30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نمازِ فجرکے ليے اُٹھنے میں سُستی کی وُجوہات
سُوال:نمازِ فجرکے لیے اُٹھنے میں بہت سُستی ہوتی ہےاس کی کیا وجہ ہے؟ نیز جلد بیدار ہونے کا نسخہ بھی اِرشاد فرما دیجیے۔
جواب:نمازِ فجرکے لیے بیدار ہونے میں سُستی کی ایک وجہ رات میں سیرہو کر کھانا کھانابھی ہے کیونکہ ڈَٹ کر کھانے سے نیند گہری آتی ہے لہٰذا کھانا کم کھائیں ، جب کھانا کم کھائیں گے تو نیند گہری نہیں آئے گی اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ صُبح آنکھ بھی جلد کُھلے گی۔
دوسری وجہ رات کو دیر سے سونا بھی ہے۔ اگر آپ رات دیر تک شاہراہوں پر گھومتے پھرتے رہیں گے یا رات میں نعت خوانی کے نام پر دو دو بجے تک بیٹھے رہیں گے پھرتین یا چار بجے جب سوئیں گے تو بھلا فجرمیں آنکھ کیسے کُھلے گی! اگر آپ کی اِن کوتاہیوں کی وجہ سے نمازِ فجر قضا ہوئی تو آپ گناہگار ہوں گے بلکہ رات کا اکثر حصّہ گزر جائے اور نمازِ فجر جانے کا اندیشہ ہو تو اب سونے کی شرعاً اجازت ہی نہیں جیسا کہ صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:دخولِ وقت کے بعد سو گیا پھر وقت نکل گیا تو قطعاً گنہگار ہوا جبکہ جاگنے پر صحیح اِعتماد یا جگانے والا موجود نہ ہو بلکہ فجر میں دخولِ وقت سے پہلے بھی سونے کی اِجازت نہیں ہوسکتی جبکہ اکثر حصّہ رات کا جاگنے میں گزرا اور ظن ہے کہ اب سو گیا تو وقت میں آنکھ نہ کھلے گی۔ ([1]) لہٰذا عشا کی نَماز پڑھ کر حتَّی الامکان دو گھنٹے کے اندر اندر سو جایئے، یہ مدنی اِنعامات میں سے ایک مدنی اِنعام بھی ہے کہ” کیا آج آپ نے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں پڑھا یا پڑھایا؟ نیز مسجدِ محلہ کی عشا کی جماعت کے وقت سے دو گھنٹے کے اندر اندر گھر پہنچ گئے ؟“
وقت پر بیدار ہونے کے لیے سوتے وقت اپنے سرہانے اَلارم والی گھڑی رکھ لیجیے جس سے آنکھ کُھل جائے مگر ایک عدد گھڑی پر بھروسا نہ کیجیے کہ بسااوقات نیند میں ہاتھ لگ جانے یا سیل (Cell)ختم ہو جانے یا یوں ہی خراب ہو کر بند ہو جانے کااندیشہ ہے لہٰذا دو یا حسبِ ضَرورت زائد گھڑیاں ہوں تو بہتر ہے۔اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: صرف ایک گھڑی پر اِعتماد نہیں کرنا چاہیے کہ بعض اوقات خود بخود آگے پیچھےہو جاتی ہے۔ ([2]) (شیخِ طریقت،اَمیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:)میں سوتے وَقت حتَّی الامکان تین گھڑیاں اپنے سرہانے رکھتا ہوں۔ اگر جذبہ ہو گا تو راہیں خود بخود کھلتی چلی جائیں گی اور اگر جذبہ نہیں ہو گا تو گھر کیا مساجد میں دورانِ اِعتکاف بھی کئی بدنصیب لوگ باجماعت نماز ادا کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں باعمل بنائے اور پانچوں نمازیں مسجد کی پہلی صف میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع