30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے : ثَـلَاثَۃٌ قَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَیْہِمُ الْجَـنَّۃَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّیُّـوْثُ الَّذِیْ یُـقِرُّ فِیْ اَہْلِـہِ الْخَبَثَ ([1]) یعنی تين شخص ہیں جن پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنّت حرام فرما دی ہے ایک تو وہ شخص جو شراب کا عادی ہو، دوسرا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے ، اور تیسرا وہ دیُّوث( یعنی بے حیا) کہ جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے ۔
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کے الفاظ ’’ وہ دَیُّوث(یعنی بے حیا) کہ جواپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : بعض شارِحین نے فرمایا کہ یہاں خَبَث سے مُراد زِنا اور اسبابِ زنا ہیں یعنی جو اپنی بیوی بچّوں کے زِنا یا بے حيائی، بے پردگی، اجنبی مردوں سے اِختلاط، بازاروں میں زینت سے پھرنا، بے حيائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوُجود قُدرت کے نہ روکے وہ بے حیاء دیّوث ہے ۔ ([2])معلوم ہوا کہ باوُجُودِ قدرت اپنی زوجہ، ماں، بہنوں اور جوان بیٹیوں وغيرہ کو گلیوں، بازاروں، شاپنگ سینٹروں، مخلوط تفریح گاہوں میں بے پردہ گھومنے پھرنے ، اجنبی پڑوسیوں، نامَحرم رشتے داروں، غیرمَحرم ملازِموں، چوکیداروں، ڈرائیوروں سے بے تکلُّفی اور بے پردَگی سے منع (مَنْ ۔ عْ) نہ کرنے والے سخت اَحْمق، بے حيا، دَیُّوث، جنّت سے محروم اور جہنّم کے حقدار ہيں ۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ اپنی ذمّہ داری کا احساس کرتے ہوئے گھر والوں کو برائیوں کے سیلاب میں بہنے سے بچا لیجئے اس سے پہلے کہ پانی سر سے بلند ہوجائے اور آپ کفِ افسوس مَلتے رہ جائیں ۔ آیئے اس بات کا عہد کیجئے کہ ہم خود بھی شرعی احکام کی پابندی کریں گے اور اپنے گھر والوں کو بھی اس کا پابند بنائیں گے نیز اپنے گھر میں مدنی ماحول قائم کرکے اُسے سنّتوں کا گہوارہ بنائیں گے ۔
یاد رکھئے ! گھر ایک ادارے کی طرح ہے اور جس طرح دنیا کا کوئی بھی ادارہسربراہ کے بغیر نہیں چلتا، کوئی نہ کوئی اَفْسَر ضرور ہوتا ہے جو سب کی نگرانی کرتا ہے اور اگر کوئی اپنی حُدود سے تجاوز کرے یا اپنی ذمّہ داری ادا نہ کرے تو بقدرِ ضرورت سختی بھی کرتا ہے ۔ اسی طرح گھر کے ادارے کاسربراہ اور افسر شوہر کو بنایا گیا ہے جبکہ بیوی اور بچوں کو اس کا ماتحت کیا گیا ہے ۔ افسر ہونے کی حیثیت سے شوہر کو جہاں بیوی بچوں کے کھانے پینے ، اوڑھنے پہننے ، اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہیں اسے کچھ زائد اختیارات بھی دیئے گئے ہیں ۔ البتہ اس پر لازم ہے کہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے شریعت کے مطابق اپنی بیوی سے برتاؤ کرے اور اگروہ سرتابی کرے تو شرعی احکامات کی روشنی میں باہمی معاملات حل کرے اور اسے راہِ راست پر لانے کی کوشش کرے ۔ چنانچہ فرمانِ خداوندی ہے :
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ-وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ-فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا(۳۴) (پ۵، النساء : ۳۴)
ترجَمۂ کنز الایمان : مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہنے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللہ بلند بڑا ہے ۔
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : مرد ىا خاوند عورتوں ىا بىوىوں کے افسر حاکم مقرر کئے گئے ہىں، بىوىاں ان کى ماتحت ، اس کى دو وجہ ہىں : ٭اىک تو ىہ کہ اللہ تعالىٰ نے مرد کو عورت پر بُزرگى دی ہے کہ نبوّت، خلافت، قضاء، حُدود مىں گواہى، جہاد وغىرہ مردوں کو ہى بخشے ، اُنہىں کاملِ عقل، کاملِ دین بنایا ۔ عورتوں کی عقل ناقص رکھی، دین بھی کہ مالی معاملات میں دو عورتوں کى گواہى اىک مرد کے برابر قرار دى، عورتىں بحالتِ حىض و نفاس نماز، تلاوتِ قرآن، روزے وغىرہ سے محروم، مرد ىہ کام ہمىشہ کرتے ہىں ۔ ٭دوسرے ىہ کہ مردوں نے عورتوں پر مال خرچ کئے ہیں کہ عورت کا مہر، خرچہ کفن دفن خاوند کے ذمہ ہے ، مرد کا مہر خرچہ وغىرہ عورت کے ذمّہ نہىں، اور قاعدہ ہے کہ خرچ دىنے والا خرچ لىنے والے کا حاکم ہوتاہے ۔ پس نىک کار، نىک بخت بىوىاں اپنے ربّ کى مُطِىع ہوتى ہىں ۔ خاوند کى پسِ پُشت حفاظت کرتى ہىں کہ اپنى عِصْمَت، خاوند کا مال، اولاد وغىرہ ضائع نہىں کرتىں کىونکہ وہ سمجھتى ہىں کہ ربّ تعالىٰ نے ہر طرح ان کى حفاظت فرمائى ان پر پردہ فرض فرما کر اُن کى عزّت وعِصْمَت محفوظ کردى (اور)خاوندکے ذمّہ اُن کا خرچہ وغىرہ مقرر فرما کر اُنہىں در بدر پھرنے سے بچالىا کہ کمائىں مرد، کھائىں اور خرچ کرىں عورتىں ۔
مزید فرماتے ہیں : جن بىوىوں کى نافرمانى کا تم کو خطرہ ہو تو فوراًطلاق کا ارادہ نہ کرلو، بلکہ اوّلاً انہىں سمجھاؤ اس پر بھى باز نہ آئىں تو اُنہىں گھر مىں رکھتے ہوئے ان سے کلام سلام، پىار محبت وغىرہ چھوڑ دو اس پر بھى باز نہ آئىں تو انہىں اصلاح کى غرض سے معمولى مار مارو مگر اطاعت کرلىنے پر ان پر سختى کے لىے بہانے نہ تلاش کرو بلکہ محبت و پىار سے برتاوے کرو ۔ ىہ جان لو کہ تم عورتوں کے حاکم ہو(تو ) اللہ تعالىٰ تمہارا حاکم، تم پر قابو رکھنے والا ہے ، جب وہ تمہارى خطائىں بخشتا ہے تو تم بھى اپنے ماتحتوں کے جرم بخشو ۔ (بہرحال )خاوند حاکم ہے ، بىوى اس کى ماتحت، خاوند گھر کا بادشاہ ہے ، بىوى گھر کى وزىر، لہٰذا جو عورت و مرد کو برابر کہے ىا عورت کو مرد سے اَفْضَل مانے وہ قدرت کا مقابلہ کرتا ہے ۔ آج ىورپىن اَقْوام نے عورت و مرد مىں برابری کى ہے مگر انہىں جو مصىبتىں بھگتنا پڑ رہى ہىں، اسے خود ہى جانتے ہىں کہ سال مىں لاکھوں طلاقىں ہوتى ہىں، بات بات پر طلاق ، گھر صحىح معنى مىں آباد نہىں، (کیونکہ ) ملک مىں دو برابر کے حاکم نہ چاہىئں، (جب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع