30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان حدیثِ پاک نمبر 2 کے تحت لکھتے ہیں : سُبْحٰنَ اللہ کیسی نفیس تعلیم !مقصدیہ ہے کہ بے عیب بیوی ملنا ناممکن ہے ، لہٰذا اگر بیوی میں دو ایک برائیاں بھی ہوں تو اسے برداشت کرو کہ کچھ خوبیاں بھی پاؤ گے ۔ یہاں (صاحبِ )مرقات نے فرمایا : جو بے عیب ساتھی کی تلاش میں رہے گا وہ دُنیا میں اکیلا ہی رہ جائے گا ، ہم خود ہزار ہا برائیوں کا سَرچشمہ ہیں ، ہر دوست عزیز کی برائیوں سے درگزر کرو ، اچھائیوں پر نظر رکھو، ہاں! اِصلاح کی کوشش کرو، بے عیب تو رسولُ اللہ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) ہیں ۔ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ہر شخص اپنے اِرد گرد کے ماحول پر نظر ڈالے اور غور کرے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ زندگی کے مختلف مراحل میں قدم قدم پر اُسے جس جس چیز کی ضرورت پڑتی یا جس جس فرد سے واسطہ پڑتا ہے وہ تمام کی تمام چیزیں یاسارے کے سارے افراد اس کے مزاج پر پورا نہیں اترتے بلکہ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اکثر مزاج کے خلاف ہی ہوتے ہیں، ملک ہو یا شہر، محلہ ہو یا بازار، آفس ہو یا گھر ، ہمسائے ہو ں یا رشتہ دار نجانے کن کن سے وہ بیزار اور کون کون خود اس سے بیزار ہوتا ہے مگر اِس کے باوجود مُروّت، مجبوری یا حکمتِ عملی کے باعث سمجھوتے اور برداشت سے کام لیتے ہوئے ایک دوسرے سے روابط برقرار رکھتے ہیں اور تعلقات کی دیوار میں دراڑ نہیں آنے دیتے بالکل اسی طرح اشیاء کا معاملہہے کہ کھانے پینے سے لے کر استعمال کرنے تک کی نجانے کتنی چیزیں ایسی ہیں جو ہر لحاظ سے آپ کی سوچ ، خواہش اور معیار کے عین مطابق نہیں ہوتیں لیکن وہ آپ کی ضرورت ہیں اِس لئے آپ کسی صورت اُنہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ ذرا سوچئے !جب آپ دُنیا کی کئی چیزوں کو بے شُمار عُیُوب و نقائص کے باوجود اپناتے ہیں تو پھر یہ دوہرا معیار اُس ہستی کے لئے کیوں جو آپ کی رفیقۂ حیات ، زندگی کی اہم ضرورت اور آپ کی تمام تر ضروریات کا خیال رکھنے والی ہے ؟کیا اِس لئے کہ آپ اُس کے حاکم و افسر ہیں جس طرح چاہیں اُس کے ساتھ سُلوک کریں ؟کیا صرف آپ ہی اُس کے حاکم ہیں کوئی آپ کا حاکم نہیں؟کیا صرف بیوی ہی شوہر کو جواب دہ ہے شوہر کسی کو جواب دہ نہیں؟یاد رکھئے ! اگر اُس پر آپ کا حکم چلتا ہے تو آپ پر بھی احکم الحاکمین جَلَّ جَلَالَہُ کا حکم چلتا ہے ، اگر آج گھر کی چار دیواری میں بات بات پر ناجائز طور پر اُسے ذلیل کریں گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل قیامت کے دن محشر کے کھلے میدان میں سب کے سامنے آپ کو بھی ذِلّت و رُسوائی کا سامنا کرنا پڑے ۔ اور پھر یہ بھی تو سوچئے کہ جب وہ آپ کی کئی خلافِ مزاج باتوں اور عادتوں کو خاموشی سے سہہ لیتی ہے تو کیا آپ اُس کی چند عادتوں پر صبر نہیں کرسکتے ؟ کیا آپ اُس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں پر اُسے معاف نہیں کرسکتے ؟کیا آپ اس کی بے شمار خدمتوں کا صلہ عفو و درگزر کی صورت میں نہیں دے سکتے ؟کیا خبر یہی معافی کل بروزِ قیامت آپ کے گناہوں کی معافی کا سبب بن جائے ۔ آیئے اس ضمن میں ایک ایمانافروز حکایت ملاحظہ کیجئے ۔
بیوی کی خطا معاف کرنے کا انعام
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 472 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بیاناتِ عطّاریہ‘‘حصّہ دُوُم کے صَفْحَہ 164پر ہے : ایک آدمی کی بیوی نے کھانے میں نمک زیادہ ڈال دیا ۔ اُسے غُصّہ تو بَہُت آیا مگر یہ سوچتے ہوئے وہ غُصّے کو پی گیا کہ میں بھی تو خطائیں کرتا رہتا ہوں اگر آج میں نے بیوی کی خطا پر سختی سے گرفت کی تو کہیں ایسا نہ ہوکہ کل بروزِ قِیامت اللہعَزَّ وَجَلَّ بھی میری خطاؤں پر گرفت فرمالے ۔ چُنانچِہ اُس نے دل ہی دل میں اپنی زَوجہ کی خطا مُعاف کردی ۔ اِنتِقال کے بعد اس کو کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا ؟ اُس نے جواب دیا کہ گناہوں کی کثرت کے سبب عذاب ہونے ہی والاتھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا : میری بندی نے سالن میں نمک زیادہ ڈال دیا تھا اور تم نے اُس کی خطا مُعاف کردی تھی ، جاؤ میں بھی اُس کے صلے میں تم کوآج مُعاف کرتا ہوں ۔
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ !دیکھاآپ نے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کس قدر وسیع ہے کہ ایک ایسا شخص جو کثرتِ عصیاں کے سبب گرفتارِ عذاب ہونے ہی والا تھا اُس کے تمام قُصور صرف اس لئے معاف کردئیے گئے کہ اُس نے اپنی زوجہ کا ایک چھوٹا سا قُصور معاف کردیا تھا، اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی زوجہ کی غلطیوں اور بد اخلاقیوں پر صبر کرنے لگے تو نہ صرف گھر میں چاہت و امن اور باہمی اتفاق کی فضا قائم ہوجائے گی بلکہ نامۂ اعمال میں بھی نیکیوں کا انبار لگ جائے گا ۔
صبر اَیُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کی مثل ثواب
حُسنِ اخلاق کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جس نے اپنی بیوی کے بُرے اَخلاق پر صبر کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے حضرت ایوب عَلَیْہِ السَّلَام کے مصیبت پر صبر کرنے کی مثل اَجْر عطا فرمائے گا اور اگر عورت اپنے شوہر کے بُرے اَخلاق پر صبر کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے فرعون کی بیوی آسیہ کے ثواب کی مثل اَجْر عطا فرمائے گا ۔ ([2])
منقول ہے کہ ایک مرتبہ شیخ ابولحسن خِرْقانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کی وِلایت کا شُہْرہ سُن کر مشہور فلسفی بُوعلی سینا آپ سے ملاقات کرنے کے لئے خرقان پہنچا ۔ جب آپ کے گھر جاکر آپ کی بیوی سے پوچھا کہ شیخ کہاں ہیں؟تو اندر سے جواب آیا کہ تم ایک زِنْدیق (بے دین) اور جھوٹے شخص کو شیخ کہتے ہو!مجھے نہیں معلوم کہ شیخ کہاں ہیں البتہ میرا شوہر جنگل سے لکڑیاں لانے گیا ہے ۔ یہ سُن کر بوعلی سینا کو طرح طرح کے خیالات آنے لگے کہ جب آپ کی بیوی ہی اِس قسم کی باتیں کرتی ہے تو نہ معلوم آپ کا کیا مرتبہ ہے ۔ اگرچہ میں نے بہت تعریف سنی ہے مگر ایسا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع