30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہ ِالْقَوِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : حُقُوقِ زوجیّت میں سے عورتوں کے حُقُوق مردوں پراُسی طرح واجب ہیں جس طرح مردوں کے حُقُوقعورتوں پر واجب ہیں اِسی لئے حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : بلاشُبہ میں اپنی بیوی کے لئے زینت اختیار کرتا ہوں جس طرح وہ میرے لئے بناؤ سنگھار کرتی ہے اور مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں وہ تمام حُقُوق اچھی طرح حاصل کروں جو میرے اُس پر ہیں اوروہ بھی اپنے حُقُوق حاصل کرے جو اس کے مجھ پر ہیں ۔ کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ( وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪-) (اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا اُن پر ہے شرع کے مُوافق) اورآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ بیویوں کے ساتھ اچھی صحبت اور بہترین سُلوک خاوندوں پر اسی طرح لازم ہے جس طرح بیویوں پر ہر اُس (جائز) کام میں خاوندوں کی اطاعت واجب ہے جس کا وہ اُنہیں حکم دیں ۔ ([1])
بہر حال شرعی اور اَخْلاقی ہر لحاظ سے بیویوں کے حُقُوق بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور شوہر کو اُن کا خیال رکھنا چاہئے علاوہ ازیں بیوی کے جائز مُطالبات کو پورا کرنے اور جائز خواہشات پر پورا اُترنے کی بھی حتی المقدور کوشش کرنی چاہئے ۔ جس طرح شوہر یہ چاہتا ہے کہ اُس کی بیوی اُس کے لئے بن سنور کررہے اِسی طرح اُسے بھی بیوی کی فطری چاہت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اُس کی دِلجوئی کے لئے لباس وغیرہ کی صفائی ستھرائی کی طرف خاص توجّہ دینی چاہئے خواہ وہ زبان سے اِس بات کا اِظْہار کرے یا نہ کرے ۔
سرکارِ مدینہ، سُرورِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے کہ تم اپنے کپڑوں کو دھوؤ اور اپنے بالوں کی اِصْلاح کر و اور مسواک کرکے زینت اور پاکی حاصل کرو کیونکہ بنی اسرائیل ان چیزوں کا اہتمام نہیں کرتے تھے اسی لئے اُن کی عورتوں نے بدکاری کی ۔ ([2])
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک بکھرے ہوئے بالوں والے شخص کو دیکھا تو فرمایا : کیا اِس کو کوئی ایسی چیز(تیل کنگھی) نہیں ملتی جس سے اپنے بالوں کو سنوارلے ۔ ایک اور شخص کو دیکھا جس نے میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے فرمایا : کیا اِسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑوں کو دھو لیا کرے ؟([3])
طہارت اور صفائی کے حوالے سے خود سرکارِ دوعالم، نورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا طرزِعمل بھی بے مثال اور قابلِ تقلید ہے ۔ حضرت سَیِّدُنا شُرَیح بن ہانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے امُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے دریافت کیا کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم جب کاشانۂ اَقْدس میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے کیا کام کرتے تھے ؟ فرمایا : آپسب سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے ۔ ([4])
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے سرتاج صاحبِ معراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکو کبھی بھی میلی کچیلی حالت میں نہیں دیکھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن سر میں تیل لگانا پسند فرماتے تھے نیز فرماتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میلے کچیلے بکھرے ہوئے بال والے شخص کو ناپسند فرماتا ہے ۔ ([5])
معلوم ہوا کہ شوہر کوطہارت اور صفائی ستھرائی کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے اور حتی الامکان اپنی بیوی کی توقّعات پر پورا اُترنے اور اُس سے حُسنِ سُلوک رَوا رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ زندگی کی گاڑی شاہراہِ حیات پر کامیابی سے گامزن رہے ۔ آئیے بیویوں کے حق میں شوہروں کو نصیحت کے مدنی پھولوں پرمشتمل 5فرامینِ مصطفے ٰ ملاحظہ کیجئے ۔
بیوی سے حُسنِ سلوک کے متعلق فرامین مصطفے ٰ
1. ”خَيْـرُكُمْ خَيْـرُكُمْ لِاَهْلِهٖ وَاَنَا خَيْـرُكُمْ لِاَهْلِىْ“تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے حق میں تم سب سے بہتر ہوں ۔ ([6])
2. ”لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً اِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِیَ مِنْهَااٰخَرَ“ کوئی مُسلمان مرد (شوہر)کسی مُسلمان عورت (بیوی)سے نفرت نہ کرے اگر اُس کی ایک عادت نا پسندہے تو دوسری پسندہوگی ۔ ([7])
3. تم میں سے کوئی شخص اپنی عورت کو نہ مارے جیسے غلام کو مارتا ہے پھر دن کے آخر میں اس سے صحبت کرے گا ۔ ([8])
4. عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو ۔ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھی اوپر والی پسلی ہے اگر تم اُسے سیدھا کرنے چلے تو توڑ دو گے اور اگر اُسے چھوڑ دو تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی پس تم عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو ۔ ([9])
5. عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے ، وہ تمہارے لئے کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی اگر تم اس سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہو تو اُس کے ٹیڑھے پن کے باجود اس سے فائدہ اٹھا لو اور اگر سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے اور اس کا توڑنا طلاق ہے ۔ ([10])
[1] تفسیرقرطبی، پ۲، البقرة ، تحت الآية : ۲۲۸، ۲ / ۹۶
[2] جامع صغیر، ص۷۸، حدیث : ۱۲۱۸
[3] ابوداود، کتاب اللباس، باب فی غسل الثوب...الخ، ۴ / ۷۲، حدیث : ۴۰۶۲
[4] مسلم، کتاب الطهارة، باب السواک، ص ۱۵۲، حدیث : ۲۵۳
[5] شعب الایمان، باب فی الملابس والزی الخ، ۵ / ۱۶۸، حدیث : ۶۲۲۶
[6] ابن ماجه، ابواب النکاح، باب حسن معاشرة النساء، ۲ / ۴۷۸، حدیث : ۱۹۷۷
[7] مسلم، کتاب الرضاع، باب الوصية بالنساء، ص۷۷۵، حدیث : ۱۴۶۹
[8] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع