30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سَردارِ دوجہان،محبوبِ رحمٰن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رَحمت نشان ہے:مسلمان جب تک مجھ پر دُرُود شریف پڑھتا رہتا ہے فرشتے اُس پر رَحمتیں بھیجتے رہتے ہیں،اب بندے کی مرضی ہے کم پڑھے یا زیادہ ۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شیطان یا شریرجنات کو بَدی کی طاقت کہنا کيسا؟
سُوال:شیطان یا شریر جنات کو بَدی کی طاقت کہنا کیسا ہے؟
جواب:شیطان یا شریر جنات کو بَدی کی طاقت کہنا دَرحقیقت ان کے جسمانی وُجود کا اِنکار کرنا ہے اور یہ کُفر ہے جیسا کہ صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علَّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: (جِنّات ) کے وُجود کا اِنکار یا بَدی کی قوت کا نام جِنّ یا شیطان رکھنا کُفر ہے۔ ([2]) آج کل بعض نادان لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہم جنات کو نہیں مانتے، جنات کا وُجُود ہی نہیں ہے، یہ سب عقلی ڈھکوسلے (خرافات) ہیں ایسا کہنا کفر ہے کیونکہ قرآنِ پاک سے جنات کے وُجُود کا ثبوت ملتا ہے بلکہ قرآنِ پاک میں”سورۃُ الجِنّ“کے نام سے پوری ایک سورت ہے۔ جنات کے وُجُود کا اِنکار کرنا گویا قرآنِ پاک کی آیاتِ مبارکہ کا اِنکار کرنا ہے۔ پارہ 27 سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰت کی آیت نمبر 56 میں خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (۵۶)
ترجمۂ کنزُ الایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (یعنی اسی) لئے بنائے کہ میری بندگی کریں ۔
اور پارہ 14سورۃُ الحجر کی آیت نمبر 27 میں اِرشاد ہوتا ہے:
وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ (۲۷)
ترجَمۂ کنزُ الایمان:اور جِنّّ کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے۔
سُوال:کیا جِنّوں میں بھی مذاہب ہوتے ہیں؟
جواب:جی ہاں! جس طرح اِنسانوں میں مختلف مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح جنات میں بھی دِینِ اسلام کے ماننے اور نہ ماننے والے دونوں قسم کے گروہ موجود ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن کعب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّب فرماتے ہیں: جنات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع