دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shariat-o-Tareeqat | شریعت و طریقت

book_icon
شریعت و طریقت

چاہے کھینچتا پھرتا ہے اور طریقت سے جاہل سمجھتے ہیں  کہ ہم اچھا کررہے ہیں ۔

۵ : عمرو کا شریعت کو طریقت سے جدا سمجھ کر یہ کہنا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام صرف طریقت کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں  صراحۃً کفر و ارتداد(۱)و بے دینی و زندیق پن اور لعنت کا سبب ہے کیونکہ یہ واضح طور پر شریعت مطہرہ کو معطل (۲)و مہمل (۳)اور فضول وباطل ٹھہرانا ہے اور یہ کفر و ارتداد ہے ہاں  اگر عمرو یہ کہتا کہ اصل مقصود اللہ تَعَالٰیتک پہنچناہے تو حق وصحیح تھا ۔  مگر افسوس ہے اس پر جو اپنی شدید جہالت کی وجہ سے نہ جانے ، یا جانے ، مگر شریعت سے دشمنی کے سبب یہ بات نہ مانے کہ اللہ تَعَالٰیتک پہنچنے کا راستہ یہی محمد رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت ہے اور کوئی نہیں  ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں  کہ شریعت کے سوا اللہ تَعَالٰیتک پہنچنے کے تمام راستے بند ہیں  اور اگر کوئی طریقت کو شریعت سے جدا راستہ سمجھتا ہے تو ہرگز ایسی طریقت کا راستہ اللہ تَعَالٰیتک نہ پہنچائے گا بلکہ وہ راستہ بند ہے اور اس پر چلنے والا مردود (۴)ہے اور انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  اس کا یہ کہنا کہ وہ ایسی طریقت کے لئے بھیجے گئے سراسر جھوٹ، تہمت اور لعنتی و مردود فعل ہے ۔  کیا کوئی شخص اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ  رسول اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی شریعت کے خلاف کسی دوسرے راستے کی طرف بلایا ہو ہرگز نہیں ۔

۶ :  جب حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عمر بھر شریعت کی طرف ہی بلایا اور یہی راستہ ہمارے لئے چھوڑا تو شریعت کا خادم، اس کا حامی، اس کا عالم کیوں  حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا خادم نہ ہوگا ۔  ہم پوچھتے ہیں  کہ اگر بالفرض شریعت صرف فرض، واجب، سنت، مستحب، حلال، حرام ہی کے علم کا نام ہے تو یہ علم رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہے یا ان کے غیر سے اگر اسلام کا دعوی رکھتا ہے تو ضرور کہے گا کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہی ہے جب یہ تسلیم ہے تو اس کا عالم حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وارث نہ ہوگا تو کس کا ہوگا ۔  علم بھی حضور کا، ترکہ بھی حضور کا پھر اس شریعت کا پانے والا حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وارث نہ ہو اس کا کیا مطلب ہے ؟ اور اگر اس کے جواب میں  کوئی یہ کہے کہ یہ علم تو ضرور سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہے مگر اس نے دوسرا حصہ یعنی علم باطن حاصل نہ کیا لہٰذا یہ وارث نہیں  تو ایسے آدمی سے کہا جائے گا کہ اے جاہل !کیا وارث کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مورث (وراثت چھوڑنے والے ) کا کل مال پائے ؟اگر ایسا ہو تو جہاں  میں  کوئی عالم، کوئی ولی، کوئی صدیق انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کا وارث نہ بن سکے گا کیونکہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کا کل علم تو غیر انبیاء کو مل ہی نہیں  سکتا ۔  اس صورت میں  تو نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں  معاذ اﷲ  غلط ہو کر محال ہوجائے گا ۔

اور گر بالفرض شریعت وطریقت دوجدا راہیں  مانیں  اور دونوں  میں  قطرہ و دریا کی نسبت مانیں  یعنی شریعت کو قطرہ اور طریقت کو دریا مانیں  جس طرح یہ جاہل عمرو بکتا ہے جب بھی یہ کہنا کہ علمائے شریعت انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کے بالکل وارث نہیں  محض پاگل ہے کیونکہ وراثت چھوڑنے والے کے ترکہ سے جس کو بالکل تھوڑا سا حصہ ملا وہ بھی وارث ہوتا ہے ۔  اور انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کے علم میں  تو جس کو ملا تھوڑا ہی ملا ۔

بلکہ اگر شریعت و طریقت کی جدائی فرض کرلیں  تو بھی بطورِ انصاف حدیث اِن طریقت سے جاہل شیطان کے مسخروں  پر الٹی پڑے گی ۔  یعنی علمائے ظاہر ہی انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے وارث ٹھہریں  گے اور علماء باطن وراثت انبیاء سے محروم ٹھہریں  گے ۔  کیونکہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلام نبی بھی ہوتے ہیں  اور ولی بھی اور علوم نبوت وہ ہوتے ہیں  جنھیں  شریعت کہتے ہیں  جس کی طرف وہ عام امت کو دعوت دیتے ہیں  اور علوم ولایت وہ ہوتے ہیں  جن کو یہ جاہل طریقت کہتے ہیں  اور وہ خاص خاص لوگوں  کو خفیہ علوم دیئے جاتے ہیں  تو علماء باطن جو علومِ ولایت کے وارث ہوئے وہ اولیاء کے وارث ٹھہرے نہ کہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کے … انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کے وارث تو یہ علمائے ظاہر ہی ٹھہرے جنہوں  نے علوم نبوت پائے مگر یہ اس جاہل کی شدید جہالت ہے کہ شریعت و طریقت کو جدا راہیں  سمجھا ہرگز یہ دونوں  جدا راہیں  نہیں  اور نہ ہی اولیاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کبھی غیر علماء ہوتے ہیں  علامہ مناوی شرح جامع صغیر پھر عارف باﷲ  سیدی عبد الغنی نابلسی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ حدیقہ ندیہ میں  فرماتے ہیں  کہ امام مالکِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  ’’ علم باطن وہی جانتا ہے جو علم ظاہر جانتا ہے ‘‘ اور امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  ‘‘ اﷲ  نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دیدیا اس کے بعد ولی کیا  ۔ علم باطن‘ علم ظاہر ہی کا نتیجہ ہوتا ہے تو جو علم ظاہر نہیں  رکھتا وہ علم باطن کیسے پاسکتا ہے اﷲ  تبارک وتعالیٰ کے متعلق بندوں  کے لئے پانچ علم ہیں ۔  (۱) علم ذات، (۲) علم صفات، (۳) علم اسماء، (۴) علم افعال، (۵) علم احکام  ۔ ان علوم میں  ہر پہلا علم دوسرے کی بنسبت زیادہ مشکل ہے یعنی پہلا علم سب سے مشکل

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن