دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sharah us Sudoor | شرحُ الصُّدُوْر

ambiya kiraam kay jism mubarak say mutalliq bayan

book_icon
شرحُ الصُّدُوْر
            

باب نمبر54 : انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور ان سے مُلْحِق افرادکے سوا دیگر میتوں کے بدبودار ہونےاورجسم خراب ہونے کا بیان

جسم خراب ہونے کا بیان

حضرت سیِّدُناجُنْدُبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ’’سب سےپہلےمردےکاپیٹ بدبودارہوتا ہے۔ ‘‘(1)

حکمَتِ الٰہی :

حضرت سیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے ایک کتاب میں(اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمان) پڑھا کہ اگر میں میت کا بدبودار ہونا مقدر نہ فرماتا تو لوگ اسے اپنے گھر وں میں ہی رکھ لیتے۔ (2) حضرت سیِّدُنازیدبن اَرقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمرفوعاًروایت ہےکہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے : مىں نے تین چیزوں سے اپنے بندوں پروسعت کى : (۱)… غَلَّہ مىں گھن پىدا کردىا ورنہ بادشاہ اسے سونے چاندى کى طرح جمع کرلىتے(۲)…موت کے بعد جسم میں تَغَیُّر پیدا فرمادیاورنہ کوئی بھی اپنےدوست کودفن نہ کرتا اور (۳)…غمگىن کواس کا غم بھلادىا ورنہ اسے کبھی چین نہ آتا۔(3)

سب سےزیادہ خوشبودارچیز :

حضرت سیِّدُناابوقِلابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّنےروح سےزیادہ خوشبودارکوئی چیز پیدا نہیں فرمائی کہ جب روح کسی چیز سے نکلتی ہے تو وہ چیزبدبودار ہو جاتی ہے۔ (4)

جسم کی ہرچیزگل جائےگی سوائےایک ہڈی کے :

حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکےپیارےحبیب ، حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا : انسان کی ہرچیزگل جائےگی سوائے ایک ہڈی کےاوروہ ریڑھ کی ایک ہڈی ہے(5) اس سے قیامت کے دن مخلوق کو مُرکَّب کیا(یعنی دوبارہ بنایا)جائے گا۔ (6) حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : انسان کےپورےجسم کومٹی کھا لے گی سوائے ریڑھ کی ایک ہڈی کے کہ اس سے پیدا کیا گیا اور اسی سے دوبارہ اٹھایاجائے گا۔ (7) شارح مَواقِف حضرت سیِّدشریف علی بن محمدجُرجانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّبدن کے اجزاکومعدوم(یعنی بالکل ختم )کرکےپھرپیدافرمائےگایاانہیں مُنْتَشِرکرکےدوبارہ جمع فرمائےگا۔ حق یہ ہے کہ ان میں سےکوئی بات ثابت نہیں اور یقین کے ساتھ انکار کیا جاسکتا ہے نہ اثبات ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں میں سے کسی ایک پر بھی دلیل نہیں ہے اور اس فرمانِ باری تعالیٰ “ کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ یعنی ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے “ میں معدوم کرنے پردلیل نہیں ہے اس لئے کہ جس طرح معدوم کرناہلاک کرنا ہے اسی طرح مُنْتَشِروتَفریق کرنا بھی ہلاک کرنا ہے کیونکہ ہر شے کا ہلاک ہونا یہ ہے کہ اس کی وہ صفات ختم ہوجائیں جواس سےمطلوب ومقصودہوتی ہیں اورمجتمع شےکازائل ہونابھی ایساہی ہےاوراسی عمل کوعرفی طور پرفنا کہتےہیں لہٰذااس فرمانِ باری تعالیٰ “ کُلُّ مَنْ عَلَیۡہَا فَانٍیعنی زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے “ سےبھی استدلال کامل نہیں ہوسکتا ہے۔ (8)

حیاتِ انبیاکی دلیل :

حضرت سیِّدُنااَوس بن اَوسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہے کہ حضورنبی پاک ، صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : جمعہ کےدن مجھ پردرود پاک کی کثرت کرو کیونکہ تمہارادرود مجھے پیش کیا جاتاہے۔ صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی : یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہمارے درودآپ پر کیسےپیش ہوں گےآپ تورمیم(یعنی گلی ہڈی) ہوچکےہوں گے(9)۔ ارشادفرمایا : اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنےانبیا کےجسموں کو زمین پر حرام فرما دیا ہے۔ (10) حضرت سیِّدُناابودَرْداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں کہ حضورنبی رحمت ، شفیْعِ امتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : جب کوئی مجھ پر درودپڑھتاہے تو اس کا درودپڑھتے ہی مجھ پر پیش کر دیا جاتا ہے۔ میں نے عرض کی : اوروصال شریف کےبعد؟ارشادفرمایا : وَبَعْدَ الْمَوْتِ اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءیعنی وصال کے بعدبھی کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انبیا کے جسموں کوخراب کرنا زمین پر حرام فرما دیا ہے۔ (11)

سالہاسال بعدبھی جسم صحیح وسلامت رہا :

حضرت سیِّدُناعبْدُالرحمٰن بن ابوصَعْصَعَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہےکہ ایک ہی قبرمیں مدفون غزوۂ اُحد کےدوشُہَداحضرت سیِّدُناعَمْروبن جَمُوْح اَنصاری اورحضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عَمْروانصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی قبر کو سیلاب نے اُکھاڑ دیا تھا کیونکہ ان کی قبرسیلابی زمین کے قریب تھی۔ جب انہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے قبر کو کھودا گیاتو ان دونوں کے جسم ایسے تھے گویا کل ہی وفات ہوئی ہے ، ان میں سے ایک زخمی ہوئےتھےاورانہوں نےاپناہاتھ زخم پررکھاہواتھا ، جب ہاتھ کوزخم سےہٹاکرچھوڑاگیاتووہ دوبارہ زخم پرآگیا۔ اس وقت غزوۂ احد کو46سال گزر چکے تھے۔ (12) حضرت سیِّدُناامام بَیْہَقِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی دلائِلُ النُّبُوَّہ میں کچھ اس طرح ہےکہ’’جب ان کاہاتھ ہٹاىا گىا تو خون بہنے لگا پھر ہاتھ دوبارہ اسی جگہ پررکھا گیا تو خون بند ہو گیا۔ ‘‘(13) اسی میں ہےکہ’’حضرت سیِّدُناامیرمُعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے نہر بنانے کا ارادہ کیاتواعلان کروادیا کہ یہاں جس کا کوئی شہید رشتہ دارمدفون ہے وہ حاضرہوجائے۔ چنانچہ لوگ اپنےشہیدرشتہ داروں کےپاس آئےتوانہیںبالکل ترو تازہ پایا ىہاں تک کہ اىک مدفون شخص کے پاؤں پر پھاوڑا لگ گىا تو خون بہہ نکلا ، یہ دیکھ کر حضرت سیِّدُناابوسعىدخُدرىرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا : اب کوئى مُنکِرحىاتِ شہداکاانکارنہیں کرےگا۔ لوگ مٹى نکال رہے تھے اور مشک کی سی خوشبو پھیلتی جا رہی تھی۔ (14) بنوسَلَمَہ کےچندافرادکابیان ہےکہ حضرت سیِّدُناامیرمُعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےجب شُہَدا کی قبروں سے گزرنے والی نہر کا رُخ موڑنے کا ارادہ کیا توحضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عَمْروبن حرام اور حضرت سیِّدُناعَمْرو بن جَمُوْحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی قبریں کھل گئیں ، ہم نےانہیں نکالاتووہ ایسےتروتازہ تھےگویاکل ہی ان کااِنتقال ہوا ہو ، ان پردوچادریں تھیں جن سےان کےچہرےڈھکےہوئےتھےجبکہ پیروں پرگھاس وغیرہ ڈالی گئی تھی۔ (15) دلائِلُ النُّبُوَّہ میں ہےکہ’’نہر کی کُھدائی کےدوران کسی کاپھاؤڑاسیِّدُالشُّہَداحضرت سیِّدُناامیرحمزہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے قدم پرلگ گیاتو اس سے خون جاری ہو گیا۔ ‘‘(16)

ثواب کی امیدپراذان دینےکااجر :

حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم ، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا : ثواب کی امیدپراَذان دینے والا مُؤَذِّن خون میں تڑپتے شہید کی طرح ہے جب اس کا انتقال ہو گا تو اس کی قبر میں کیڑے نہیں آئیں گے۔ (17) حضرت سیِّدُناا مام قُرطُبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینےفرمایا : ثواب کی امیدپراذان دینےوالےمَؤَذِّن کوبھی زمین نہیں کھائے گی۔ (18) حضرت سیِّدُنامُجاہِدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدفرماتے ہیں : بروز قیامت مؤذنین کی گردنیں لمبی ہوں گی اوران کی قبروں میں کیڑے بھی نہیں پڑیں گے۔ (19)

حافِظِ قرآن کامقام ومرتبہ :

حضرت سیِّدُناجابربن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورپرنور ، شافِعِ یوم النُّشُوْرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا : جب حافظِ قرآن انتقال کرتاہےتواللہ عَزَّ وَجَلَّزمین کو حکم دیتا ہے کہ اس کے گوشت کو مت کھانا۔ زمین عرض کرتی ہے : اےمیرے ربّ! میں اس کے گوشت کو کیسے کھا سکتی ہوں حالانکہ تیرا کلام اس کے سینے میں ہے۔ (20)

زمین کس جسم پرمُسَلَّط نہیں ہوتی؟

حضرت سیِّدُناقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ زمین اس جسم پر مُسَلَّط نہیں ہوتی جس نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو۔
1 بخاری ، کتاب الاحکام ، باب من شاق شق الله علیه ، ۴ / ۴۵۶ ، حدیث : ۷۱۵۲ 2 حلیة الاولیاء ، وھب بن منبه ، ۴ / ۴۰ ، رقم : ۴۶۸۰ 3 تاریخ ابن عساکر ، ۶۴ / ۳۴۴ ، رقم : ۸۱۸۵ : یحیی بن علی بن محمد بن ھاشم ، حدیث : ۱۳۱۵۶ 4 حلیة الاولیاء ، عبد الله بن زید الجرمی ، ۲ / ۳۲۵ ، حدیث : ۲۴۲۵ 5 اگریہاں یہ ہی ہڈی مرادہےتوحدیث کےمعنیٰ یہ ہیں کہ یہ ہڈی جلدفنانہیں ہوتی اسےخاک سوبرس کےبعدگلاتی ہے اوراگراس سےمرادہیں اجزاءاصلیہ جوانسان کی جسم کی اصل ہیں تووہ واقعی کبھی فنانہیں ہوتےیہ ایسےباریک اجزاء ہیں جوخوردبین سےبھی دیکھنےمیں نہیں آتے۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۷ / ۳۵۵) 6 مسلم ، کتاب الفتن واشراط الساعة ، باب ما بین النفختین ، ص۱۵۸۱ ، حدیث : ۲۹۵۵ 7 مسلم ، کتاب الفتن واشراط الساعة ، باب ما بین النفختین ، ص۱۵۸۱ ، حدیث : ۱۴۲(۲۹۵۵) 8 شرح المواقف الشریف الجرجانی ، المرصد الثانی فی المعاد ، المقصد الثانی فی حشر الاجساد ، ۸ / ۳۲۴ 9 یہ سوال انکار کے لئے نہیں بلکہ کیفیت پوچھنے کے لئے ہے یعنی آپ کی وفات کے بعد ہمارے درودوں کی پیشی فقط آپ کی روح پر ہوگی یا روح مع الجسم پر ۔(مراٰۃ المناجیح ، ۲ / ۳۲۳) 10 ابو داود ، کتاب الصلاة ، با ب فضل یوم الجمعة ولیلة الجمعة ، ۱ / ۳۹۱ ، حدیث : ۱۰۴۷ 11 ابن ماجه ، کتاب الجنائز ، باب ذکر وفاته ودفنه ، ۲ / ۲۹۱ ، حدیث : ۱۶۳۷ 12 موطا امام مالک ، کتاب الجھاد ، باب الدفن فی قبر واحد الخ ، ۲ / ۲۷ ، حدیث : ۱۰۴۴ 13 دلائل النبو ة للبیھقی ، باب ما جری بعد انقضاء الحرب الخ ، ۳ / ۲۹۳ 14 دلائل النبو ة للبیھقی ، باب ما جری بعد انقضاء الحرب الخ ، ۳ / ۲۹۴ 15 مصنف ابن ابی شبیة ، کتاب المغازی ، هذا ما حفظ ابو بكر فی احد وما جاء فيها ، ۸ / ۴۸۸ ، حدیث : ۱۷ 16 نوادر الاصول ، الاصل الحادی والتسعون والمائة ، ۲ / ۷۲۱ ، حدیث : ۹۹۷ 17 معجم کبیر ، ۱۲ / ۳۲۲ ، حدیث : ۱۳۵۵۴ 18 التذکر ة للقرطبی ، باب لا تاکل الارض اجساد الانبیاء ولا الشھداء وانھم احیاء ، ص۱۵۸ 19 مصنف عبد الرزاق ، کتاب الصلا ة ، باب فضل الاذان ، ۱ / ۳۵۹ ، حدیث : ۱۸۶۴ 20 فردوس الاخبار ، ۱ / ۱۶۸ ، حدیث : ۱۱۱۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن