30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مدینۃُ الاولیاء (ملتان)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ پہلے میں ایک ٹی وی مکینک اور ماڈرن نوجوان تھا ۔اپنے محلے کی مدینہ مسجد میں بعض اوقات نماز پڑھنے چلاجایا کرتا تھا ۔ وہاں پر ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی فیضانِ سنّت سے درس دیا کرتے تھے ۔میری کبھی کبھار اُن سے سلام دُعا ہوجاتی تھی ۔ ایک دن انہوں نے مجھے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بیان کی کیسٹ ’’قبر کی پُکار‘‘سننے کے لئے دی ۔ میں نے ’’قبر کی پُکار ‘‘سُنی تو اپنے انجام کے بارے میں فکر مند رہنے لگا ۔ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا اندازِ بیان مجھے ایسا بھایا کہ میں نے مکتبۃ المدینہ سے بیانات کی مزیدکیسٹیں ہدیتہ حاصل کر کے سُنیں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلََّّبیاناتِ امیرِ اہلسنّت کی برکت سے میری آنکھوں سے غفلت کے پردے ایک ایک کرکے ہٹتے چلے گئے اور میں نے ٹی وی رپیئرنگ کا کام چھوڑ کر وال کلاک (یعنی گھڑیوں )کا کاروبار شروع کردیا ۔دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے بدن پر سنّت کے مطابق سفید لباس ، سر پر سبز سبز عمامہ شریف اور چہرے پر ایک مٹھی داڑھی سج گئی ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(9)میں مَدَنی قافلوں کا مسافر کیسے بنا؟
پنجاب(پاکستان) کے شہرفتح جنگ ضلع اٹک کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ Fsc تک تعلیم حاصل کرنے کے بعدمجھے قراٰنِ پاک حفظ کرنے کا شوق پیدا ہوا ۔ اسی کی تکمیل کے لئے میں سردار آباد (فیصل آباد)کے ایک قصبے میں اپنے ایک عزیز کے پاس پہنچا اوروہاں کے مدرسہ میں داخلہ لے لیا ۔ حفظ کے دوران دوسرے گاؤں سے ایک اسلامی بھائی ہمارے گاؤں میں آتے اور اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتوں بھرے اِجتماع میں شرکت کی دعوت دیاکرتے۔اسی غرض سے وہ ہمارے مدرسے میں بھی آتے ۔ اُن کی انفرادی کوششکے نتیجے میں ایک بار میں اجتماع میں گیا تو بڑا لُطف آیا اور حیرت انگیزطور پر میرے سبق کا بھی حرج نہ ہوا ۔لہٰذا میں نے ہر ہفتے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت شروع کر دی ۔ایک مرتبہ اجتماع کے اختتام پرمیں نے مکتبہ المدینہ کے بستے سے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا کیسٹ بیان’’ قبر کی پہلی رات‘‘ خریدا۔جب مدرسے میں آکر سنا تو میں کافی دیر تک روتا رہا ۔قبر وحشر کی فکر کے مارے اس رات مجھے ٹھیک سے نیند بھی نہیں آسکی ۔میں نے گِڑگِڑا کر رب عَزَّ وَجَلَّ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کی ۔ پھر میں نے اِجتماع میں شرکت کے ساتھ ساتھ عاشقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لیا ۔ راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں سفر کے نتیجے میں دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کی کُڑھن نصیب ہوئی ۔ مَدَنی کام کرتے کرتے تادم تحریردعوت اسلامی کی ڈویژن مشاورت کے خادم (نگران) حیثیت سے سنّتوں کی خدمت میں مشغول ہوں ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(10) گانوں کی کیسٹیں توڑ ڈالیں
بابُ الاسلام (سندھ) کے شہرنوشیروفیروز میں مُقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکتیں سمیٹنے سے قبل میں فلمیں دیکھنے، گانے سننے کا بڑا شوقین تھا ۔میری اکثر راتیں فلمیں دیکھتے ہی گزرجاتی تھی ۔ میں نے گانوں کی کیسٹوں کی باقاعدہ لائبریری بھی بنا رکھی تھی ۔پھر میرے ایک رشتہ دار اسلامی بھائی نے امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بیان کی کیسٹ ’’گناہوں کا علاج‘‘ سننے کے لئے دی ۔ یہ کیسٹ سن کر مجھے احساس ہوا کہ میرے گناہوں کا مرض کس قدر بڑھ چکا ہے ، لہٰذا!اب مجھے اپنے علاج کی فکر کرنی چاہئے ۔چنانچہ میں نے گانوں کی کیسٹیں توڑ ڈالیں اور اپنے گناہوں سے توبہ کر کے داڑھی شریف رکھنے کی پکی نیّت کر لی اور ’’اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش ‘‘کے لئے میں دعوتِ اسلامی سے بھی وابستہ ہوگیا ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مرکزُالاولیاء لاہور کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں پینٹرتھا اور گناہوں بھری زندگی گزاررہا تھا۔ گانے سننے کا اتنارسیا تھاکہ ہر ہفتے چار یا پانچ کیسٹیں گانوں کی خریدا کرتا۔ کام کے دوران گانے سننا میری عادت تھی ۔اسی دوران میرا نصیبا چمکا اور شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ 12ماہ کے لئے مرکزالاولیاء لاہور تشریف لے آئے ۔ کسی اسلامی بھائی نے مجھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع