30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شخص موجود نہیں ۔ لہٰذا محض ظاہر دیکھنے والوں نے شریعت و حقیقت کو جدا سمجھ رکھا ہے ‘‘ ۔ (الیواقیت والجواہر ص ۳۵)
سبحان اﷲ اس عبارت سے پتہ چلا کہ اہل ظاہر یعنی علماء اگر علومِ حقیقت کونہ سمجھیں تووہ معذور ہیں کہ وہ شریعت کے نیچے والے دائرے میں ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص ولایت کا دعویٰ کرے اور ظاہری علم کا انکار کرے وہ جھوٹا اور فریبی ہے کیونکہ اگر وہ حقیقتاً اوپر والے دائرے تک پہنچا ہوتا تو نیچے والے دائرے کا انکار نہ کرتا اور اس سے جاہل نہ ہوتا ۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ ظاہر علم والے جڑیں اور باطنی علم والے شاخیں ۔ اگر شاخیں کاٹ دی جائیں تو اصل درخت باقی رہتا ہے لیکن اگر کوئی بلند شاخ پر پہنچ کر جڑ کاٹ دے تو اس کی ہڈی پسلی کی خیر نہیں نیز اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اہل ظاہر اگر شریعت و حقیقت کو جدا سمجھے تو ان کی غلطی ہے مگر اس وجہ سے وہ اپنے علم میں جھوٹے نہ ہوں گے ۔ لیکن اگر تصوف کا دعویٰ کرنے والا علم ظاہر کا انکار کرے اور شریعت و طریقت کو جدا سمجھے تو وہ قطعاً جھوٹا اور مکار ہے ۔
اڑتیسواں قول : حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ۔ علوم الٰہیہ میں ولی کاکشف اس علم سے آگے نہیں ہوسکتا جو اس کے نبی کی کتاب اور وحی عطا فرمارہی ہے ۔ اس مقام میں حضرت جنید نے فرمایا ہمارے یہ علم کتاب وسنت کی قیدمیں ہیں ۔ ایک اور عارف نے فرمایا جس کشف کی گواہی قرآن وحدیث نہ دیں وہ کچھ بھی نہیں تو ہرگز کسی ولی کے لئے قرآن مجید کے فہم کے بغیر کچھ کشف نہیں ہوسکتا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا اور موسی علیہ السلام کی تختیوں کے متعلق فرماتا ہے ۔ ہم نے اس کے لئے تختیوں میں ہر چیز سے کچھ لکھ دیا ۔ تو سوباتوں کی ایک بات یہ ہے کہ ولی کا علم کتاب وسنت سے باہر نہ جائے گا ۔ اور اگر کچھ باہر ہوجائے تو وہ علم نہ ہوگا اور نہ ہی کشف ہوگا ۔ بلکہ اگر تم تحقیق کرو تو ثابت ہوجائے گا کہ وہ جہالت تھی ‘‘ (فتوحات مکیہ ۷۲ / ۳)
انتالیسواں قول : حضرت شیخ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ۔ ’’اﷲ تیری مدد کرے یقین جان ، کر امت اللہ تَعَالٰیکے نام مبارک (بَرٌّ) کے طفیل سے آتی ہے ۔ لہٰذا اسے صرف نیک لوگ ہی حاصل کرتے ہیں ۔ اور اس کرامت کی دو قسمیں ہیں ۔ (۱)حِسِّیّہ یعنی حواس سے معلوم ہونے والی، (۲) معنویّہ محض دل سے معلوم ہونے والی ۔ ان میں سے عوام صرف پہلی قسم کی کرامت کو جانتے کیونکہ وہ اسے اپنے حواس آنکھ کان وغیرہ سے جانتے ہیں اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے کسی کے دل کی بات بتادینا، گزشتہ، موجودہ، آئندہ کی غیب کی باتیں بتادینا، پانی پر چلنا، ہوا پر اڑنا، بہت لمبا فاصلہ چند قدم میں طے کر لینا، آنکھوں سے چھپ جانا کہ آنکھوں کے سامنے موجود ہوں مگر نظر نہ آئیں اور دوسری قسم کی وہ کرامات ہیں جنہیں کرامات معنویہ کہتے ہیں اسے صرف خاص لوگ ہی پہچانتے ہیں عوام نہیں اور وہ یہ ہیں کہ اپنے نفس پر شریعت کے آداب کی پابندی لگائے رکھے عمدہ خصلتیں حاصل کرے اور اسے بری عادتوں سے بچنے کی توفیق دی جائے تمام واجبات کو ٹھیک وقت پر ادا کرنے کی پابندی کرتا رہے انکرامتوں میں دھوکے اور فریب کا دخل نہیں ہوتا اور وہ کرامتیں جن کو عوام پہچانتی ہیں ان میں دھوکہ اور فریب کا دخل ہوسکتا ہے ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ظاہر کرامتیں جنہیں عوام دیکھتی ہیں جس آدمی سے ظاہر ہوں اسے شریعت پر استقامت کے نتیجے میں حاصل ہوں یا وہ کرامات خود استقامت پیدا کردیں ورنہ وہ کرامات نہ ہوں گی اور کرامات معنویہ میں مکرو فریب کا دخل نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ علم ان کے ساتھ ہے اور علم کی قوت اور اس کا شرف خود ہی تجھے بتائے گا کہ ان میں دھوکے کا دخل نہیں اس لئے کہ شریعت کی حدیں کسی کے لئے دھوکے کا پھندا قائم نہیں کرتیں ۔ انہی وجوہات کی بنا پر شریعت سعادت حاصل کرنے کا صاف اور روشن راستہ ہے ۔ علم ہی مقصود ہے اور اسی سے نفع پہنچتا ہے ۔ اگرچہ اس پر عمل نہ بھی ہو ۔ کیونکہ اللہ تَعَالٰینے مطلقاً ارشاد فرمایا کہ عالم و بے علم برابر نہیں تو علماء ہی دھوکے اور فریب سے امان میں ہیں ۔ ‘‘ (فتوحات مکیہ ص ۴۸۷ ج ۲)
چالیسواں قول : تمام قطبوں میں جو سب سے اعلیٰ اور ممتاز قطب ہیں وہ چار ہیں اول حضور غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہدوسرے حضرت سید احمد رفاعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتیسرے سید احمد کبیر بدوی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور چوتھے سیدی حضرت ابراہیم دسوقی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُیہ چوتھے جلیل القدر بزرگ ارشاد فرماتے ہیں ۔ ’’ شریعت درخت ہے اور حقیقت پھل ہے ۔ ‘‘ (طبقات کبریٰ ص ۱۶۸) درخت اور پھل کی نسبت بھی یہی بتارہی ہے کہ درخت قائم ہے تو جڑ موجود ہے مگر جو جڑ ہی کاٹ بیٹھا وہ نرا محروم و مردود ہے پھر اس مثال کی بھی وہی حالت ہے ۔ جو ہم دریا و سرچشمہ کے بارے میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع