30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
المدینہ میں داخل ہوکر علم دین کے نور سے روشن ومنور ہونے میں مشغٖول ہوگیا ، علم دین کی بھی کیا خوب فضیلت ہے چنانچہ
ہمارے حضور اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت سی حدیث وں میں علم دین کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور علم دین پڑھنے اور پڑھانے والوں کی بزرگیوں اور ان کے مراتب و درجات کی عظمتوں کا بیان فرمایا ہے چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا : عالم کی فضیلت عابد پر ویسی ہی ہے جیسی میری فضیلت تمہارے ادنی پر پھر فرمایا کہ اﷲتعالٰی اور اس کے فرشتے اور تمام آسمان و زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور یہاں تک کہ مچھلی سب اس کی بھلائی چاہنے والے ہیں جو عالم کہ لوگوں کو اچھی باتوں کی تعلیم دیتا ہے ۔
(ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ۴/ ۳۱۳، حدیث : ۲۶۹۴)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی مُحمَّد
(6)چھٹیاں کارآمد بن گئیں
پاکپتن شریف (پنجاب پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی مدینۃ الاولیاملتان میں B.B.A کااسٹوڈنٹ تھا۔ نمازوں کی پابندی کا خاص اہتمام نہ تھا، میں بھی عام نوجوانوں کی طرح دنیاوی موج مستیوں میں گم رہتا تھا۔ قبروآخرت کے معاملات کی تیاری سے نابلد تھا، گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں تو میں نے ان ایام کو کارآمد بنانے کے لیے مختلف منصوبے بنائے، ابھی میں کسی کام کی جستجو میں ہی تھاکہ میری قسمت جاگ اٹھی ہواکچھ یوں کہ میری ملاقات دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی سے ہوگئی انہوں نے دوران گفتگو نیکی کی دعوت پیش کی اور میرا مدنی ذہن بنایاقبر وحشرکی تیاری کی ترغیب دلائی اور اس بات کا احساس میرے دل میں اجاگر فرمایا کہ ہمیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے دنیا میں اپنی عبادت کے لیے پیداکیا ہے، دنیا میں ایک معیّنہ مدت تک رہنا ہے، اپنی زندگی کے ایام بسر کرکے ہم نے بھی آخرت کی طرف کوچ کرنا ہے، اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش ہونا اور اپنی زندگی کے معمولات کا حساب دینا ہے، رضاالہٰی کی صورت میں جنت میں داخلہ نصیب ہوگا اور ناراضی کی صورت میں جہنم کے ہولناک عذاب کا شکار ہونا پڑے گا، ان کی فکرِ آخرت پر مبنی باتیں مجھے متأثرکرگئیں ، انہوں نے مزید بتایا : دعوت اسلامی کے تحت 63روزہ تربیتی کورس ہورہاہے، آپ بھی اپنے نامۂِ اعمال کو نیکیوں سے مزین کرنے اور علم وعمل کی دولت سے مالامال ہونے کے لیے اس میں شریک ہو جائیے، ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے میں نے ہامی بھرلی، جب میں گھر پہنچا تو گھروالوں کے سامنے اپنی نیّت کا اظہار کیا اور اجازت طلب کی، قسمت اچھی تھی کہ انہوں نے اجازت دے دی، لہٰذامیں نے اپنا ضرورت کاسامان تیار کیا اور مقررہ مقام پر پہنچ کر تربیتی کورس کرنے والے عاشقانِ رسول میں شامل ہوگیا، علم دین کے مدنی حلقوں میں شرکت کرتا اور خوب علم کے انمول موتیوں سے اپنی خالی جھولی بھرتا۔ جلد ہی میرا سینہ علم کے نور سے منور ہونے لگا اور میں دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوتا گیا۔ دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں وہ قلبی سکون ملا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ملاتھا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے نماز کا عملی طریقہ سیکھنے کے ساتھ ساتھ نمازِ عید وجنازہ کا طریقہ بھی سیکھ لیا، آج جب کسی کے ہاں انتقال ہوجاتاہے اور گھروالوں میں کوئی فرد ایسا نہیں ہوتا جسے غسل، کفن، دفن دینے کا سنـّت طریقہ آتاہو۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے کئی بار غسل میت نیز تکفین و تدفین کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ تربیتی کورس کرنے کے بعد مجھ گناہ گار پر یہ بات شمس و قمر کی طرح عیاں ہوگئی کہ دعوت اسلامی جہاں شریعت کے دیگر احکام لوگوں کوسیکھارہی ہے وہیں ان امور سے بھی اسلامی بھائیوں کو آگاہ کر رہی ہے۔ تربیتی کورس میں عاشقانِ رسول کاقرب کیا ملا دل سنّتِ رسول پرعمل کرنے کے جذبے سے سرشارہوگیا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفرت ہو
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی مُحمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فی زمانہ دنیاوی تعلیم حاصل کرنے اور اعلیٰ اسے اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے کا ہرایک خواہش مند نظر آتا ہے مگر صد کروڑ افسوس! دین کی تعلیم حاصل کرنے کا کوئی مدَنی ذہن نہیں ہے، جس کی وجہ سے ایک بڑی تعداد اپنی ضرورت کے مسائل سے بھی ناواقف ہے مزید علم دین سے سے دوری اختیار کرنے کا وبال ہے کہ آج دلوں پرغفلت کا ڈیرہ ہے، عبادات کی ادائیگی کا رجحان مفقود ہوتا جارہاہے، گناہوں کی بہتات ہے، ان نازک حالات میں ہماری عبادات کے ضائع ہونے اور آخرت کے برباد ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والا 63 روزہ تربیتی کورس اس کمی کو پورا کرنے کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کے نصاب میں بالخصوص ان چیزوں کو شامل کیا گیا ہے کہ جن کا جاننا ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے۔ اس کے علاوہ مدَنی ماحول میں ہونے والے سنّتوں بھرے مختلف اجتماعات اور راہِ خدا میں سفر کرنے والے مدَنی قافلے بھی اس حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں حصولِ علمِ دین کی لگن اورمدنی قافلوں میں سفرکرنے کاجذبہ عطافرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفرت ہو
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی مُحمَّد
شعبہ امیرِاَہلسنّت مجلس اَ لْمدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)
۳۰شوال المکرم ۱۴۳۵ھ بمطابق27 اگست 2014ء
آپ بھی مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے
یہ حقیقت ہے کہ صحبت اثر رکھتی ہے، انسان اپنے دوست کی عادات و اخلاق اور عقائد سے ضرور متأثر ہوتا ہے۔ حدیث پاک میں نیک آدمی کی مثال مشک والے کی طرح بیان کی گئی ہے کہ اگر اس سے کچھ نہ بھی ملے تو اس کی ہم نشینی خوشبو میں مہکنے کا سبب بنتی ہے جبکہ بُرا آدمی بھٹی والے کی طرح ہے کہ اگر بھٹی کی سیاہی نہ بھی پہنچے پھر بھی اس کا دھواں تو پہنچتا ہی ہے۔ گناہوں کی آگ میں جلتے، گمراہیت کے بادلوں میں گھرے اس معاشرے میں سنّتوں کی خوشبوئیں پھیلاتا دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول کسی نعمت سے کم نہیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مدنی ماحول میں تربیت پاکر سنتیں اپنانے والا اس طرح زندگی بسر کرنے لگتا ہے کہ نہ صرف ہر آنکھ کا تارا بن جاتا ہے بلکہ اپنے سنتوں بھرے کردار سے کئی لوگوں کی اصلاح کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ پھر زندگی کی معیاد پا کر اس شان و