30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لئے جوان کا پیر وکارہویا ایسوں کے کاموں کو اچھا جانے اور یہ بربادی اس لئے ہے کہ وہ راہ خدا کے ڈاکو ہیں ۔ ‘‘(حدیقہ ندیہ ص۱۳۰، ۱۳۱، ج ۱ مطبوعہ مصر)
چوّنواں قول : سلسلہ چشتیہ اشرفیہ کے سردار، قطب ربانی حضرت مخدوم اشرف جہانگیر چشتی سمنانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ۔ ’’ خلاف عادت فعل اگر ولایت سے متصف کسی شخص سے ظاہر ہو تو اسے کرامت کہتے ہیں اور اگر کسی شریعت کے مخالف سے ظاہر ہو تو استدراج کہتے ہیں ۔ ‘‘ (لطائف اشرفیہ ص ۱۲۶)
پچپنواں قول : حضرت نجم الدین کبریٰ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِکے بالواسطہ خلیفہ حضرت رکن الدین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِاپنے شیخ و مرشد سے روایت کرتے ہیں ۔ ’’ جب تک دل شریعت کو مکمل طور پر نہ تھام لے تب تک ولایت میں قدم رکھنا ناممکن ہے ۔ بلکہ اگر شریعت کا انکار کرے تو کافر ہوجائے گا ۔ ‘‘(نفحات الانس ص ۲۸۷)
چھپّنواں قول : شیخ الاسلام حضرت احمد نامقی جامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت خواجہ مودود چشتی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا پہلے مصلّٰی ایک طرف رکھو اور جا کر علم سیکھو کیونکہ بغیر علم کے زُہد و تقویٰ میں پڑنے والا شیطان کا مسخرہ ہے ۔ ‘‘(نفحات الانس ص ۲۱۰) یہ قول ایک نفیس ولطیف حکایت کاحصّہ ہے ۔ ہم اس حکایت کا خلاصہ پیش کرتے ہیں تاکہ اس کلام کا مطلب معلوم ہو اور سلسلہ چشتیہ بہشتیہ کے سردار خواجہ مودود چشتی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ سے وہم دور ہو اور آجکل کے بہت سے وہ حضرات جو ولایت کی مسند کو اپنے باپ کی وراثت سمجھتے ہیں ان کے لئے ہدایت وعبرت کا سبب ہو ۔ حضرت خواجہ مودود چشتی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسلسلہ چشتیہ کے جلیل القدر بزرگوں اور سرداروں کی اولاد میں سے تھے ۔ ان بزرگوں کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے آباؤ اجداد کے منصب پر بیٹھے ۔ ہزاروں لوگ مرید ہوئے مگر صاحبزادہ صاحب ابھی نہ تو عالم ہوئے تھے ۔ اور نہ ہی راہ طریقت میں کسی کامل مُرشِد کی تعلیم سے چلے تھے ۔ اللہ تَعَالٰیکی عنایت ان کے شامل حال ہوئی کہ ان کی تعلیم و تربیت کے لئے حضرت شیخ الاسلام سیدی احمد نامقی جامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ہرات بھیجا جب یہ بزرگ ہرات پہنچے تو لوگ ان کی عظیم الشان کرامات دیکھ کر ان کے مرید و معتقد ہوگئے اور ان کا شہرہ ہر طرف پھیل گیا ۔ خواجہ مودود چشتی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ کو یہ بات ناگوار محسوس ہوئی اور ارادہ کیا کہ حضرت احمد جامی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ کو ملک سے نکال دیں چنانچہ مریدوں کا لشکر لیکر حرکت میں آئے حضرت شیخ الاسلام احمد جامی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ کے ساتھیوں کو اس بات کی اطلاع ملی لیکن انہوں نے براہ ادب حضرت کو نہ بتایا مگر حضرت خود ہی خوب جانتے تھے ۔ ایک دن جب صبح کا کھانا حاضر کیا گیا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ٹھہرو ابھی کچھ قاصد آنے والے ہیں ۔ تھوڑی دیر بعد خواجہ مودود کے قاصد حاضر ہوگئے ۔ حضرت والا نے انہیں کھانا کھلایا پھر فرمایا تم کہو گے یا میں بتادوں کہ تم کس لئے آئے ہو ۔ انہوں نے عرض کی آپ ہی فرمادیں فرمایا تمہیں خواجہ مودود نے بھیجا ہے کہ جا کر مجھے یہ کہہ دو کہ تم ہماری ولایت میں کیوں آئے ہو سیدھی طرح واپس جانا ہے تو چلے جاؤ ورنہ جس طرح چاہیں گے نکال دیں گے ۔ قاصدوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہاں خواجہ مودود نے یہی پیغام دے کر بھیجا تھا ۔ حضرت احمد جامی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ نے اس پر فرمایا اگر ولایت سے مراد یہ دیہات ہیں ۔ تو یہ نہ اوروں کی مِلک ہیں اور نہ خواجہ مودود کی اور اگر ولایت سے مراد یہ لوگ ہیں تو یہ لوگ سنجر کے بادشاہ کی رعایا ہیں اس اعتبار سے تو بادشاہ شیخ الشیوخ بنتا ہے اور اگر ولایت سے مراد وہ ہے جو میں جانتا ہوں اور جسے اولیاء جانتے ہیں تو کل ہم انہیں دکھا دیں گے کہ ولایت کا کام کیا اور کیسا ہوتا ہے قاصدوں کو یہ جواب دے کر بھیج دیا ۔ پھر بارش شروع ہوگئی اور ایک دن رات مسلسل برستی رہی دوسرے دن صبح کے وقت حضرت احمد جامی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ نے فرمایا گھوڑے تیار کرو تاکہ خواجہ مودود کی طرف چلیں ساتھیوں نے عرض کی حضور ندی میں پانی بہت آگیا ہے ۔ اب جب تک چند روز تک بارش موقوف نہ رہے کوئی ملاح بھی کشتی نہیں لے جاسکتا آپ نے فرمایا کچھ مشکل نہیں آج ہم ملاحی کریں گے ۔ جب سوار ہو کر جنگل میں پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کا ایک بہت بڑا گروہ ہتھیار لے کر موجود ہے فرمایا یہ لوگ کیوں جمع ہیں عرض کی گئی ان کو معلوم ہوا کہ آپ کے مقابلے کے لئے کوئی جماعت آئی ہے چونکہ یہ آپ کے مرید اور محبت کرنے والے ہیں اس لئے آپ کے ساتھ چلنے کے لئے آئے ہیں ۔ فرمایا انہیں واپس کردو تیر تلوار کا بادشاہ سنجر کا کام ہے اولیاء کے ہتھیار اور ہی ہوتے ہیں الغرض چند خدّام کو لے کر ندی کے کنارے پہنچے پانی خوب چڑھا ہوا تھا آپ نے فرمایا ہم نے کہا تھا کہ ملاحی ہم کریں گے یہ کہہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع