30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب نمبر23 :
قبر کا مردوں کو خطاب کرنے کا بیان
قبرروزانہ کرتی ہےپکار :
حضرت سیِّدُناابوسعىدخُدرىرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارےمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد کرو کیونکہ قبر روزانہ پکار کر کہتی ہے : میں اَجْنَبِیَّت کا گھر ہوں ، میں تنہائی کا گھر ہوں ، میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں۔ جب مومن کو قبر میں دفنایا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے : خوش آمدیدتو مىرى پُشْت پر چلنے والوں مىں سے مجھے محبوب ترىن تھا اوراب تومىرے اندر آگىا ہےاب تو مىرا حُسْنِ سلوک دیکھ ، پھر قبر اس کے لىے حدِ نگاہ تک کشادہ ہو جاتى ہے اور اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور جب کوئى فاجر یاکافر شخص دفن کیا جاتا ہے تو قبر کہتی ہے : تجھے کوئی مرحبا نہیں ، تو مىرى پشت پر چلنے والوں مىں مىرے نزدىک بدترىن شخص تھا اور اب تو مىرے اندر آگىا ہے لہٰذا اب اپنے ساتھ میرا برتاؤ دیکھ پھر قبر اس پر اپنا گھىرا تنگ کردیتی ہے اور اس کى پسلىاں اىک دوسرے مىں پىوست ہوجاتى ہىں۔ راوى کہتے ہىں کہ سرکار نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بات اپنی مبارک انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کراشارہ کر کے بتائی۔ پھرفرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر70ہزار اژدھے مقررفرما دیتا ہےاگر ان مىں سے کوئى اىک بھى زمىن پر پھنکار دے تو رہتی دنیا تک کبھى کچھ بھی نہ اُگے ، وہ اَژدھے اس مردےکوتاقىامِ قىامت ڈستےرہیں گے۔ راوى کہتےہىں : آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرماىا : اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِّنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ اَوْحُفْرَةٌ مِّنْ حُفَرِ النَّارىعنى قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ىا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ (1)
حضرت سیِّدُناابوہرىرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں : ہم سرکارِدوجہاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے تو آپ قبر کے پاس بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا : قبر روزانہ بزبانِ فصىح پکارتى ہے : اے ابن آدم ! تو نے مجھے کیسے بھلا دىا ؟کیا تو نہیں جانتا مىں اَجْنَبِیَّت ووَحْشَت کا گھر ہوں ، کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ، تنگی کا گھر ہوں مگر جس کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھےوسیع کر دے۔ پھرارشادفرمایا : قبرجنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ىا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ (2)
قبرکی مُردےسےگفتگو :
حضرت سیِّدُناابوحَجاج ثُمالیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جب مردے کو قبر مىں رکھا جاتا ہے تو قبر اس سےکہتى ہے : تیری خرابی ہو کىا تو نہىں جانتاتھا مىں فتنے کا گھر ہوں ، تارىکى کا گھر ہوں ، تنہائی کا گھر ہوں اور کىڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ، تواے انسان!کس چیز نے تجھے مجھ سے غافل رکھاکہ تو مىرے اوپراَکَڑ کر چلتا تھا۔ اگرمُردہ نیکی کا حکم کرنے والا ہو توقبر میں ایک جواب دینے والا قبر سے کہتا ہے : اگر ىہ بندہ نىکى کا حکم کرنے والا اور بُرائى سے منع کرنے والا ہو تو پھر تیرا کیا خیال ہے؟ قبر کہتی ہے : تب تو مىں ا س شخص کے لىے سر سبز و شاداب ہوجاؤں گى۔ چنانچہ اس کے جسم کو نورانی کر دیا جاتا ہے اور اس کی روح بارگاہِ الٰہی کی طرف بلند ہو جاتی ہے۔ (3)
مومن کی وفات :
حضرت سیِّدُنابَرا ء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جب مومن کى موت کاوقت آتاہے تو اىک بہت خوبصورت اورخوشبودار فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اس کى روح قبض کرنے کے لیے اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے جنتی خوشبو اور کفن لاتے ہیں ، وہ ابھی دور ہی ہوتے ہیں کہ ملَکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام پسینہ بہنے کی صورت میں اس کے جسم سےروح نکال لیتے ہیں ، پھر وہ فرشتے جلدی سے آتے اور ان سے روح لے کر اسے جنتى خوشبو اور کفن مىں رکھ کر جنت کی طرف بلند ہو جاتے ہیں ، اس کے لىے آسمانى دروازے کھل جاتے ہىں اور فرشتے خوشخبری دیتے ہوئے پوچھتے ہیں : یہ کس کی روح ہے جس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے؟ فرشتہ دنیا میں لیا جانے والا اس کا سب سے اچھا نام لےکرکہتا ہے : یہ فلاں کی روح ہے۔ پھر جب اسے آسمانوں کی طرف بلند کیا جاتا ہے تو ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کے پیچھے ہولیتے ہیں حتّٰی کے اسے عرش کے پاس ربّ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں پہنچادیاجاتاہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّمقرب فرشتوں سےارشادفرماتا ہے : گواہ ہو جاؤ کہ میں نے اس عمل والے کو بخش دیا ہے۔ چنانچہ اس کے اعمال نامے کو مہرلگا کرعِلِّیِّیْن میں رکھ دیا جاتاہے ۔ پھر ربّ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے : میرے بندے کی روح کو زمین کی طرف لوٹا دوکیونکہ میں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین میں ہی لوٹاؤں گا۔ جب مومن کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو زمىن کہتى ہے : تو مجھے اپنی پشت پر بھی محبوب تھا اور اب جب کہ تو مىرے پىٹ مىں آگىا ہے تو مىں تجھے دکھاتی ہوں کہ تىرے ساتھ کىسا سلوک کروں گى۔ پھر وہ اس کے لىے حدِّ نگاہ تک وسىع ہوجاتى ہے اور اس کے پاؤں کے پاس اىک جنتى دروازہ کھول دیا جاتاہے اور کہا جاتا ہے : ان نعمتوں کو دیکھ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تیرے لیے تیار کررکھی ہیں۔ پھر ایک دروازہ سر کےپاس سے جہنم کی طرف کھولا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے : اس عذاب کو دیکھ جس سے ربعَزَّ وَجَلَّ نے تجھے بچایا اوراب تو ٹھنڈی آنکھیں لیے سو جا۔ پس اُس وقت اسےقیامت برپا ہونے سے بڑھ کر کچھ بھی محبوب نہیں ہوتا۔
تونےمیرےلئےکیاتیاری کی؟
حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عُبَىْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرماىا : مجھےىہ بات پہنچى ہےکہ حضورنبى پاک ، صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرماىا : مُردے کو جب قبر میں رکھاجاتاہے تو وہ بیٹھ جاتا ہے اورجنازہ کے ساتھ آنے والوں کے قدموں کی آواز سنتا ہے ، سب سے پہلے اس کی قبر اس سے کلام کرتے ہوئے کہتی ہے : اے ابن آدم! تیرا بُرا ہو کیا تجھےمجھ سے ڈرایا نہیں گیا؟ کیاتجھے مىرى تنگى ، بدبو ، وَحْشَت ، ہولناکى اور کىڑوں مکوڑوں کا خوف نہ دلایاگىا تھا؟یہ میں نے آج کے دن کے لیے تیارے کئے ہیں تُو بتا تو نے میرے لیے کیا تیاری کی ہے؟(4)
تجھےکس چیزنےدھوکےمیں ڈالےرکھا؟
حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں : انسان کو جب قبر مىں رکھ دىا جاتا ہے تو اس کى قبر کہتى ہے : اے ابن آدم! تجھے معلوم نہ تھا کہ مىں تنہائی ، تارىکى اور خوف و گھبراہٹ کا گھر ہوں؟ تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈالے رکھا کہ تو میرے گرداکڑ کر چلتا تھا۔ اگر مردہ مومن ہو تو اس کى قبر وسىع اور سر سبز وشاداب کردى جاتى اور اس کى روح جنت کی طرف لے جائی جاتی ہے۔ (5)
وحشت وتنگی کاگھر :
جبکہ حضرت سیِّدُنایَزِیدبن شَجَرَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : قبرکافرو فاجر سے کہتی ہے : کیا تجھے میرا اندھیرا ، میری وَحْشَت ، میری تنہائی ، میری تنگی اور میرا غم یاد نہیں تھا؟(6)
کیڑےمکوڑوں کاگھر :
حضرت سیِّدُناعُبَيْدبن عُمَىررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہىں : قبر یہ ضرور کہے گی کہ اے ابن آدم! تو نے مىرے لىے کىا تىارى کى؟ کىا تو نہىں جانتا تھا کہ مىں مسافری ، تنہائى ، کىڑے مکوڑوں اور(جسموں کو)کھاجانے کا گھر ہوں؟(7)
نافرمان کےلئےعذاب :
حضرت سیِّدُناعُبَىْدبن عُمَىررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہىں : ہر مرنے والے کی قبر اسے پکار کر کہتی ہے : مىں اندھىرى اور تنہائى کا گھر ہوں ، اگر تو اپنی زندگی میں خدا عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانبردارتھا تو آج مىں تجھ پر رحمت کروں گى اور اگر نافرمان تھاتو مىں تىرے لىے عذاب ہوں ، مىں وہ گھرہوں جس میں فرمانبردارداخل ہو تو خوش و خرم نکلے گا اورگناہ گار داخل ہو تو تباہ و برباد ہو کر نکلے گا۔ (8)
تونےمجھےکیسےبھلادیا؟
حضرت سیِّدُناجابِررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےمرفوعاً رواىت ہے کہ قبر کی اىک زبان ہے ، جس سے وہ کلام کرتے ہوئے کہتی ہے : اے ابن آدم! تو نے مجھے کىسے بھلادىا؟کیا تونے نہ جانا کہ مىں دوری ووَحْشَت کا گھر ہوں ، کیڑے مکوڑوں اور تنگی کا گھر ہوں مگر جس کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے کشادہ فرما دے۔ (9)
اَجْنَبِیَّت وتنہائی کاگھر :
حضرت سیِّدُنابَراء بن عازِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ہم سرکارِمکہ مکرمہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ ایک جنازے مىں شرىک ہوئے ، قبرستان پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابھى قبر نہىں کھودى گئى۔ چنانچہ ہم آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اردگرد بىٹھ گئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : جب مردے کو قبر مىں رکھ کر اىنٹىں برابر کردى جاتى ہىں توزمین(یعنی قبر) اسےپکار کرکہتى ہے : کىا تجھے معلوم نہ تھاکہ مىں اجنبیت ، تنہائى اور کىڑے مکوڑوں کا گھر ہوں؟ تو نے مىرے لىے کىا تىار ى کی؟(10)
قبرکامحبوب اورمبغوض بندہ :
حضرت سیِّدُنا بِلال بن سَعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدفرماتےہیں : قبر روزانہ پکارکر کہتی ہے : مىں تنہائی ، وَحْشَت اورکیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ، مىں جہنم کے گڑھوں مىں سےایک گڑھا ہوں ىا جنت کے باغوں مىں سے ایک باغ۔ جب مومن کو قبرمىں اُتارا جاتا ہےتوقبر کہتى ہے : جب تو مىرى پُشت پر چلتا تھا تو مجھے بہت عزىز تھا اور اب جبکہ تو میرے پیٹ میں آگیا ہے تو مىرا حُسنِ سلوک دىکھ لےگا۔ چنانچہ قبر حد نگاہ تک وسیع ہوجاتی ہے اورجب کافر کو قبر مىں رکھاجاتا ہے تو قبر کہتی ہے : جب تو میری پشت پر چلتا تھا تب بھی مجھے انتہائی ناپسند تھا اور اب تو تجھے میرے حوالے کر دیا گیا ہے اب دیکھ میں تیرا کیا حال کرتی ہوں۔ پس قبر اسے ایسا دباتی ہے کہ اس کى پسلىاں ٹوٹ پھوٹ جاتى ہىں۔ (11)
اپنی زندگی میں خودپررحم کر :
حضرت سیِّدُناعبْدُاللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاروایت کرتے ہیں کہ سردارِمدینہ منورہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اپنی قبر کے لیے خوب تیاری کرلو کىونکہ قبر روزانہ سات مرتبہ یہ پکارتى ہے : اے کمزورآدمی! مجھے ملنے سے پہلے ہی اپنى زندگی مىں خود پر رحم کر ، کیا تو اس وقت خود پر رحم کرے گا جب مجھ میں بوسیدہ ہو جائے گا؟(12)
حضرت سیِّدُناعُمَربن ذَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : جب مومن قبر میں داخل ہوتا ہے تو قبر اسے پکارتى ہے : فرمانبردار ہے یا نافرمان؟ اگر فرمانبرادرہو تو قبر کے کنارے سے ایک پکارنے والاقبر کو کہتا ہے : اس پر سرسبز و شاداب ہوجاااوررحمت بن جا کىونکہ ىہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا بہترین بندہ تھااور کتنا خوب ہے جو تیری طرف آیا ہے۔ قبر کہتى ہے : تب توىہ عزت کے لائق ہے۔ (13)
نصیحت کےلئےموت ہی کافی ہے :
حضرت سیِّدُنامحمد بن صبىحعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْعفرماتےہىں : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اسے عذاب یا کوئی سزا پہنچتی ہےتو اس کے پڑوسى مردے پکار کر کہتے ہىں : اے اپنے بھائیوں کے بعد دنىا سے آنے والے! کىا تو نے ہم سے نصىحت نہ پکڑى؟ کیا ہمارے پہلے آجانے نے تجھے عبرت حاصل کرنے پر مجبور نہ کیا؟ کیا تو نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ ہمارے اعمال کا سلسلہ تو ختم ہو چکا ہے جبکہ تیرے پاس مہلت ہے؟جو موقع تھا تو نے اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ اور قبر کے گوشے پکار کر کہتے ہیں : اے زمىن پر اترا کر چلنے والے ! کىا تو نے اپنے خاندان کے ان لوگوں سے عبرت نہ پکڑی جنہیں تجھ سے پہلے دنیا نے دھوکے میں ڈالا اور پھر ان کی موت انہیں قبروں تک لے آئی اور تو انہیں کاندھوں پر اٹھائے دیکھ رہا تھا جبکہ محبت کرنے والے انہیں اس منزل کی طرف لے جارہے تھے جس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ (14)
حضرت سیِّدُناسفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : جوقبر کواکثر یاد کرے وہ اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ پائے گا اور جو اس کی یاد سے غافل رہا وہ اسے جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا پائے گا۔ (15)
حضرت سیِّدُنایزیدرَقاشیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتےہیں : مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ مردے کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے اعمال اسے گھیرلیتے ہیں پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں بولنے کی قوت عطا فرماتا ہے تو وہ کہتے ہیں : اے قبر میں تنہا رہ جانے والے! تیرے دوست اور اہل وعیال تجھ سے جُدا ہو گئے ، آج ہمارے سوا تیرا کوئی غمخوار نہیں۔ پھر مردہ رونے لگتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : خوشخبری ہے اس کے لیے جس کا غمخوار نیک ہو اور افسوس ہے اس پر جس کا ساتھی اس کے لیے وبال ہو۔(16)
دودن اوردوراتیں :
حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہىں : مىں تمہىں ایسےدو دنوں اور دو راتوں کى خبر نہ دوں جن کی مثل مخلوق نے نہ سنا ہو گا : ایک دن وہ جب تمہارے پاساللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے خوشخبرى دىنے والا آئے گاىاتو خدا تعالیٰ کى رضا کى ىا ناراضى کى ، دوسرا وہ دن جب تم بارگاہِ خداوندى مىں کھڑے ہوگے اور اعمال نامہ تمہارے دائىں ىا بائىں ہاتھ مىں دىا جائے گا۔ اسى طرح اىک وہ رات جو قبر کى پہلى رات ہوگى اور اس کى مثل کبھی کوئى رات نہ آئى اور اىک وہ رات جس کى صبح قىامت قائم ہوگى اور اس رات کے بعد کوئی رات نہیں۔ (17)
1 ترمذی ، کتاب صفة القیامة ، باب ۹۱ ، ۴ / ۲۰۸ ، حدیث : ۲۴۶۸
2 معجم اوسط ، ۶ / ۲۳۲ ، حدیث : ۸۶۱۳
3 معجم کبیر ، ۲۲ / ۳۷۷ ، حدیث : ۹۴۲ ، بتغیرٍ
4 الزھد لابن المبارک مارواہ نعیم بن حماد ، باب ما يبشر به الميت عند الموت ، وثناء الملكين عليه ، ص۴۱ ، حدیث : ۱۶۳ ، لم یرفعہ
5 مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب الزھد ، كلام عبد الله بن عمرو ، ۸ / ۱۸۸ ، حدیث : ۲
6 مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب الزھد ، كلام ابراهيم التيمی ، ۸ / ۲۲۵ ، حدیث : ۹ ، دون قولہ : وحدتی
7 مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب الزھد ، كلام عبيد بن عمير ، ۸ / ۲۲۹ ، حدیث : ۱۷
8 اھوال القبور ، الباب الثانی ، ص۴۶
9 اھوال القبور ، الباب الثانی ، ص۴۴
10 مصنف عبد الرزاق ، باب المشی بالجنازة ، ۳ / ۲۸۰ ، حدیث : ۶۲۸۱ ، بتغیرٍ و عن عبد الرحمن بن ابی لیلی
11 شعب الایمان ، باب فی ان دار المؤمنين ، ۱ / ۳۶۰ ، حدیث : ۴۰۱
12 کنزالعمال ، کتاب الموت من قسم الاقوال ، الباب الاول فی ذکرالموت ، ۱۵ / ۲۳۵ ، حدیث : ۴۲۱۳۷
13 اھوال القبور ، الباب الثانی فی کلام القبر ، ص۴۶
14 اھوال القبور ، الباب الثانی فی کلام القبر ، ص۴۶
15 التذکرة للقرطبی ، باب ما جاء فی كلام القبر كل يوم الخ ، ص۹۸
16 تاریخ بغداد ، رقم : ۱۸۶۵ ، محمد بن يحيى بن عمر الواسطی ، ۴ / ۱۹۱
17 شعب الایمان ، باب فی الزهد و قصرالامل ، ۷ / ۳۸۸ ، حدیث : ۱۰۶۹۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع