30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی لُوٹتا رہا ۔تادم تحریر میں علاقائی ذمہ دار کی حیثیت سے مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ! اِنفِرادی کوشِش سے کتنا فائدہ ہوتا ہے ! لھٰذا ہر مسلمان پر اِنفِرادی کوشِش کرنا اور ا ن کو نَمازوں کی دعوت دینا چاہئے ۔سننے کی درخواست کرکے اُس کو امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان کی کیسٹ بھی پیش کی جاسکتی ہے، جب وہ سن لے تو واپَس لے کر دوسری دی جائے ۔ اور جہاں تک ممکن ہو امیرِاَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات کی کیسٹیں دیکر بدلے میں اُن سے گانوں کی کیسٹیں لیکر’’ ڈَب ‘‘ کروا کر مزید آگے بڑھادینی چاہئیں ، اِس طرح کچھ نہ کچھ گناہو ں بھری کیسٹوں کا اِن شائَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ خاتِمہ ہوگا ۔ اِنفِرادی کوشِش اور سمجھانا ترک نہیں کرنا چاہئے ۔ اللّٰہ رَبُّ الْعٰلَمین جَلَّ جلَالُہ پارہ ۲۷ سورۃ ُالذّرِیٰت کی آیت نمبر ۵۵ میں ارشاد فرماتاہے ،
وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ ۲۷سورۃُالذّٰریٰت ، آیت نمبر ۵۵ )
تَرجَمۂ کنزُالایمان : اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مُسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(6) گھر سے T.Vنکال دیا
پنجاب (پاکستان) کے ضلع قصورکی تحصیل پتوکی کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ معاشرے کے بہت سے گھروں کی طرح ہمارے گھر میں بھی T.Vبہت دیکھا جاتا تھا ۔ ظاہر ہے کہ گھر میں سنّتوں بھرا ماحول کیونکر قائم ہوسکتاتھا ۔
مگرخُوش قسمتی سے میرے بڑے بھائی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو گئے۔وہ ہمیں بہتیرا سمجھاتے، بارہا انفرادی کوشش کرتے مگر ہمارے کان پر جوں تک نہ رینگتی ۔ وہ گھر میں T.Vکی موجودگی پر بھی تشویش کا شکار رہتے ، وہ اسے گھر سے نکالنا چاہتے تھے مگر کچھ کر نہ پاتے کیونکہ گھر میں صرف والد صاحب کی چلتی تھی ۔ ایک دن ہم گھر والے رات کو T.Vپر ڈرامہ دیکھ کر فارغ ہوئے تو بھائی آئے اور ٹیپ ریکارڈر پر ایک کیسٹ لگا دی ۔ اندازِ بیان بہت دلچسپ تھا لہٰذا ہم اُسے بڑی توجّہ سے سُننے لگے ۔ اس بیان میں امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جب T.Vکی تباہ کاریاں بیان کیں تو ہم پریشان ہوگئے بالخصوص ابوجان تو خوف کے مارے کانپنے لگے ۔جب بیان ختم ہوا تو ابو جان بلند آواز میں کہنے لگے : اب اس گھر میں T.Vنہیں چلے گا ۔سارے گھر والے اسی وقت چھت پر گئے اور ٹی وی انٹینا اُکھاڑ پھینکا اور باہمی رضا مندی سے گھر سے T,Vکو نکال دیا کیونکہ اس پر اکثر غیرشرعی پروگرام ہی دیکھے جاتے تھے۔ کچھ دِنوں بعد میرے کَمْسِن بھائی نے ابو سے T.Vدوبارہ لانے کا بچگانہ مطالبہ کیا تو ابوجان جذباتی ہوکر کہنے لگے کہ اب اس گھر میں T.Vرہے گا یا میں ! یہ سُن کر بھائی کو چپ لگ گئی۔ یوں بیانِ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی برکت سے ہمارا گھر T.Vسے پاک ہوگیا اور ہمارا ساراگھرانا دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
گلزارِطیبہ(سرگودھا ، پنجاب)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُبَاب ہے کہ یہ اُن دِنوں کی بات ہے کہ جب ہم کوئٹہ میں رہتے تھے ، میٹرک کا امتحان دینے کے بعد مجھے خدمتِ دین کا شوق ہوا تو میں تبلیغِ دین کا دعوٰی کرنے والے بعض لوگوں کے ساتھ کچھ دن اُٹھا بیٹھا ، ان کے ساتھ دوسرے شہر بھی گیا مگر میرا دل اُن سے مطمئن نہ ہوا ۔پھر کسی نے مجھے ایک کیسٹ سننے کے لئے دی جس کا نام تھا’’قبر کا امتحان‘‘۔میں نے وہ بیان سُنا تو امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مَدَنی اندازِ تفہیم میرے دل میں اُتر گیا ۔مجھے ایسا رُوحانی سکون ملا کہ میں کئی روز تک اس کیسٹ کو دو دو بار سُنتا رہا ۔گزشتہ رمضان میں نے اعتکاف بھی کیا تھا ، مگر عید کے موقع پر ماڈرن لباس پینٹ شرٹ پہن کر عید کی نمازپڑھنے گیا تھا اور عید کے تین دن تک ( نعوذ باللہ)فلمیں بھی دیکھیں ۔جب امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بیان سُنا تو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور پتا چلا کہ باعمل مسلمان کسے کہتے ہیں ! چنانچہ میں نے بارگاہِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگی ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے میری زندگی میں ایسا مَدَنی انقلاب برپا ہوا کہ میں جو پہلے والدین کے سامنے زبان درازی کیا کرتا تھا ، آج اُن کی قدم بوسی کرتا ہوں ، بلکہ اپنے ملنے جلنے والوں کو بھی والدین کا احترام کرنے کی تاکید کرتاہوں ۔ پہلے میں ڈرامے بڑے شوق سے دیکھتا تھا مگر جب سے عطّاری پٹا اپنے گلے میں ڈالا ہے، میں نے ڈراموں سے اپنا ناتا توڑ لیا ہے ۔ میرے والدین ، رشتہ داروں اور دوستوں نے جب مجھے سُدھرتے دیکھا تو اتنے متأثر ہوئے کہ وہ بھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہاتھوں بیعت ہو کر عطّاری ہوگئے ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع