30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
)آسمان پر سورج اىک، درخت کى جڑ اىک، انسان کا دل اىک، تو چاہئے کہ گھر کا حاکم اعلىٰ بھى اىک ہى ہو ۔ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ آیتِ مبارکہ اور اس کی تفسیرمیں میاں بیوی کی زندگی پُرمسرت بنانے کے لئے نہایت اہم مدنی پھول بیان کئے گئے ہیں ۔ واقعی اگر بیوی اپنے شوہر کی برابری کرنے کے بجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فیصلے کے مطابق شوہر کی برتری تسلیم کرے اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری کرے اور دوسری طرف شوہر اپنی ذمّہ داری کا احساس کرتے ہوئے بیوی کے حُقُوق ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑے تو کافی حد تک لڑائی جھگڑوں کا سدِّ باب ہوسکتا ہے ۔ گھر کا اَفْسَر و حاکم ہونے کی حیثیت سے شوہر کو یہ بات مدِّ نظر رکھنی چاہئے کہ اگربیوی نافرمانی کرتی ہے تو فوراً اسے مارنے یا طلاق کا پروانہ دے کر رخصت کرنے کے بجائے اس معاملے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے مطابق حل کرے ۔ سب سے پہلے اسے اچھے طریقے سے سمجھائے اگر نہ سمجھے تو بستر الگ کرکے ناراضی کا اظہار کرے پھر بھی باز نہ آئے تو شریعت نے گھر ٹوٹنے سے بچانے کے لئے معمولی طریقے سے مارنے کی اجازت دی ہے ۔ یاد رہے کہ مارنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شوہر بیوی پر خونخوار بھیڑئیے کی طرح حملہ آور ہوجائے اور مار مار کر اس کی ہڈی پسلی ایک کرکے ظلم وستم کی ساری حدیں پار کر جائے یقیناًایسا کرنا سراسر خواہشاتِ نفسانی کی پیروی ہے ۔ آئیے ! شریعت کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہ کون سی صورتیں ہیں جس میں بیوی کو مارنے کی اجازت ہے ۔
بیوی کو کن صورتوں میں مارنے کی اجازت ہے ؟
فتاویٰ قاضیخان میں ہے کہ چار وُجوہات کی بنا پر بیوی کو مارنا شوہر کے لئے جائزہے :
1. شوہر (اپنے لئے )بناؤ سنگھار کرنے کا حکم دے مگر عورت نہ کرے ۔
2. شوہر صحبت کرنا چاہے اور وہ نہ کرنے دے جبکہ شرعی مجبوری بھی نہ ہو ۔
3. نماز نہ پڑھے یاجنابت وحیض کے بعد غسل نہ کرے کیونکہ یہ بھی نماز نہ پڑھنے جیسا ہی ہے ۔
4. مہر کی ادائیگی کے باوجود وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے چلی جائے ۔ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ چاروں چیزوں کا تعلّق براہِ راست اللہ ربُّ العالمین اور شوہر کے حق سے ہے اس لئے ان اہم اُمور کے حُصُول کیلئے جب اور کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو شوہر کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ مگر افسوس! آج کل معاشرے میں شاید ہی کوئی ایسا شوہر ہوگا جو ان اہم اُمُور کو چھوڑنے پر بیوی کو ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہو ۔ بلکہ یہاں تو سالن میں نمک مرچ کم یا زیادہ ہوجائے ، کھانا دیر سے ملا، کپڑے استری نہ ہوئے ، لباس اچھی طرح نہ دُھلا ، پانی لانے میں دیر ہوگئی یا ٹھنڈا نہ تھا، گھر کی صفائی میں کچھ کوتاہی ہوگئی یا ساس ونندوں نے جھوٹی سچی شکایت لگا دی تو مار مار کر اس کا برا حشر کردیا جاتا ہے ۔ یاد رہے کہ اگر بیوی سے واقعی ایسا قصور ہوبھی جائے جس میں خود شریعت نے مارنے کی اجازت دی ہے تو وہاں بھی مارنا صرف جائز ہے واجب نہیں البتہ نہ مارنا افضل ہے ۔ چنانچہ ،
تفسیرِ کبیر میں ہے کہ امام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : مارنا مباح ہے لیکن نہ مارنا افضل ہے ۔ البتہ اگر مارے تو اتنا نہ مارے کہ ہلاکت تک پہنچادے بلکہ بدن پر الگ الگ مقام پر مارے ایک ہی جگہ نہ مارے اور چہرے پر مارنے سے بچے ۔ بُنے ہوئے رومال یا ہاتھ سے مارے ، کوڑا اور ڈنڈا استعمال نہ کیا جائے الغرض ہلکے سے ہلکا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں پہلے بیویوں کو سمجھانے کا حکم دیا پھر بستروں سے علیحدگی کو بیان کیا اور آخر میں مارنے کی اجازت دی تو یہ اس بات پر صراحۃً تنبیہ ہے کہ نرمی سے غرض حاصل ہوجائے تو اسی پر اکتفا لازم ہے سختی اختیار کرنا جائز نہیں ۔ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کس قدر افسوس ہے ان لوگوں پر جو شریعت کی دی گئی اجازت سے تجاوز کرتے ہوئے اپنی بیویوں کو ظلماً مارتے ہیں ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر جب دل چاہتا ہے بے دریغ پیٹتے ہیں، بیوی قدموں میں گر کر معافی مانگتی رہ جاتی ہے مگر انہیں ذرا رحم نہیں آتا ۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک تو صنفِ نازُک پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور پھر اسے مردانگی اوربہادری سمجھا جاتا ہے ۔ کمزور عورت پر اپنی طاقت کاا ظہار کرنے والے کان کھول کر سُن لیں کہ روزِحشر خداوند قہّار وجبّار کی بارگاہ میں پیش ہوناہے ۔ اگر وہاں اس مظلومہ نے تڑپ کر آپ کے دُنیا میں کئے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف فریاد کردی تو بتائیں کیا کریں گے ؟لہٰذا ابھی وقت ہے توبہ کرلیں ، اگر ظلم کیا ہے تو معافی مانگ کرراضی کرلیں کہیں ایسا نہ ہو کہ بروزِ قیامت سخت مشکل میں پھنس جائیں کیونکہ اُس روز ہرظالم کو اپنے ظلم کا حساب دینا ہوگا بلکہ احادیث مبارکہ کی روشنی میں ایسے بدنصیبوں کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور نیکیاں نہ ہونے یا ختم ہوجانے کی صورت میں مظلوموں کے گناہ اُن کے سر ڈال دئیے جائیں گے ۔ چنانچہ،
حضرتِ سَیِّدُنا مُسلِم بن حَجاج قُشَیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیاپنے مشہور مجموعۂ حدیث ”صحیح مسلم“ میں ایک حدیثِ پاک نقل کرتے ہیں : سرکار ِنامدار، شَفیعِ روزِشُمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے اِستفِسار فرمایا : کیا تم جانتے ہو مُفلِس کون ہے ؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : یَارسولَ اللہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم!ہم میں سے جس کے پاس دراہِم و سامان نہ ہو وہ مُفلِس ہے ۔ فرمایا : میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزے اور زکوٰۃ لے کر آیا اور یوں آیا کہ اِسے گالی دی، اُس پرتُہمت لگائی، اِس کا مال کھایا، اُس کا خون بہایا، اُسے مارا ۔ تو اُس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع