30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان کر آئے ہیں کہ درخت کٹ جائے تو آئندہ پھل کی امید نہ رہی مگر جو پھل آچکے ہیں وہ باقی ہیں لیکن یہاں شریعت و طریقت میں جیسے ہی درخت کٹے گا آئے ہوئے پھل بھی فنا ہو جاتے ہیں اور فنا ہوتے ہی بس نہیں بلکہ انسان کا دشمن ابلیس لعین غلیظ اور گوبر کے پھل جادو سے بنا کر اس کے منہ میں دیتا ہے اور یہ جہالت سے انہیں حقیقت کا پھل سمجھ کر خوشی خوشی نگلتا ہے جب آنکھ کھلے گی تو اس وقت پتہ چل جائے گاکہ منہ میں کیا بھرا تھا اس بات سے اﷲ کی پناہ ہے ۔
شریعت و طریقت کے لئے زیادہ موزوں مثال پان اور اسکی بیل کی ہے کہ پان خوشبو والا، اچھے رنگ والا، اچھے ذائقے والا، فرحت بخش، دل و دماغ کو تقویت دینے والا، خون صاف کرنے والا، منہ کی بو اچھی کرنے والا، چہرے پر سرخی لانے والا اور زینت کا باعث ہوتا ہے اور پھر اس کا عجیب خاصہ یہ جیسے ہی پان کی بیل سوکھے پان جہاں جہاں ہوں فوراً سوکھ جاتے ہیں اور شریعت بھی ایسے ہی ہے کہ اس کا پھل ’’طریقت‘‘ بہت فائدہ والا ہے مگر جیسے ہی اس کی اصل یعنی شریعت آدمی سے جدا ہو طریقت کے پھل بھی فوراً بے فائدہ ہوجاتے ہیں ۔
اکتالیسواں قول : امام عبد الوہاب شعرانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیرو مرشد حضرت علی خواص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ’’ علم کشف یہ ہے کہ اشیاء جس طرح واقع اور حقیقت میں ہیں اسی طرح ان کے متعلق خبر دے اور جب تُو اس کشف کی تحقیق کرے گا تو ہرگز اسے شریعت کے خلاف نہ پائے گا بلکہ وہ عین شریعت ہی ہے ‘‘ ۔ ( میزان الشریعۃ الکبریٰ ص ۴۹)
بیالیسواں قول : نیز مذکور بزرگ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُارشاد فرماتے ہیں ’’ علمائے ظاہر ہوں یا علمائے باطن سب کے چراغ شریعت ہی کے نور سے روشن ہیں لہٰذا ائمہمجتہدین اور ان کے مُقَلِّدین کسی کا کوئی قول ایسا نہیں کہ حقیقت والوں کے اقوال ان کی تائید نہ کرتے ہوں ہمارے نزدیک اس میں کوئی شک نہیں نیز انہوں نے فرمایا ’’ تمام علمائے امت کے دلوں کو رسول اﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قلب اقدس سے مدد پہنچتی ہے تو ہر عالم کا چراغ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہی کے نور باطن کے شمع دان سے روشن ہے ۔ ‘‘ (میزان الشریعۃ الکبریٰ ص ۴۹)
تینتالیسواں قول : نیز آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِہی فرماتے ہیں ۔ ’’صحیح اور سچا علم کشف کبھی بھی شریعت مطہرہ کے خلاف نہیں آتا‘‘ ۔ (کتاب الجواہر والدرر الامام الشعرانی ص ۲۵۵ مطبوعہ مصر)
چوّالیسواں قول : نیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِہی ارشاد فرماتے ہیں ’’ہر حقیقت شریعت ہے اور ہر شریعت حقیقت ہے یعنی ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے خلاف کبھی نہیں ہوسکتی‘‘ ۔ (میزان الشریعۃ ص ۵۰ مطبوعہ مصر)
پینتالیسواں قول : جلیل القدر امام حضرت عبد الوہاب شعرانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ۔ ’’حجۃ الاسلام امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاور دیگر بزرگوں نے تصریح کی ہے کہ اللہ تَعَالٰینے شیطان کو قدرت دی ہے ۔ کہ کشف والا آدمی آسمان و عرش وکرسی ولوح وقلم جہاں سے علوم حاصل کرتا ہے وہاں کی تصویریں بنا کر شیطان آدمی کے سامنے کردے اور حقیقت میں وہ عرش و کرسی ولوح و قلم نہ ہوں بلکہ شیطان کا دھوکہ ہو اور شیطان اس دھوکے سے اپنا شیطانی علم اس کے دل میں ڈال دے اور یہ کشف والا اسے اﷲ کی طرف سے سمجھے اور اس پر عمل کرکے خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے ۔ اسی لئے اولیاءے کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کشف والے پر واجب قرار دیا ہے کہجو علم اسے کشف کے ذریعے سے حاصل ہو اس پر عمل کرنے سے پہلے اسے کتاب و سنت پر پیش کرے اگر ان کے موافق ہو تو عمل کرے ورنہ اس پر عمل کرنا حرام ہے ۔ ‘‘ (میزان الشریعۃ ص ۱۳ مطبوعہ مصر)
اے نابیناؤ ! تم نے شریعت کی طرف محتاجی دیکھی شریعت کا دامن نہ تھاما تو شیطان کچے دھاگے کی لگام دے کرتمہیں گھمائے پھرے گا اس لئے حدیث میں بغیر فقہ پڑھے عبادت کرنے والے کو چکی کا گدھا قرار دیاہے ۔
چھیالیسواں قول : نیز امام شعرانی فرماتے ہیں ’’وِلایت کی انتہا کبھی نُبوّت کی ابتداء تک نہیں پہنچ سکتی ۔ اور اگر کوئی ولی اس چشمہ تک بڑھے جس سے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلام فیض لیتے ہیں ۔ تو ولی جل جائے اولیاء کرام کی انتہا یہی ہے کہ شریعت محمدیہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے مطابق عبادات بجالاتے رہیں خواہ کشف حاصل ہو یا نہیں اور جب کبھی کوئی شریعت سے نکلے گا ہلاک ہوجائے گا اور ان کی مدد کٹ جائے گی ۔ اور انہیں کبھی ممکن نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بذات خود بغیر شریعت کے واسطے کے لیں ۔ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ تمام انبیاء واولیاء حضور انور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع