30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بری عادتوں سے نجات پرشکر :
{۱۷۶}… حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ اہلِ کوفہ میں سے ایک شخص کی عادتیں بہت بری تھیں ۔جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے ان بری عادتوں سے خلاصی عطا فرمائی تو اس نے بطورِ شکرانہ اپنی باندی کو آزاد کردیا۔
---------مزیدبیان کرتے ہیں کہ’’ایک مرتبہ مکۂ مکرمہ زَادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں خوب بارش ہوئی جس کے سبب وہاں کے باشندوں کے مکانات گرگئے ۔حضرت سیِّدُنا ابن ابی روّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد نے بطورِ شکرانہ اپنی کنیزکو آزاد کردیاکیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے گھر کو گرنے سے محفوظ رکھا تھا۔‘‘ (1)
ایک قدم پل صراط پر ہو تو دوسرا جنت میں :
{۱۷۷}… حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن عبداللہ بن ابن مریم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم سے ایک شخص نے عرض کی : ’’نعمت کا تمام ہونا (یعنی کامل و اکمل نعمت) کیا ہے ؟‘‘ تو آپ نے فرمایا : ’’ اس سے مراد یہ ہے کہ تیرا ایک قدم پل صراط پر ہواور دوسرا جنت میں ۔‘‘
آنکھیں بندکرلے :
{۱۷۸}… حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللہ مزنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرمایا کرتے تھے : ’’اے ابن آدم! اگر تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کی قدرجانناچاہتا ہے جواس نے تجھے عطافرمائی ہیں تواپنی آنکھیں بند کر لے ۔‘‘ (2)
ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ- سے مراد :
{۱۷۹}… اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے :
وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ- (پ۲۱، لُقْمٰن : ۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اورتمہیں بھرپوردیں اپنی نعمتیں ظاہراورچھپی۔
---------حضرت سیِّدُنا مقاتل بن حیّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَنَّان اس کی تفسیرمیں فرماتے ہیں : ’’ ظاہرۃ سے مراد اسلام اور باطنۃ سے مراد اللہ عَزَّوَجَلَّ کا تیرے گناہوں کی پردہ پوشی کرناہے ۔‘‘(مزید تفسیری اقوال ماقبل صفحہ59اور60پرحاشیہ میں ملاحظہ کیجئے )
جہنمیوں پربھی احسان :
{۱۸۰}…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن قاسم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ بے شک جہنمیوں پربھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا احسان ہے اوروہ اس طرح کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو انہیں اس سے بھی سخت عذاب میں مبتلافرماتا۔(3)
{۱۸۱}… حضرت سیِّدُنا مطرف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ’’عافیت پرشکراد اکرنامجھے مصیبت پر صبر کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘ (4)
بروزِ قیامت رحمن عَزَّوَجَلَّ کے مقربین :
{۱۸۲}… حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جن بندوں میں کرم، سخاوت، حلم، رحمت، شفقت، بھلائی، شکر اور صبرجیسی خصلتیں ہوں گی وہ قیامت کے دن رحمن عَزَّوَجَلَّ کے مقربین میں ہو ں گے ۔‘‘
مصیبت زدہ کودیکھ کرپڑھنے کی دُعا :
{۱۸۳}… حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ حضور نبی ٔ کریم، ر ء ُوف رحیمصلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دُعاپڑھی{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَـلَا کَ بِہٖ،
وَفَضَّلَنِیْ عَلَیْکَ وَعَلٰی جَمِیْعِ خَلْقِہِ تَفْضِیْلًا }ترجمہ : اللہ عَزَّوَجَلَّکاشکرہے جس نے مجھے اس آفت سے بچایاجس میں تجھے مبتلا کیااوراس نے مجھے تجھ پراوراپنی بہت سی مخلوق پربرتری عطافرمائی۔تواس نے اس(مصیبت سے حفاظت کی)نعمت کاشکراداکرلیا (اور ایک روایت میں ہے کہ اسے یہ مصیبت نہیں پہنچے گی)۔‘‘ (5)
جسم اور رزق جیسی عظیم نعمتوں کا شکر :
{۱۸۴}… حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن زید بن اسلم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں : شکر، حمد اور اس کی اصل اور فرع سے اپنا حصہ وصول کرتاہے ۔پس بندے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان عطا کردہ نعمتوں کو دیکھنا چاہئے جو اس کے جسم، کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ کی صورت میں ہیں ۔اس لئے کہ اس کے جسم پرکوئی ایسی چیز نہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت نہ ہو۔پس بندے پر لازم ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاکردہ جسمانی نعمتوں کو اسی کی اطاعت وفرمانبرداری میں استعمال کرے ۔پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی دوسری نعمتوں کودیکھے جو رِزق کی صورت میں ہیں ۔پس بندے پر لازم ہے کہ رزق میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ نعمتوں کو بھی اسی کی اطاعت میں خرچ کرے ۔ جس نے ایسا کیاتو بے شک اس نے شکر، اس کی اصل اور فرع سے حصہ پا لیا۔(6)
1 حلیۃ الاولیاء، الرقم۳۹۰سفیان بن عیینۃ، الحدیث : ۱۰۸۲۹، ج۷، ص۳۵۳۔
2 شعب الایمان للبیھقی، باب فی تعدید نعم اللّٰہ، الحدیث : ۴۴۶۵، ج۴، ص۱۱۲۔
3 شعب الایمان للبیھقی، باب فی تعدید نعم اللّٰہ، الحدیث : ۴۵۷۷، ج۴، ص ۱۳۷۔
4 المرجع السابق، الحدیث : ۴۴۳۷، ص ۱۰۶
5 کتاب الدُعاء للطبرانی، باب القول عند رؤیۃ المبتلی، الحدیث : ۸۰۰، ص۲۵۴، بتغیرٍ۔
6 الدرالمنثور، پ۲، البقرۃ، تحت الایۃ : ۱۵۲، ج۱، ص۳۷۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع