30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِسیِدُنا کعب ُالاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:نمازی کے سامنے سے گُزرنے والا اگر جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے؟ تو زمین میں دَھنس جانے کو (نَمازی کے آگے سے)گُزرنے سے بہتر جانتا۔ ([1]) مُصَلِّی (نمازی)کے آگے ستُرہ ہو یعنی کوئی ايسی چیز جس سے آڑ ہو جائے، تو سُترہ کے بعد سے گُزرنے میں کوئی حَرج نہیں۔ ([2])
سُوال : سُترہ کیسا ہونا چاہیے؟نیز نمازی کے آگے سے گُزرنے کے لیے کیا چادر کا سُترہ کافی ہے ؟
جواب:سُترہ کم از کم ایک ہاتھ اونچا اور اُنگلی کے برابر موٹا ہو نا چاہیے لہٰذا جو چیز سُترہ بنائی جا رہی ہے اس کا کم ازکم ایک ہاتھ اونچا اور اُنگلی برابر موٹا ہو نا ضَروری ہے اگر اس مِقدار سے کم ہو گی تو سُترہ نہیں ہو گا۔فقہِ حنفی کی مشہور و معروف کتاب دُرِّمختار میں ہے:سُترہ ایک ہاتھ کی مِقدار اونچا اور اُنگلی برابر موٹا ہو۔ ([3])
رہی بات چادر کو سُترہ بنانے کی تو اگر کسی نے چادر کو اوپر سے پکڑ کر چھوڑ دیا اور نمازی کے آگے سے گزرا تو اس طریقے سے چادر کا سُترہ نہیں ہوسکتا اور گُزرنے والا گناہگار ہو گا۔
سُوال:کینہ کسے کہتے ہیں؟نیز کینہ پیدا ہونے کا سبب کیا ہے؟
جواب: کینہ دِل کی چھپی ہوئی دُشمنی کو کہتے ہیں،یہ ایک باطنی بیماری ہے ایسی باطنی بیماریوں کو مہلکات کہتے ہیں، ان کے بارے میں ضَروری اَحکامات کا جاننا مسلمان کے لیے فرضِ عین اور نہ جاننا گناہ ہے۔ کینہ پیدا ہونے کا بنیادی سبب”غُصَّہ“ہے جیسا کہ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :کینہ کا معنیٰ یہ ہے کہ ”انسان اپنے دل میں کسی کو (بِلا اجازتِ شرعی) بوجھ سمجھے اور ہمیشہ کے لیے اس سے بغض و عداوت رکھے اور نفرت کرے ۔“ جب انسان کو غصَّہ آتا ہے اور وہ اس وقت اِنتقام لینے سے عاجز ہونے کی وجہ سے غصہ پینے پر مجبور ہوتا ہے تو اس کا یہ غُصّہ باطِن کی طرف چلا جاتا ہے اور قرار پکڑ لیتا ہے پھر ” کینے“کی شکل اِختیار کر لیتا ہے۔ ([4])
بِلاوجہ شرعی بغض و کینہ رکھنے کا حکم
سُوال:کسی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں بغض و کینہ رکھنا کیسا ہے ؟
[1] موطا امام مالک ، کتاب قصر الصلاة فی السفر، باب التشدید فی أن یمر... الخ، ۱ / ۱۵۴، حدیث: ۳۷۱ دار المعرفة بیروت
[2] بہارِشریعت ، ۱ / ۶۱۵، حِصہ: ۳
[3] دُرِّمختار، کتابُ الصَّلا ة، بابُ ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا، ۲ / ۴۸۴
[4] احیاءُ العلوم ، کتاب ذم الغضب و الحقد و الحسد ، القول فی معنی الحقد...الخ ، ۳ / ۲۲۳ بتقدم و تاخر دار صادر بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع