30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تربیّتی کورس میں وُضو و غُسل کے علاوہ نَماز کا عملی طریقہ سکھایا جاتا، غسلِ میِّت، تَجہیز و تکفین، نَمازِ جنازہ و نَمازِ عید کی تربیّت ہوتی ہے۔ مدَنی قاعِدہ کے ذَرِیعے دُرُست مخارِج کے ساتھ قرآنی حُروف کی ادائیگی کی تعلیم دی جاتی اور قرآنِ کریم کی آخِری 20سورَتیں زَبانی حِفظ اور سورۃُ الْمُلک کی مَشْق کروائی جاتی ہے۔ اور قراٰنِ کریم سیکھنے کے فضائل کے توکیا کہنے! چُنانچِہ
دو جہاں کے سلطان، سرورِ ذیشان، صاحِبِ قرآن، محبوبِ رَحمن عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مغفِرت نشان ہے : جو شخص اپنے بیٹے کو ناظِرہ قُرآنِ کریم سکھائے اس کے سب اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔ (مجمع الزوائد، کتاب التفسیر، باب فی من علّم ولد ہ القرآن، ۷/ ۳۴۴، حدیث : ۱۱۲۷۱) شَہَنْشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باقرینہ ہے : جو شخص جوانی میں قرآن سیکھے، قرآن اُس کے گوشت اور خون میں پیوست ہوجاتا ہے اور جو اسے بُڑھاپے میں سیکھے اور اسے قرآن بار بار بھول جاتا ہو اور اس کے باوُجُود وہ اسے نہ چھوڑتا ہو تو اس کیلئے دو اجر ہیں ۔
(کنزالعمال، کتاب الاذکار، ۱/ ۲۶۷، حدیث : ۲۳۷۸)
تربیّتی کورس میں اَخلاقی تربیّت
تربیتی کورس میں اَخلاقی تربیّت کے حوالے سے اِن موضوعات پر خاص توجُّہ دی جاتی ہے : (۱) سچّائی(۲) نرمی(۳) صبر(۴) عاجِزی(۵) عَفْو و دَرگُزر (۶)اندازِ گفتگو (۷) غیبت کی تباہ کاریاں اور (۸)گھر میں مَدَنی ماحول بنانے کا طریقہ وغیرہ۔ مَدَنی قافِلہ کے جَدْول پر عمل کرواتے ہوئے مَدَنی قافِلہ تیّار کرنے کا طریقہ، درس، بیان، عَلاقائی دَورہ برائے نیکی کی دعوت نیز بالخصوص دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کی جان ’’اِنفِرادی کوشِش‘‘ کا انداز، مَدَ نی اِنعامات کا عملی طریقہ تعلیم دیا جاتا ہے۔ تربیّتی کورس کے دوران وقفہ وقفہ سے تین بار تین تین دن کے اور اِختتِام سے قبل 12 دن کے عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافِلے میں سفر کی سعادت بھی ملتی ہے۔ 12 دن کے مَدَنی قافِلے سے واپسی کے بعدایک دن امتحان کی تیّار ی، دوسرے دن امتحان اور تیسرے دن الوَداعی دُعا اور صلوٰۃو سلام پر 63 دن کے تربیّتی کورس کا اِختتام ہوجاتاہے۔ تربیّتی کورس کی جو کیفیّت بیان کی اِس کے عِلاوہ بھی بَہُت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ عاشِقانِ رسول کی صُحبت کی نِعمت مُیَسّر آتی ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ َ تربیّتی کورس کی بَرَکت سے کئی بگڑے ہوئے افراد نَمازی اور اچھّے مسلمان بن کر رُخصت ہوتے اور معاشَرہ میں عزّت کا مقام پاتے ہیں ۔ لہٰذا جس کو موقع ملے اُسے ضَرور تربیّتی کورس کے ذَرِیعے علمِ دین حاصِل کرنا چاہئے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے نبی مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد ِ عبرت بنیاد ہے : بروزِ قِیامت سب سے زِیادہ حسرت اُس کو ہوگی جس کو دنیا میں (دینی) علم حاصِل کرنے کا موقع ملا مگر اُس نے حاصِل نہ کیا اور اُس شَخص کو ہوگی جس نے علم حاصِل کیا اور اِس سے سن کر دوسروں نے تو نَفْع اُٹھایا مگر خود اِس نے (اپنے علم پر عمل کرتے ہوئے ) نفع نہ اُٹھایا۔(الجامع الصغیر، ص ۶۹، حدیث : ۱۰۵۸)جو مکمّل 63 دن نہیں دے سکتے وہ مَدَنی مرکز سے رُجوع کریں تو اُن کی کم دنوں کیلئے بھی ترکیب بن سکتی ہے۔(فیضانِ سنت، باب آداب ِطعام، ۱/ ۵۱۰ )
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
ضلع بہاول نگر ( پنجاب، پاکستان)کی بستی موگا(نزدڈونگہ بونگہ ) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کا بیان الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ پیش خدمت ہے : دعوت ِاسلامی سے وابستہ ہونے سے قبل میں شب وروز دنیا ہی کے حصول میں سرگرداں تھا، دنیا وی افکار نے مجھے بے سکونی سے دوچار کیا ہواتھا۔ قلبی سکون پانے کے لیے مختلف مشاغل اپناتا، دوست احباب کی جھرمٹ میں بیٹھتا، تفریح گاہوں کا رخ کرتا جس سے عارضی طور پر ذہن سے پریشانی کے بادل چھٹ جاتے مگر پھر دوبارہ بے سکونی دل و دماغ پر طاری ہوجاتی۔ دنیاوی آسائشیں پاس ہونے کے باوجود میں سکون جیسی عظیم نعمت سے محروم تھا۔ ربّ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت جو ہر وقت اپنے بندوں کو گھیرے ہوئے ہے بھلا وہ کب مجھے بے یار و مددگار چھوڑتی چنانچہ بے سکونی کے منجدھار میں پھنسی میری زندگی کی کشتی کچھ اس طرح کنارے لگی کہ ایک دن مبلغِ دعوتِ اسلامی میرے پاس تشریف لائے اور دوران گفتگو بڑے ہی میٹھے اندازمیں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے 63 روزہ تربیتی کورس کے فوائد وثمرات سے آگاہ کرتے ہوئے اس میں داخلہ لینے کی دعوت پیش کی، یہ سوچتے ہوئے کہ کیا بعید عاشقانِ رسول کی صحبت میں رہ کر میری بے قراری کا سد باب ہوجائے، میں نے تربیتی کورس کرنے کی ہامی بھرلی اور مقررہ وقت پر اپنا زادِراہ ساتھ لے کر عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) کا مسافر بن گیا، دوران سفرہی مجھ پر ایک اطمینان کی کیفیت طاری ہونے لگی، سفر تو زندگی میں پہلے بھی کرچکا تھا مگر اس سفرمیں ایک عجب روحانیت محسو س کررہاتھا، جب میں عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ (کراچی)کی سنّتوں بھری فضاؤں میں پہنچا تو بہت اچھا لگا، ہر طرف سنّتوں کی بہاریں تھیں ، عاشقانِ رسول کے نکھرے نکھرے چہرے اور ان کے کے بدن پر اجلے اجلے سفید مدنی لباس کودیکھ کر میں متأثرہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ چنانچہ مدنی تربیت گاہ پہنچ کر 63روزہ تربیتی کورس میں اپنا نام پیش کردیا۔ تربیتی کورس کا آغاز ہوا تو معلم اسلامی بھائی نے پہلے دن بڑے ہی پیارے اندازمیں تمام اسلامی بھائیوں کو دل جمعی سے تربیتی کورس کی برکتیں لوٹنے کا مدنی ذہن دیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دوران کورس میں نے وضو ، طہارت ، غسل، نماز اور دیگر عبادات کے شرعی مسائل سیکھنے کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ تجوید و قراٰت کے ساتھ قراٰن پاک کی سورتیں بھی یادکرنے کی سعادت حاصل کی۔ عاشقان رسول کی صحبت نے دل میں عمل کا جذبہ اجاگرکردیا میں نے پنج وقتہ نمازیں باجماعت اداکرنے کے ساتھ ساتھ، اشراق وچاشت، اوابین اور تہجد کے نوافل کی پابندی شروع کردی، یہاں پر باعمل مسلمان بننے کے لیے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ شریعت وطریقت کے مدنی پھولوں سے مہکتا مدنی انعامات کے گلدستے پر عمل کرنے کا موقع ملا، اسی دوران راہِ خدا میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ مدنی قافلوں میں سفربھی کیا۔ جوں جوں عاشقان رسول کے قرب میں وقت گزرتاگیا علم میں اضافہ ہوتاگیااور عملی طور پر میری زندگی بہتر سے بہتر ہوتی چلی گئی، دل ودماغ پر چھائے بے سکونی کے بادل چھٹ گئے اور میں قلبی سکون اور قبروآخرت کی بہتری کی غرض سے دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا، واقعی مدنی ماحول میں آکر پتا چلا کہ قلبی