30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(یعنی جہنم کی آگ سے چُھٹکارا پانے کی رات) میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نظرِ رَحمت اور مغفرت سے محروم رہتا ہے جیسا کہ نبیوں کے سلطان،رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:میرے پاس جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام)آئے اورکہا:یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اِس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ جہنم سے اِتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر کافر اور عداوت والے (کینہ پَرور)اور رِشتہ کاٹنے والے، (تکبر کرتے ہوئے ٹخنوں سے نیچے)کپڑا لٹکانے والے، والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔ ([1])
یاد رکھیے! کینہ پَروَرْ بہت بڑا عبادت گزار ہی کیوں نہ ہو اُسے ڈر جانا چاہیے کہ یہ باطنی بیماری کہیں اس کی ساری نیکیوں پر پانی نہ پھیر دے کیونکہ پورے گودام کو جلانے کے لیے ایک چنگاری کافی ہوتی ہے،ایک تیلی جلا کر گودام میں ڈال دیجیے تو پورا گودام دیکھتے ہی دیکھتے جل کر راکھ بن جائے گا لہٰذا اپنے دِل کو کینۂ مُسلِم سے پاک کیجیے اور جس کے بارے میں دِل میں کینہ ہو اُسے اپنے سے بہتر جانتے ہوئے یہ ذہن بنائیے کہ ہو سکتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہو۔ بہرحال کوئی بھی ایسی ترکیب کی جائے کہ دِل کینۂ مُسلِم سے پاک ہو کر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محبت کا مدینہ بن جائے،اس ضمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے: حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کیمیائے سعادت میں نقل فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر کتانی قُدِّ سَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:ایک شخص نے میرے ساتھ دوستی کی مگر میرے دل میں بوجھ رہا۔ میں نے اُسے تحفہ دیا تا کہ دِل کی گِرانی دُور ہو مگر فائدہ نہ ہوا۔میں اُسے پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گیا اور کہا:اپنا پاؤں میرے چہرےپر رکھو۔ اُس نے اِنکار کیا،میں نے کہا:تجھے ایسا کرنا ہی پڑے گا چنانچہ اس نے اپنا پاؤں میرے چہرے پر رکھا تو میرے دل سےگِرانی دُور ہو گئی۔ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ہم اِس طرح نہیں کر سکتے تو کم ازکم جس سے بغض و کینہ ہو اسے حقیر جاننے سے بچتے ہوئے سلام و مصافحہ کرنے اور تحفہ وغیرہ دینے کی عادت بنانی چاہیے کہ اس سے بھی آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے اور بغض وکینہ دُور ہوتا ہے جیسا کہ حُضورِ پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:تَصَافَحُوْا یَذْہَبُ الْغِلُّ وَ تَہَادَوْا تَحَابُّوْا وَتَذْہَبُ الشَّحْنَاءُ یعنی مصافحہ کیا کرو کینہ دُور ہوگا اور تحفہ دیا کرو محبت بڑھے گی اور بُغْض دُور ہو گا([3])۔ ([4])
[1] شعب الایمان، باب فی الصیام، ما جاء فی لیلة النصف من شعبان ، ۳ / ۳۸۴، حدیث: ۳۸۳۷ دار الکتب العلمیة بیروت
[2] کیمیائے سعادت ، رکن دوم ، معاملا تست، حق پنجم، ۱ / ۳۸۰ اِنتشارات گنجینه تھران
[3] موطا امام مالک، کتاب حسن الخلق، باب ما جاء فی المھاجرة ، ۲ / ۴۰۷، حدیث: ۱۷۳۱
[4] مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 352 صفحات پر مشتمل کتاب ”باطنی بیماریوں کی معلومات “اور 83 صفحات پر مشتمل رسالے ”بغض وکینہ“ کا مطالعہ کیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس باطنی بیماری سے بچنے کا ذہن بنے گا۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع