نظامِ فطرت بدلنے کا انجام
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shohar ko Kaisa Hona Chahiye? | شوہر کو کیسا ہونا چاہیے؟

book_icon
شوہر کو کیسا ہونا چاہیے؟

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے جو چیز انسان کے ترازوئے اعمال میں رکھی جائے گی وہ انسان کا وہ خرچ ہوگا جو اس نے اپنے گھر والوں پر کیا ہوگا ۔ ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نظامِ فطرت بدلنے کا انجام

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کھانے پینے ، اوڑھنے پہننے اور بیوی کی مناسب رہائش کا بندوبست کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے اُن حُقُوق کی ادائیگی کی طرف بھی بھر پور توجّہ دینی چاہئے جو میاں بیوی دونوں ہی کی دُنیا و آخرت کو سنوارنے اور بہتر بنانے والے ہیں اور وہ حُقُوق یہ ہیں کہ بیوی کو اچھے رہن سہن کی تربیت اور نیک باتوں کی تعلیم دے نیز اسے حیاء و حجاب کی تاکید کرے  مگر فی زمانہ شاذ ونادر ہی ایسے افراد ہوں گے جو بیوی کی دُنیوی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ اُسے نیکی ، حیاء اور حجاب (پردہ) کی تعلیم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہوں ۔ شریعت نے شوہر کو گھر کا اَفْسَر بناکر اسے اہْلِ خانہ کی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمّہ داری سونپی ہے جبکہ  عورت کو گھرکی چار دیواری عطا کرکے اس کی عِصْمَت وعِفَّت (پارسائی، پاکدامنی )کی حفاظت کا سامان کیا ہے ۔ مگرافسوس! ہم نے احکام ِشَرع پسِ پشت ڈال کر اپنی عورتوں کو بے پردہ کرکے گلیوں اور بازاروں کی زینت بنا دیا ۔ شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا عام معمولات چادر اور چار دیواری کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتابلکہ شادیوں میں تو بے پردگی کچھ زیادہ ہی عُروج پر ہوتی ہے علاوہ ازیں نامَحرم رشتہ داروں سے پردے کا اہتمام بالخصوص دیور اور بھابھی کے درمیان پردے کا لحاظ تو شاید ہی کسی گھر میں کیا جاتا ہو ۔

الغرض جس عورت کو گھر کی چار دیواری کی ملکہ بنایا گیا تھا اس کا حال یہ ہے کہ مَردوں نے شادی بیاہ کے جہیز سے لے کرفروٹ، سبزی، گوشت اور پرچون خریدنے تک کی ذمّہ داری اس کے سر ڈال دی اور اس پر طُرّہ یہ کہ بچوں کو اسکول سے لانے لے جانے یا رشتہ داروں سے ملانے کے لئے بھی شوہر کے پاس تو فرصت نہیں لہٰذا یہ بار بھی مستقل طور پر اُس صنفِ نازُک کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ۔ یوں گویا مرد کے بجائے عورت گھر کی اَفْسر بن گئی ۔ ذرا سوچئے کہ جب عورت سودا سلف یا دیگر ضروریات کے لئے دن میں کئی کئی بار گھر سے باہر جائے گی تو کیا سینکڑوں نگاہیں اس کا تعاقب نہیں کریں گی   ؟کیا خریداری وغیرہ کی وجہ سے کئی غیر مَحْرموں سے اس کا واسطہ نہیں پڑے گا   ؟کیا اس وجہ سے میاں بیوی کے درمیان شکوک و شُبہات پیدا نہیں ہونگے   ؟کیا بدگمانیوں اور الزام تراشیوں کے دروازے نہیں کھلیں گے   ؟کیا محبت ختم ہوکر دونوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی نہیں ہوگی   ؟ظاہر ہے جب ہم نے نظامِ فطرت کی بنیاد ہی اُلٹ دی تو گھر کا چین وسکون  کیسے برقرار رہ سکتا ہے ؟ اور اگر بالفرض یہ تمام خرابیاں نہ بھی ہوں تو کیا یہ خرابی کم ہے کہ مردوں کے کام عورت کے سپردکرکے اور اسے گھر سے باہر نکال کرہم نے اسے بے پردگی کی دَلْدَل میں دھکیل دیا اور جہنّم کا ایندھن بننے کے لئے چھوڑ دیا ۔ یادرکھئے !شوہر گھر کا افسر و سربراہ ہے اور ہر سربراہ کے طرح شوہر سے بھی اُس کے ماتحتوں کے بارے میں باز پُرس ہوگی لہٰذا صرف دُنیاوی ہی نہیں بلکہ دینی معاملات میں بھی اپنی اور اپنے بال بچوں کی اچھی تربیت کی طرف بھر پور توجہ دیتے ہوئے نارِ جہنم سے بچنے کی تدبیر کرنی چاہئے ۔ ارشادِ خداوندی ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) (پ۲۸، التحریم : ۶)

 ترجَمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو !اپنی جانوںاور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ  جس کے ایندھن آدمی  اور پتھر ہیں  اس پر سخت کرّے  فرشتے مقرّر ہیں  جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں ۔

نیکی کا حکم دیجئے

جب نبیِ اَکْرَم ، نورِ مجسّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان عرض گزار ہوئے : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم ہم اپنے اہل وعیال کو آتش ِ جہنّم سے کس طرح بچا سکتے ہیں؟سرکارِ مدینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے اہل وعیال کو اُن کاموں کا حکم دو جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو پسند ہیں اور ان کاموں سے روکو جو ربّ تعالیٰ کو ناپسند ہیں ۔ ([2])

نبیِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ بادشاہ نگران ہے ، اُس سے اُس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے ۔ آدمی اپنے  اہل وعیال کا نگران ہے اُس سے اُس کے اہل وعیال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولاد کی نگران ہے اُس سے اُن کے بارے میں پوچھاجائے گا ۔ ([3])

لہٰذا شوہر کو چاہئے کہ اپنے منصب کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے تمام تر فرائضِ منصبی کو بخوبی انجام دے ، خود بھی برائیوں سے بچے اور حتی المقدور اپنے بیوی بچوں کو بھی گناہوں کی آلودگی سے دُور رکھے بالخصوص آج کل بے پردگی و بے حیائی کا جو سیلاب اُمنڈ آیا ہے اُس سے اپنے گھر والوں کو بچائے ورنہ دُنیا و آخرت میں ذلّت و رُسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ شیخِ طریقت، امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ”باحیا نوجوان“ کے صفحہ نمبر 21 پر تحریر فرماتے ہیں : جو لوگ باوُجُود ِ قدرت اپنی عورَتوں اور مَحارِم کو بے پردگی سے منع نہ کريں وہ دَیُّوث ہيں، رَحمتِ عالميان صَلَّی



[1]    معجم الاوسط ، ۴ / ۳۲۸ ، حدیث : ۶۱۳۵

[2]    درمنثور ، پ۲۸، التحریم، تحت الآیة : ۶، ۸ / ۲۲۵

[3]    بخاری، کتاب العتق، باب کراهة التطاول    الخ، ۲ / ۱۵۹، حدیث : ۲۵۵۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن