دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shariat-o-Tareeqat | شریعت و طریقت

book_icon
شریعت و طریقت

ابھاریں  علماء دین نے ایسے تمام اقوال کے ردبارہا پیش کئے ہیں  ۔ مثلاً حضرت سید علی مرصفی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ایک قول ہے جسے بعض لوگ مجتہدین کرام کے خلاف پیش کرتے ہیں  ہم اسے اس کے رد سمیت ذکر کرتے ہیں  چنانچہ امام عبد الوہاب شعرانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  ۔ ’’ میں نے حضرت علی مرصفی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بارہا فرماتے سنا کہ مجتہدین کرام رسول اﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے وارث تھے ۔  علم حقیقت اور علم شریعت دونوں  میں  بخلاف بعض صوفی ہونے کا دعویٰ کرنے والوں  کے کہ انہوں  نے کہا ۔  مجتہدین صرف علم شریعت میں  نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے وارث تھے حتی کہ بعض لوگوں  نے یہ کہہ دیا وہ تمام علم جسے مجتہدین جانتے ہیں  طریقت میں  کامل آدمی کے علم کا چوتھائی حصہ ہے ۔  کیونکہ ہمارے نزدیک کوئی مرد اس وقت تک کامل نہیں  ہوتا جب تک کہ اپنے مقام ولایت میں  قولِ الٰہی الاول والآخر و الظاہر والباطن کی چاروں  بارگاہوں  کے علوم کا محقق نہ ہوجائے اور مجتہدین کو صرف اللہ تَعَالٰیکے اسم مبارک ’’ الظاہر‘‘ کی بارگاہ کے علوم کی تحقیق ہے اور بس نہ انہیں  حضرت ازل کا علم ہے نہ حضرت ابد کا اور نہ علم حقیقت کا ہے اور میں  کہتا ہوں  کہ یہ کلام جو مجتہدین کے بارے میں  ہے کسی جاہل کا ہے ۔  جو ائمہ کرام کے احوال نہیں  جانتا وہ جو زمین کے اوتاد اور دین کی بنیاد ہیں  حقیقت میں  جلیل القدر ولی اور کشف ومعرفت والوں  میں  انتہائی عظیم مرتبہ رکھنے والے ہیں ۔  وہ جس طرح ظاہر کے امام ہیں  قطعا یقینا وہ باطن کے امام بھی ہیں ‘‘ ۔  (میزان الشریعۃ الکبریٰ ص ۴۹ مطبوعہ مصر) امام عبد الوہاب شعرانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی کتاب میزان الشریعۃ الکبریٰ میں  اس قسم کے بیانات کے دریا لہرارہے ہیں  اور صفحات کے صفحات بھرے ہوئے ہیں  ان میں  سے چند ایک عبارتیں  ہم نقل کرتے ہیں ۔  فرمایا ’’ یہ اس لئے کہ حقیقت میں  انہوں  نے یعنی مجتہدین نے اپنے مذاہب کے اصولوں  کی بنیاد علم حقیقت پر رکھی ہے ۔  جو شریعت کا اعلیٰ مرتبہ ہے اور ان کے مذاہب کی بنیاد شریعت کی سیدھی حدپر ہے ۔  بلاشبہ وہ علمائے حقیقت بھی تھے بخلاف اس کے جو بعض مقلدین نے گمان کرلیا کہ وہ علمائے حقیقت نہیں  محض علمائے شریعت ہیں ۔ ‘‘ پھر امام شعرانی نے قسم کھا کر ارشاد فرمایا ’’ جو شخص ہم سے اس معاملہ میں  جھگڑا کرے وہ ائمہ کرام کے مرتبے سے جاہل ہے ۔  اﷲ  کی قسم قطعا یقینا وہ علمائے کرام شریعت و طریقت کے جامع تھے ‘‘ ۔  پھر امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدی علی خواص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا اپنے کانوں  سے سنا ہوا وہ ارشاد نقل کرتے ہیں ۔  جس سے مجتہدین کرام کا بلند مرتبہ اور حقیقت و شریعت دونوں  میں  ان کا اولیاء کا امام ہونا دوپہر کے سورج اور چودھویں  رات کے چاند کی طرح واضح و روشن ہوجائے فرماتے ہیں ۔  ’’ میں  نے حضرت سیدی علی خواص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو فرماتے سنا ائمہ کرام نے اپنے مذاہب کی تائید شریعت کے ساتھ حقیقت کے اصول پر چلنے سے فرمائی تاکہ اپنے پیروکاروں  پر ظاہر کردیں  کہ وہ دونوں  طریقوں  کے علماء ہیں  اور ارشاد فرماتے تھے ۔  کہ ائمہ اربعہ میں  سے کسی کے اقوال میں  سے ایک قول کا بھی دائرہ شریعت سے خارج ہوجانا اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیھم کے نزدیک قطعا ناممکن ہے ۔  کیونکہ وہ مجتہدین کتاب وسنت اور اقوال صحابہ کی مراد پر مطلع ہیں  اور اس لئے کہ وہ صحیح کشف رکھتے ہیں  اور اس لئے کہ ان میں  سے ہر ایک کی روح حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی روح مبارک کے ساتھ جمع ہوتی ہے اور جس مسئلہ میں  دلائل کی وجہ سے توقف ہو تو وہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے پو چھ لیتے ہیں  کہ یہ حضور کا ارشاد ہے یا نہیں  وہ اہل کشف کی شرائط کے مطابق حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے سامنے جاگتے ہیں  اور حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے کتاب و سنت سمجھتے ہیں  پھر اسے اپنی کتابوں  میں  نقل کرتے ہیں  اور عرض کرتے ہیں  یارسول اﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہم اس آیت سے یہ سمجھے اور حضور کی فلاں  حدیث سے یہ سمجھے حضور اسے پسند فرماتے ہیں  یا نہیں  ‘‘ ۔  (میزان الشریعۃ الکبریٰ ص ۴۷) وہی حضرت علی خواص سے یہ ارشاد فرماتے ہیں ۔  ’’ ہم نے جو ائمہ مجتہدین کا کشف اور ان کا روحانی حیثیت سے حضور اقدس صلی اللہ تَعَالٰیعلیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں  حاضر ہونا ذکر کیا ہے ۔  جسے اس بارے میں  یقین نہیں  آتا اور وہ تردد کا شکار ہے ہم اس سے کہتے ہیں  کہ یہ بھی اولیاء کرام کی کرامات میں  سے ہے ۔  اگر ائمہ مجتہدین ہی اولیاء نہیں  تو کائنات میں  کوئی بھی ولی نہیں ۔  بکثرت ایسے اولیاء جو مقام ومرتبہ میں  ائمہ مجتہدین سے یقینا کم ہیں  ان کے بارے میں  مشہور ہے کہ انہیں  کثرت سے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں  حضوری نصیب ہوتی ہے ۔  اور اس بات پر ان کے ہم زمانہ بزرگ ان کی تصدیق فرماتے ہیں ۔  وہ اولیاء کرام جن کو حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن