دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shareer Jinnat Ko Badi Ki Taqat Kehna Kaisa? | شریر جنات کوبدی کی طاقت کہنا کیسا؟

book_icon
شریر جنات کوبدی کی طاقت کہنا کیسا؟

ہے وہ بھی سیکھنے سکھانے اور عبادت کرنے میں صرف ہو،اَلبتہ اگر کسی کے  پاس کپڑوں  کے ایک یا  دو جوڑے ہوں  اور وہ  میلے یا ناپاک ہو گئے  ہوں اب  گھر  مسجِد کے قریب ہے  نہ کوئی دھو کر دینے والا اور نہ ہی پاس اتنے پیسےہیں  کہ لانْڈرِی سے  دُھلوا سکے  تو ایسی مجبوری کی حالت میں وہ وضو خانے پر  کپڑے دھو لے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ پانی کا ایک چھینٹا بھی مسجد کی  دَری یا فرش پر گرنے نہ پائے لہٰذا کسی بڑے برتن یا ٹب وغیرہ میں کپڑے  دھوئے جائیں۔ یوں ہی وضو کرتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وضو کی کوئی چھینٹ مسجد میں نہ گرے۔ میرے آقااعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنت،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ اِمام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ ” اگر معتکف کسی معقول وجہ سے مسجد ہی میں وُضو کرے تو اسے اِجازت ہوگی؟“ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے جواباً اِرشاد فرمایا :نہیں، مگر جبکہ وہ باحتیاط اِس طر ح وضو کرے کہ اُس کے وضو کی چھینٹ مسجد میں نہ گرے کہ اِس کی سخت ممانعت ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ فصیل  (یعنی حوض کی دیوار)پر وضو کیا اور ویسے ہی ہاتھ جھٹکتے فرشِ مسجد میں پہنچ گئے ،یہ ناجائز ہے ۔   میں نے ایک بار بغیر برتن کے خاص مسجد میں و ضو جائز طور پرکیا ،وہ یوں کہ پانی موسلا دھار پڑ رہا تھا اور میں معتکف، جاڑوں کے دن تھے،میں نے تَوشک  (یعنی روئی دار بستر) بچھا کر اور اِس پر لحاف ڈال کر وضو کر لیا۔ اس صورت میں ایک چھینٹ بھی مسجد کے فرش پر نہ پڑی ،پانی جتنا وُضو کا تھا توشک و لحاف نے جَذب کر لیا۔ ([1])

حالتِ اعتکاف میں  نہانے کا حکم

سُوال : معتکف غسل فرض ہونے کے عِلاوہ بھی نہا سکتا ہے یا نہیں؟نیز معتکف  کا وضو خانے پر صابن اِستعمال  کرنا کیسا ہے؟

جواب:اِستنجا  خانے اور غسل خانے عموماً فنائے مسجد ہی میں بنے ہوتے ہیں لہٰذا معتکف  بِلاتکلف اِن پر آ جا سکتا ہے،غسل بھی کر سکتا ہے اور صابن بھی اِستعمال کر سکتا ہے۔فرض غسل کے عِلاوہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے یا سُنَّت یا مستحب غسل  کرنے سے بھی معتکف کے اِعتکاف پر کوئی  اَثر نہیں  پڑتا مگر فرض غسل کے عِلاوہ غسل کرتے وقت یہ ضَرور دیکھ لیا جائے کہ اس کے لیے مناسب وقت اور پانی بھی موجود ہے یا نہیں۔اگر وقت ایسا  ہو کہ نہانے لگیں گے تو کسی بھی فرض  نماز کی جماعت یا خطبۂ جمعہ اور نمازِ جمعہ فوت ہو جانے کا اندیشہ ہے یا سیکھنے سکھانے کے حلقوں میں شرکت نہیں ہو پائے گی  یا پانی ختم ہو جائے گا جس کی وجہ سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو شدید مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا تو ایسی صورت میں سُنَّت یا مستحب غسل کرنے سے پرہیز کریں۔ویسے بھی مذہبِ حنفی میں  جمعہ کا غسل سنَّتِ غیرمؤ کدہ ہے جیسا کہ خَاتَمُ الْمُحَقِّقِیْن حضرتِ سیِّدُنا علّامہ ابنِ عابِدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامی فرماتے ہیں:نمازِ جمعہ کے لیے غسل کرنا سُنَنِ زَوائِد  (یعنی سنّتِ غیر مؤ کدہ)میں



[1]     ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،  ص ۲۳۶مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن