30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور آخری علم سب سے آسان ہے تو جو سب سے آسان علم یعنی علمِ احکام حاصل کرنے سے عاجز ہوگا وہ سب سے مشکل علم ذات کس طرح حاصل کرے گا ۔
عمرو جاہل نے علمائے ظاہر کو مطلقا وراثت انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام سے محروم کہا حالانکہ قرآن عظیم نے ان سب کو انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کا وارث قرار دیا حتی کہ بے عمل یعنی فرائض و واجبات کی پابندی کریں مگر دیگر نیک کاموں ، مستحبات و نوافل میں سستی کریں ایسے علماء کو بھی وارث قرار دیا جبکہ وہ صحیح عقائد رکھتے ہوں اور سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہوں یہ قید اس لئے ہے کہ جو عقائد میں صحیح نہیں اور دوسروں کو غلط عقائد کی طرف بلانے والا ہے ۔ وہ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے ایسا آدمی نبی علیہ السلام کا وارث نہیں شیطان کا نائب ہوتا ہے لہٰذا صرف صحیح عقائد والا اور اس کی طرف دوسروں کو بلانے والا انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کا وارث ہے اگرچہ بے عمل ہو ۔ اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ فرمایا ، علما شریعت کے وارث ہیں اگرچہ بے عمل ہوں تو ہم جواب دیتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا ’’ پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چنے ہوئے بندوں کو تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی متوسط حال کا اور کوئی بحکم خدا بھلائیوں میں سبقت لے جانے والا یہی بڑا فضل ہے ‘‘ (فاطر : ۳۲) اس آیت میں غور کرو اور سمجھو کہ وہ بے عمل و گناہوں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں انہیں بھی اللہ تَعَالٰینے کتاب کا وارث فرمایا اور اپنے چنے ہوئے بندے قرار دیا ۔ احادیث میں ہے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسی آیت کی تفسیر میں فرمایا ’’ ہم میں جو سبقت لے جانے والا ہے وہ تو سبقت لے جانے والا ہی ہے اور جو متوسط حال کا ہو وہ بھی نجات والا ہے اور جو اپنی جان پر ظالم ہے اس کی بھی مغفرت ہے (الدر المنثور ص ۲۵ / ۷ مطبوعہ بیروت)
شریعت کا عالم اگر باعمل بھی ہوتو چاند ہے کہ خود ٹھنڈا اور دوسروں کو روشنی دینے والا اور اگر باعمل نہ ہو تو شمع کی طرح ہے کہ خود جلے مگر دوسروں کو روشنی دے چنانچہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ اس شخص کی مثال جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے اور خود کو بھلائے ہوئے ہے اس فلیتے (چراغ کی بتی) کی طرح ہے جو لوگوں کو روشنی دیتاہے اور خود جلتا ہے ‘‘ ، (بزار، طبرانی) نیز نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جب کوئی شخص قرآن پڑھ لے اور رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حدیثیں خوب یاد کرلے اور اس کے ساتھ طبیعت سلیقہ دار رکھتا ہو تو وہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے نائبوں میں سے ایک ہے ‘‘ ۔ دیکھو یہاں وارث تو وارث، اللہ تَعَالٰینے خلیفۃ الانبیاء ہونے کے لئے صرف تین شرطیں مقرر فرمائیں کہ قرآن و حدیث جانے اور ان کی سمجھ رکھتا ہو، خلیفہ و وارث میں فرق ظاہر ہے آدمی کی تمام اولاد اس کی وارث ہے مگر جانشین ہونے کی لیاقت ہر ایک میں نہیں ۔
۷ : جب اللہ تَعَالٰینے کتاب کے تمام وارثوں کو اپنے چُنے ہوئے بندے فرمایا تو وہ قطعا اﷲ والے ہوئے اور جب اﷲ والے ہوئے تو ضرور ربانی ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : ’’ اللہ والے ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس دیتے ہو‘‘، ( آل عمران / ۷۹) مزید فرمایا : ’’بے شک ہم نے توریت اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے ہیں ہمارے فرمانبردار نبی اور عالم اور فقیہ کہ ان سے کتاب اللہ کی کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے ‘‘، ( آیت ۴۴) ان آیات میں اللہ تَعَالٰینے ربانی ہونے کی وجہ اور ربانیوں کی صفات اسی قدر بیان فرمائی کہ کتاب پڑھنا پڑھانا اس کے احکام سے خبردار ہونا ۔ اس کی نگہداشت رکھنا اور اس کے ساتھ حکم کرنا ۔ اب اگر ان صفات کو بغور دیکھیں تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ صفات علمائے شریعت کے اندرپائی جاتی ہیں جب ان میں یہ صفات پائی جاتی ہیں تووہ ضرورربانی ہوئے ۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا فرماتے ہیں ’’ربانی فقہاء مدرسین ہیں ‘‘ (الدر المنثور ص ۲۵۰ / ۴ مطبوعہ مصر) نیز وہ اور ان کے شاگرد حضرت امام مجاہد و امام سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمفرماتے ہیں ’’ ربانی عالم فقیہ کو کہتے ہیں ‘‘ (الدر المنثور ص ۲۵۱ / ۲ مطبوعہ بیروت)
۸ : منافق کی ایک خصلت : جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے علمائے شریعت کو اپنا چنا ہوا بندہ فرمایا اور رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہیں اپنا وارث، اپنا خلیفہ، اپنا جانشین فرماتے ہیں تو انہیں شیطان کہنا جیسا کہ عمرو نے کہا ، شیطان ہی کا کام ہوسکتا ہے یا اس کی اولاد میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع