30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افضل ترین نعمت :
{۹۵}… حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّنے بندوں کو جوسب سے افضل نعمت عطافرمائی وہ یہ ہے کہ انہیں {لا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ}کی معرفت بخشی اوربے شک یہ کلمہ آخرت میں بندوں کے لئے ایسا ہوگا جیسے دُنیامیں پانی ہے ۔‘‘ (1)
ہائے رے حسن و جمال!
{۹۶}… حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مِخْمَرشَرْعَبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے منبر پر بیٹھتے ہوئے لوگوں پر ایک نگاہ ڈالی جبکہ لوگ زرد و سرخ دکھائی دے رہے تھے (یعنی انہوں نے زیب و زینت کا خوب اہتمام کیا ہوا تھا) اور آسودہ حال نظر آرہے تھے اور لباس بھی عمدہ زیبِ تن کئے ہوئے تھے ، پس آپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ’’ ہائے رے حسن و جمال! پہلے کچھ نہ تھا اور اب چمڑے کے خیمے ، عمدہ عمامےاور لمبے یمنی کپڑے ہیں ۔ تم خوشحال ہو گئے جبکہ لوگ پراگندہ حال ہو گئے ۔ وہ کپڑے بُنتے ہیں اور تم پہنتے ہو۔ وہ عطا کرتے ہیں اور تم لیتے ہو۔ وہ جانوروں کی پرورش کرتے ہیں اور تم ان پر سواری کرتے ہو۔ وہ کاشتکاری کرتے ہیں اور تم کھاتے ہو۔‘‘ پھر خود بھی روئے اور دوسروں کو بھی رُلا دیا۔(2)
یہ نعمتیں ا ور سخاوتیں کتنی عظیم ہیں !
{۹۷}…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن قرط ازدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِینے عیدالاضحی یاعیدالفطر کے دن لوگوں کو رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے دیکھاتومنبرپرجلوہ فرماہوکرارشاد فرمایا : ’’یہ کتنی عظیم نعمتیں ہیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پورا کیا اور کتنی عظیم سخاوتیں ہیں جنہیں اس نے ظاہر کیا۔کسی قوم کے لئے اس نعمت کا ضائع ہونا سب سے سخت ہے جسے وہ واپس نہیں لوٹا سکتے ۔‘‘ (3)
شکربجالاؤ، نعمتیں پاؤ :
{۹۸}… حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللہ مزنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ ’’جب کوئی شخص{اَلْحَمْدُلِلّٰہ}کہتا ہے تو اس کی برکت سے اس کے لئے نعمت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘پوچھا گیاکہ’’ اس نعمت کابدلہ کیا ہے ؟‘‘فرمایا : ’’اس کابدلہ یہ ہے کہ تم{اَلْحَمْدُلِلّٰہ}کہو!یوں ایک اور نعمت مل جائے گی کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتیں ختم نہیں ہوتیں ۔‘‘ (4)
شکرگزارکی حکایت :
{۹۹}… حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان فرمایاکہ ایک شخص کو دُنیا کی دولت سے بہت نوازا گیا اور پھر سب کچھ جاتا رہا تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثنا کرنے لگا یہاں تک کہ اس کے پاس بچھانے کے لئے صرف ایک چٹائی رہ گئی مگر وہ پھربھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد وثنا میں مصروف رہا ۔ایک دوسرے مالدارشخص نے چٹائی والے سے کہا : ’’ اب تم کس بات پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہو؟‘‘ اس نے کہا : ’’میں ان نعمتوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اگرساری دُنیاکی دولت بھی دے دوں تووہ نعمتیں مجھے نہ ملیں ۔‘‘ اس نے پوچھا : ’’ وہ کیا؟‘‘جواب دیا : ’’کیاتم اپنی آنکھ، زبان، ہاتھوں اور پاؤں کونہیں دیکھتے (کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتنی بڑی نعمتیں ہیں )؟ ‘‘ (5)
ایک شاکی کی اصلاح کاانوکھاانداز :
{۱۰۰}… حضرت سیِّدُنا سعید بن عامر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا یونس بن عبید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تنگدستی کی شکایت کرنے لگاتو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے پوچھا : ’’جس آنکھ سے تم دیکھ رہے ہو کیا اس کے بدلے ایک لاکھ درہم تمہیں قبول ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کی : ’’نہیں ۔‘‘فرمایا : ’’کیاتیرے ایک ہاتھ کے عوض لاکھ درہم؟‘‘ اس نے کہا : ’’ نہیں ۔‘‘ پھرفرمایا : ’’توکیا پاؤں کے بدلے میں ؟‘‘ جواب دیا : ’’نہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی دیگر نعمتیں یاد دلانے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’میں تو تمہارے پاس لاکھوں دیکھ رہا ہوں اور تم محتاجی کی شکایت کر رہے ہو؟‘‘ (6)
{۱۰۱}… حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’صحت جسمانی غنا (تونگری) کا نام ہے ۔ ‘‘(7)
افضل دُعا اور ذکر :
{۱۰۲}… حضرت سیِّدُناجابربن عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’افضل دُعا {لااِلٰـہَ اِلَّاللّٰہُ}ہے اور افضل ذکر{اَلْحَمْدُلِلّٰہ}ہے ۔‘‘ (8)
{۱۰۳}… حضرت سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ منقول ہے : ’’(اجرکے )زیادہ ہونے کے اعتبارسے {اَلْحَمْدُلِلّٰہ}بہت بڑا کلام ہے ۔‘‘ (9)
شکر کی منت :
{۱۰۴}… حضرت سیِّدُنا کعب بن عجرہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انصار میں سے ایک گروہ کو (کسی محاذ پر) روانہ کرتے وقت ارشاد فرمایا : ’’ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں سلامت رکھا اور مالِ غنیمت عطا فرمایا تو مجھ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرنا لازم ہے ۔‘‘(راوی کہتے ہیں )وہ کچھ ہی عرصے میں مال غنیمت پاکرسلامتی کے ساتھ لوٹ آئے ۔ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی : ’’یَارَسُوْلَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ’’ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں سلامت رکھا اور مالِ غنیمت عطا فرمایاتومجھ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرنا لازم ہے ۔‘‘ آپ صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’میں شکر ادا کرچکاہوں ، میں نے یوں عرض کی ہے : {اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ شُکْرًاوَلَکَ الْمَنُّ فَضْلًا} یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! تیرا شکرہے ۔تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں اوریہ تیراہی فضل واحسان ہے ۔ ‘‘(10)
مکمل حمد :
{۱۰۵}…حضرت سیِّدُناجعفربن محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَدفرماتے ہیں کہ میرے والد محترم کا خچر گم ہو گیا توانہوں نے منت مانی کہ’’ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے میرا خچر لوٹا دے تو میں اس کی ایسی حمد کروں گاجس سے وہ راضی ہو جائے گا۔‘‘کچھ ہی دیر میں ان کا خچرزین اور لگام سمیت انہیں مل گیاتووہ اس پرسوارہوئے ۔جب سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اوراپنے کپڑے سمیٹ لئے توسر آسمان کی طرف اٹھا کر صرف {اَلْحَمْدُ لِلّٰہ} کہا۔ان سے اس بارے میں پوچھاگیا توفرمایا : ’’کیا میں نے کچھ چھوڑدیاہے یا کچھ باقی رہنے دیا؟ نہیں بلکہ میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مکمل حمد کر لی ہے ۔ ‘‘ (11)
ہر نعمت کا شکر ادا ہو جائے :
{۱۰۶}… حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَمِیْد فرماتے ہیں : ’’جس نے ہرنعمت پر خواہ مل گئی ہو یا ملنے والی ہو، خاص ہو یا عام ہو{اَ لْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن} کہا بے شک اس نے ہرنعمت پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا اور جس نے ہر مصیبت پر خواہ نازل ہو چکی ہو یا نازل ہونے والی ہو، خاص ہو یا عام ہو{اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْن}کہابے شک اس نے ہر مصیبت پر{اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنْ}کہہ لیا۔‘‘
جن کی محبت خداعام کرے :
{۱۰۷}…حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا محمد بن منکدرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُقْتَدِ ر نے حضرت سیِّدُنا ابوحازم سلمہ بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّارسے کہاکہ ’’مجھے اکثرناواقف لوگ ملتے ہیں اور میرے لئے دُعائے خیر کرتے ہیں حالانکہ میں نے کبھی ان کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کی۔‘‘ حضرت سیِّدُناابو حازم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’اسے اپنی وجہ سے نہ سمجھوبلکہ اس کی رحمت پر غورکروجو انہیں تمہارے پاس لایا ہے اور اس کا شکر ادا کیا کرو۔‘‘ اس کے بعد راوی عبد الرحمن بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی :
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶) (پ۱۶، مریم : ۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک وہ جوایمان لائے اوراچھے کام کئے عنقریب ان کے لئے رحمن محبت کردے گا۔(12)
1 حلیۃ الاولیاء ، الرقم : ۳۹۰سفیان بن عیینۃ، الحدیث : ۱۰۶۸۰، ج ۷، ص۳۲۱۔
2 الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم ۳۸۴۵عبداللّٰہ بن مخمر، ج۷، ص۳۱۳۔
3 فضیلۃ الشکر، باب ما یجب علی الناس من الشکر، الحدیث : ۹۳، ص۶۶۔
4 شعب الایمان للبیھقی، باب فی تعدید نعم اللّٰہ، الحدیث : ۴۴۰۸، ج۴، ص۹۹۔
5 شعب الایمان للبیھقی، باب فی تعدید نعم اللّٰہ، الحدیث : ۴۴۶۲، ج۴، ص۱۱۲۔
6 حلیۃ الاولیاء ، الرقم ۲۰۲ یونس بن عبید، الحدیث : ۳۰۱۷، ج ۳، ص۲۵۔
7 تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، الرقم ۵۴۶۴، عویمر بن زید، ج ۴۷، ص ۱۸۳۔
8 شعب الایمان للبیھقی، باب فی تعدید نعم اللّٰہ، الحدیث : ۴۳۷۱، ج۴، ص۹۰۔
9 حلیۃ الاولیاء ، الرقم ۲۷۴ ابراہیم بن یزید، الحدیث : ۵۴۸۳، ج ۴، ص۲۵۷۔
10 المعجم الکبیر، الحدیث : ۳۱۶، ج۱۹، ص۱۴۴، بتغیر۔
11 حلیۃ الاولیاء ، الرقم ۲۳۵ محمد بن علی، الحدیث : ۳۷۶۱، ج ۳، ص۲۱۷۔
12 حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۴۰ سلمۃ بن دینار، الحدیث : ۳۹۲۴، ج۳، ص۲۶۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع