30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے بجائے نہایت لَجَاجت ونَدَامَت کے ساتھ اس طرح اُس سے معذرت کیجئے کہ اُس کا دل صاف ہوجائے اور وہ واقعی معاف کردے ۔ رَسمی طور پر SORRY بول دینا کافی نہ ہوگا اور نہ ہی اس طرح حقّ العَبد سے یقینی خَلاصی ہوگی ۔ جیسا جُرم ویسی مُعافی تَلافی ۔
1 کبھی آپ کی پُکار پر جواب نہ ملے تو بے تَحاشا برس پڑناسِفلہ پن (کم ظرفی)ہے ، حسنِ ظَن سے کا م لیجئے کہ بے چاری نے سُنانہ ہوگا یا کوئی اور مجبوری مانِع ہوئی ہوگی ۔
2 کبھی کپڑے کی اِستری نہ ہوئی ، کھانے میں نمک مرچ کم وبیش ہوا، تازہ کھانا پکا کرنہ دیا، دوسرے دن کا گرم کرکے یا ٹھنڈا ہی رکھ دیا ، برتن برابرنہ دُھل پائے تو جارِحانہ انداز سے حکم چلانے اور ڈانٹ پلانے کے بجائے نرمی سے تفہیم(یعنی سمجھانا)، اِزْدِیَادِ حُبّ(یعنی مَحبَّت میں اضافے ) کا باعث ہوگی ۔ نفس وشیطان کی چالوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے ، نفرتیں مت بڑھائیے ۔
3 زبان سے بتانے میں غصّہ آجاتا ہو اور بات بگڑ جاتی ہو تو اگر فریقین ایسے موقع پر ایک دوسرے کو تحریری طور پر سمجھانے کا معمول بنائیں تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جھگڑے کی نَوبت نہیں آئے گی ۔
4 ہوٹل یا بازار کی غِذا کی مانند لذیذ اَغذِیَہ(غذائیں) بنانے کا زوجہ سے بِالجَبر مُطَالَبہ کرنا نفس کی پیروی اور اس کے نہ بنانے پر طنزومِزاح ، طَعن و تَشنِیع اور زبردستی کی دل آزاری کرنا شیطان کی خوشی کا سامان ہے ۔
5 اپنی والِدہ وغیرہ کی شکایت پر بغیر شَرعی ثُبُوت کے زوجہ کو جھاڑنا یا مارنا وغیرہ ظلم ہے اور ظالِم جہنَّم کا حقدار ۔ خاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ظلم جہنَّم میں لے جانے والا ہے ۔ ([1])
6 اپنا کا م اپنے ہاتھ سے کرنا باعثِ سعادت اور عظیم سنّت ہے ۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدّیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ سلطانِ مکّۂ مکرّمہ، سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّماپنے کپڑے خودسی لیتے اور اپنے نعلینِ مبارَکَین گانٹھتے اوروہ سارے کام کرتے جومرداپنے گھروں میں کرتے ہیں ۔ ([2])
7 چھوٹی چھوٹی باتوں پر بیوی کو حکم دینا مثلاً یہ اُٹھا دو ، وہ رکھ دو ، فُلاں چیز ڈھونڈ کر لادو وغیرہ سے بچنا اور اپنا کام اپنے ہاتھ سے کر لیا کرنا گھر کو اَمن کا گہوارہ بنانے میں مدد دیتاہے ۔
8 اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بیوی کو نیند سے جگادینا، کام کاج اور جھاڑ پُونچھ کے دوران ، آٹا گوندھتے ہوئے ، نیز دردِسر ، نزلہ یا دیگر بیماریوں کے ہوتے ہوئے اُن کو کام کے آرڈر دیئے جانا گھر کے ماحول کو خراب کرسکتا ہے ۔ جس طرح آپ کو نیند پیاری ہے ، سُستی ہوتی ہے ، موڈ آف ہوتا ہے اسی طرح کے عوارِض عورت کو بھی درپیش ہوتے ہیں بلکہ مرد کے مقابلے میں عورت کو نیند زیادہ آتی ہے نیزاس کو بھی غصّہ آسکتا ہے لہٰذا مِزاج شناسی کی عادت ڈالئے ۔
9 فَرِیقَین میں سے اگر ایک کو غصہ آجائے تو دوسرے کا خاموش رہنا بہت ضروری ہے کہ غصے کا غصے سے اِزالہ بَسااوقات خطرناک ثابت ہوتاہے ۔
10 باورچی خانے میں مصروفیت کے دوران بیوی کو اس طرح تنقیدکا نشانہ بنانا کہ آلو تراشنا نہیں آتا، ٹماٹر کاٹنے کا ڈھنگ نہیں ، اَدْرک کیا اِس طرح کاٹتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ بہت ہی تکلیف دہ اور باعثِ نفرت ہوتا ہے ۔ عقلمند وہی ہے جو بیوی کی جائز طور پر حوصلہ اَفزائی کرتا رہے اوراپنا کا م نکالتا رہے ۔
11 میاں بیوی کا بچوں کے سامنے لڑنا جھگڑنا اُن کے اَخلاق کیلئے بھی تباہ کُن ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی شیخ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی طرف سے عطا کردہ یہ مدنی پھول نہایت اہمیت کے حامل ہیں جن پر عمل کرکے شوہر گھر کو امن کا گہوارہ بنا سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سنتوں بھرے بیانات بھی گھر میں مدنی ماحول قائم کرنے اور لڑائی جھگڑوں کو جڑ سے اُکھاڑنے میں نہایت مُفید و مُعاون ہیں آیئے اس ضمن میں ایک مدنی بہار ملاحظہ کیجئے ۔
بابُ المدینہ (کراچی )کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ طویل عرصے سے میری زوجہ اور والدہ یعنی ساس بہو میں خوب ٹھنی ہوئی تھی ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زوجہ رُوٹھ کر میکے جابیٹھی ۔ میں سخت پریشان تھا اور سمجھ میں نہیں آتا تھاکہ اِس مسئلے کو کیسے حل کروں ۔ اِتنے میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مدنی مذاکرے کی VCD’’گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے ؟‘‘ میرے ہاتھ آئی ۔ موضوع دیکھا تو بڑی امید کے ساتھ یہ VCD خُود بھی دیکھی اوراپنی والدہ محترمہ کو بھی دکھائی اور ایک VCDاپنے سسرال بھی بھیج دی ۔ میری والدہ کو یہ VCDاتنی پسند آئی کہ انہوں نے اِسے دوبار دیکھا اور حیرت انگیز طور پر مجھ سے فرمانے لگیں : چل بیٹا! تیرے سُسرال چلتے ہیں ۔ میں نے سُکون کا سانس لیا کہ لگتا ہے جو کام میں بھر پور اِنفرادی کوشش کے باوُجود نہ کرسکا میرے پیر و مُرشد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے میٹھے میٹھے اندازِ گفتگو نے کردیا ہے ۔
میرے سسرال پہنچ کر والدہ صاحبہ نے بڑ ی محبت سے میری زوجہ کو منایا اور اُسے واپس گھر لے آئیں ۔ دوسری جانب میری زوجہ نے بھی مُثبت طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا اور گھر پہنچنے کے بعد دوسرے ہی دن اپنی ساس سے کہنے لگیں : امی جان! میرا کمرہ بہت بڑا ہے ، جبکہ دیگر گھر والے جس کمرے میں رہتے ہیں وہ قدرے چھوٹا ہے ، آپ میرا کمرہ لے لیجئے اور میں اُس چھوٹے کمرے میں رہائش اختیار کر لیتی ہوں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارا گھر جو فتنے اور فساد کا شکار تھا، VCD ” گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے ؟‘‘ کی برکت سے امن کا گہوارہ بن گیا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں تاحیات دعوتِ اسلامی سے وابستہ رکھے نیز قرآن وسنت کی پابندی اور اپنے گھروں والوں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہِ النبی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع