا کوئی اچھی بات سُن کر سُبْحٰنَ اللہ، مَاشَآءَاللّٰہ یا اس جیسے دوسرے اَلفاظ کہنا ذِکر نہىں بلکہ دادوتحسین ہے ۔ ([2])ان پر وہ اَحادیثِ مُبارَکہ منطبق کرنا دُرُست نہیں جن میں ذِکر کا ثواب بیان کیا گیا ہے ۔ البتہ اگر کوئی ذِکر کی نیت سے سُبْحٰنَ اللہ وغیرہ کہے ، داد و تحسین مقصود نہ ہو تو اس کے لیے ثواب ہے ۔
کیا بلیوں کے رونے سے آفت آتی ہے ؟
سُوال : بلیاں جب روتى ہىں تو اِس سے کىا ہوتا ہے ؟ (کوئٹہ سے سُوال)
جواب : بلیوں کے رونے سے بَدشگونى نہىں لینی چاہیے ۔ بلیوں کے رونے پر یہ سمجھنا کہ بس کوئى آفت آنے والى ہے ، لہٰذا فُلاں سفر یا فُلاں سودا کىنسل کر دو ورنہ نقصان ہو جائے گا تو حقیقت میں اىسا کچھ بھی نہىں ہے ۔ بلى بھى روتى ہے ، بندہ بھى روتا ہے اور بچے بھى روتے ہىں ۔ اِس سے بدشگونی لینے کے بجائے عبرت حاصِل کرنی چاہیے جیساکہ ایک کتاب مىں لکھا ہے کہ بچے جب روئىں تو جہنمىوں کا رونا ىاد کرىں ۔ ([3])بچہ اىسے لگتا ہے کہ بے بسى کے ساتھ رو رہا ہے ، تو جہنم مىں بھى بے بسى کے ساتھ رونا ہو گا ۔ بس اللہ پاک ایسا کرم کرے کہ ہم جہنم مىں ہى نہ جائىں جو رونا پڑے ۔ اللہ کرے کہ ہم جہنم مىں جانے والے کام کرنے کے بجائے نىکىاں ہى کرتے رہىں ۔
سُوال : اگر کسى گھر مىں بلىاں روتی اور چىخىں مارتى ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ اس گھر مىں جادو یا جنات ہىں ، کىا اس کی کوئی حقىقت ہے ؟
جواب : اِن باتوں کى کوئى حقىقت نہىں ہے ۔ چونکہ بلىوں مىں بھى اِحساس ہوتا ہے ، ان کا بھی کچھ نہ کچھ حافظہ ہوتا ہے جبھى تو ىہ مانوس ہوتى ہىں ۔ کسى کے گھرجاتى ہىں تو اسى کے دَروازے میں داخل ہوتى ہىں، دوسرے کے دَروازے میں داخل نہیں ہوتیں، اِس کا مَطلب یہ ہے کہ انہیں ىاد رہتا ہے ۔ بلی کے رونے کا سبب یہ ہوسکتا ہے کہ کسى جانور نے اس کے سامنے اس کا بچہ کھا لىا ہو جس کا صَدمہ اس کے جِگر مىں بىٹھ گىا ہو، جب اس کی یاد آتی ہوتو اس وجہ سے چىختى اور روتى ہو ۔ بہرحال بلی کے رونے کی ایسی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے لہٰذا بلی کے رونے کا ىہ مَطلب نہیں لىنا چاہیے کہ ىہاں جِنّات ہىں ۔
جنات تو عام طور پر ہر جگہ ہوتے ہىں کىونکہ ان کی تعداد اِنسانوں کے مقابلے میں نو گنا زىادہ ہے ۔ ([4])یعنی اىک اِنسان ہے تو نو جِنّ ہىں ۔ اِس کو یُوں سمجھیے کہ اگر دُنىا مىں اىک کروڑ اِنسان رہتے ہىں تو نو کروڑ جِنّ رہتے ہىں ۔ ہر جِنّ ستاتا نہىں ہے جیسے ہزاروں اسلامى بھائى مختلف جگہوں میں جمع ہوکر مَدَنی مذاکرے میں شریک ہوتے ہىں ، کوئى کسى کو تنگ نہیں کرتا، سب پُرسکون بىٹھے ہوتے ہىں تو اِسی طرح جنات بھى پُرسکون ہوتے ہىں ۔ البتہ بعض جنات شرىر بھی ہوتے ہىں جو اِنسانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ نقصان پہنچانے والے تو بعض اِنسان بھی ہوتے ہیں جو مجمع میں اس تاک میں ہوتے ہیں کہ کسی کی جیب کاٹ لیں یا کسی کی چپل اُٹھالیں ۔
کیا نابالغی کی حالت میں کیے ہوئے حج سے فرض حج ادا ہو جاتا ہے ؟
[1] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[2] شیخ الاسلام امام محمود بن احمد بخاریرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جس نے تعجب کے اظہار کے اِرادے سے ”سُبْحٰنَ اللہ“ کہا تو وہ تعجب کرنے والا کہلائے گا، ذِکر کرنے والا نہ ہوگا ۔ (محیط برھانی، کتاب الصلاة، الفصل السادس عشر فی التغنی والالحان، ۱ / ۴۴۰، دار احیاء التراث العربی بیروت)
[3] موسوعة ابن ابی الدنیا، کتاب الرقة والبکاء، ۳ / ۲۱۸، الرقم : ۲۵۳المکتبة العصریة بیروت
[4] تفسیرطبری، پ۱۷، الانبیآء، تحت الآیة : ۹۶، ۹ / ۸۵، حدیث : ۲۴۸۰۳ دار الکتب العلمیة، بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع