30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علمائے ظاہر کے دل صفائی قلب کے جہان اور گندگی کی دنیا کے درمیان واسطہ ہیں ۔ مرادیہ ہے کہ اولیاء و عوام کے درمیان واسطہ ہیں اور عام مخلوق پر رحمت ہیں کیونکہ غیب کی باتوں اور حقیقت کے علوم تک عوام کی رسائی نہیں اور یہی علماء وہ فیوض وبرکات عوام تک پہنچاتے ہیں ‘‘ ۔ (طبقات کبریٰ ص ۱۸۹)
یہ قول صراحۃً اس بات کی دلیل ہے کہ علماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کے وارث ہوتے ہیں کیونکہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام اسی لئے بھیجے جاتے ہیں کہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہوں اس مخلوق کے لئے جو بارگاہِ غیب و حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ۔
اکتیسواں قول : سلسلہ سہروردیہ کے پیشوا حضرت شہاب الدین سہروردی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ۔ ’’ فتنہ کے مارے ہوئے کچھ لوگوں نے صوفیوں کا لباس پہن لیا ہے تاکہ صوفی کہلائیں حالانکہ ان کو صوفیوں سے کچھ تعلق نہیں بلکہ وہ دھوکے اور غلطی میں ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے دل خالص خدا کی طرف ہوگئے اور یہی مراد کو پہنچنا ہے اور شریعت کے طریقوں کی پابندی کرنا عوام کا کام ہے ان کا یہ قول خالص بے دینی اور زندیقی ہے اور اﷲ کی بارگاہ سے دور کیا جانا ہے کیونکہ جس حقیقت کو شریعت رد کردے وہ حقیقت نہیں بے دینی ہے پھر انہوں نے حضرت جنید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا قول نقل کیا کہ چوری اور زنا کرنے والے ایسے لوگوں سے بہتر ہیں ‘‘ ۔ (عوارف المعارف ص ۴۲ ج ۱ مطبوعہ مصر)
بتیسواں قول : حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی کتاب ’’ اعلام الہدی وعقیدۃ ارباب التقی‘‘ میں فرمایا ’’ جس شخص کے لئے اور جس کے ہاتھ پر کرامات ظاہر ہوں وہ احکامِ شریعت کا پورا پابند نہ ہو تو ایسا شخض بے دین ہے اور جو خلافِ عادت چیزیں اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوں وہ کرامات نہیں بلکہ دھوکہ اور استدراج ہے ‘‘ ۔ (نفحات الانس از مولانا جامی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ ص ۱۹)
تینتیسواں قول : حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ۔ ’’ ایک گروہ معرفت اور بارگاہِ الٰہی تک پہنچنے کا دعویٰ کرتاہے حالانکہ وہ صرف معرفت کا نام ہی جانتے ہیں اور انکا گمان یہ ہے کہ ان کا فعل سب اگلے پچھلوں کے علم سے اعلیٰ ہے لہٰذا وہ سب فقیہوں ، محدثوں ، مُفسّروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور تمام مسلمانوں اور علماء کو حقیر جانتے ہیں اور اپنے بارے میں اﷲ تک پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ حالانکہ وہ لوگ اﷲ کے نزدیک فاسقوں اور منافقوں میں سے ہیں ۔ ‘‘ (احیاء العلوم ص ۲۲۰ ج۳)
چونتیسواں قول : حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ۔ ’’علم ظاہر میں جو شریعت کا ترازو ہے اسے ہاتھ سے نہ پھینکنا بلکہ جو شریعت کا حکم ہے فوراً اس پر عمل کر ۔ اور اگر عام علماء کے خلاف تیری سمجھ میں ایسی بات آئے جو شریعت کے ظاہر حکم پر عمل کرنے سے تجھے روکے تو اس پر اعتماد نہ کرکیونکہ وہ معرفت نہیں بلکہ اس کی شکل میں ایک دھوکہ ہے جس کی تجھے خبر نہیں ۔ (الیواقیت والجواہر ص۲۲)
پینتیسواں قول : حضرت سیدی محی الدین ابن عربی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفتوحات میں فرماتے ہیں ۔ ’’ جان لو کہ شریعت کا ترازو جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین میں مقرر فرمایا ہے وہ وہی ہے جو علمائے شریعت کے ہاتھ میں ہے ۔ تو جب کوئی ولی شریعت کے اس پیمانے سے باہر نکلے حالانکہ اس کی عقل سلامت ہو تو ایسے شخص کا رد کرنا واجب ہے ‘‘ ۔ (الیواقیت والجواہر ص ۲۴)
چھتیسواں قول : نیز حضرت بحر الحقائق ممدوح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ۔ ’’جان لو کہ اولیاء و پیر حضرات کے پیمانے کبھی شریعت سے خطا نہیں کرتے اور وہ شریعت کی مخالفت سے محفوظ ہیں ‘‘ ۔ (الیواقیت ص ۲۵)
سینتیسواں قول : نیز شیخ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں ۔ ’’یقین جان کہ شریعت کا چشمہ ہی حقیقت کا چشمہ ہے کیونکہ شریعت کے دو دائرے ہیں ۔ ایک اوپر ایک نیچے ۔ اوپر کا دائرہ کشف والوں کے لئے ہے اور نیچے کا دائرہ فکر والوں کا ہے ۔ اہل فکر جب اہل کشف کے اقوال تلاش کرتے ہیں اور انہیں اپنی فکر کے دائرے میں نہیں پاتے توکہہ دیتے ہیں کہ یہ قول شریعت سے باہر ہے ۔ اس پر اہل فکر اہل کشف پر اعتراض کرتے ہیں مگر اہل کشف اہل فکر پر اعتراض نہیں کرتے اور جو کشف وفکر دونوں رکھتا ہے ۔ وہ اپنے وقت کا حکیم ہے ۔ لہٰذا جس طرح علوم فکر شریعت کا حصہ ہیں اسی طرح اہل کشف کے علوم بھی شریعت کا حصہ ہیں ۔ تو دونوں ایک دوسرے کو لازم ہیں اور آجکل کیونکہ دونوں پہلوؤں کا جامع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع