30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی اِحتیاط کرنی چاہیے ۔ اگر کسی سے یہ غَلَطیاں ہوئی ہوں تو اُسے توبہ کرنی چاہیے ۔
فنائے مسجد میں دُنیوی باتیں کرنا اور قہقہہ لگانا
سُوال :فنا ئے مسجِد کسے کہتے ہیں؟نیز فنائے مسجد میں دُنیوی باتیں کرنے اور قہقہہ لگانے کا کیا حکم ہے؟
جواب:فنائے مسجِد سے مُراد وہ جگہ ہے جو ضَروریاتِ مسجِد کے لئے بنائی گئی ہو اور مسجِد کی چار دیواری یا حدود کے اندر ہو نیز اس کے اور اَصل مسجِد کے درمیان راستہ نہ ہو جیسا کہ فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتےہیں:فنائے مسجد وہ مکان ہے جو مسجِد سے متصل (یعنی مِلا ہوا) ہو اور دَرمیان میں راستہ نہ ہو۔ ([1])
رہی بات فنائے مسجد میں دُنیوی باتیں کرنے اور قہقہے لگانے کی تو اس کے متعلق میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:فصیلِ مسجد بعض باتوں میں حکمِ مسجِد میں ہے معتکف بِلا ضَرورت اس پر جا سکتا ہے اس پر تُھوکنے یا ناک صاف کرنے یا نَجاست ڈالنے کی اِجازت نہیں ، بیہودہ باتیں ،قہقہے سے ہنسنا وہاں بھی نہ چاہئے اور بعض باتوں میں حکمِ مسجد نہیں اس پر اَذان دیں گے ،اس پر بیٹھ کر وُضو کر سکتے ہیں۔ جب تک مسجد میں جگہ باقی ہو اس پر نَماز فرض میں مسجد کا ثواب نہیں،دُنیا کی جائز قلیل بات جس میں چپقلش (جھگڑا) ہو نہ کسی نَمازی یا ذاکِر (یعنی ذِکر کرنے والے)کی اِیذا (تو)اس میں حرج نہیں۔ ([2])
نمازی کے آگے سے گزرنے کی وعیدات
سُوال : نمازی کے آگے سے گزرنا کیسا ہے ؟
جواب:نمازی کے آگے سے گزرنا سخت گناہ ہے اَحادیثِ مُبارَکہ میں اس کی بہت سخت و عیدات بیان ہوئی ہیں چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا زید بن خالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا: اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جانتا کہ اُس پر کیا ہے؟ تو چالیس برس کھڑے رہنے کو گزرنے سے بہتر جانتا۔ ([3])
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اگر کوئی جانتا کہ اپنے بھائی کے سامنے نماز میں آڑے ہو کر گزرنے میں کیا ہے؟ تو سو برس کھڑا رہنا اس ایک قدم چلنے سے بہتر سمجھتا۔ ([4])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع