دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sharabi Ki Toba | شرابی کی توبہ

book_icon
شرابی کی توبہ

        واپسی پر صحرائے مدینہ باب المدینہ (کراچی )میں سندھ سطح پر ہونے والے  دعوتِ اسلامی کے 3روزہ سنتوں بھرے اِجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی تو امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    کے ذریعے مرید ہوکر ’’عطّاری ‘‘بن گیااور اُسی وقت سنت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی سجانے کی نیت بھی کرلی۔اُس اجتماع کی آخری نشست میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    ’T.Vکی تباہ کاریاں ‘‘   [1]؎ کے موضوع پر بیان فرمایا ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    نے اپنے مخصوص انداز میں جب ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے ذریعے پھیلنے والی خرابیاں گنوانا شروع کیں اور اس کے ذریعے سرزد ہونے والے گناہوں کا تذکرہ کیا تو میں ہِل کر رہ گیا ۔چنانچہ میں نے واپسی پر نہ صرف گھر سے T.V نکال باہر کیا بلکہ ’’کیبل ‘‘ کا کاروبار بھی ختم کردیا ۔ اب میرے دل میں مال ودولت کی حرص نہیں بلکہ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    کی محبت موجیں مار رہی تھی۔اُس سنّتوں بھرے اِجتماع کے بعدچار دن تک ہونے والی ملاقات میں روزانہ اپنے پیرومُرشد  امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی بارگاہ میں حاضر ہوتا رہا۔ ایک روز مجھے موقع ملا تو میں نے بارگاہ ِ امیرِ اہلسنّت میں عرض کی :  ’’حضور!میں آپ کے ماتھے کابوسہ لینا چاہتا ہوں ۔‘‘ آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    نے میری تڑپ دیکھی توبڑی شفقت سے پوچھا : ’’کیا فیس دیں گے؟‘‘میں نے عرض کی : ’’یا مُرشِدی! آپ جتنی رقم فرمائیں گے میں حاضر کردوں گا۔‘‘آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    میری پیشکش سُن کر مسکرائے اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے کچھ یوں فرمایا : ’’رقم نہیں بلکہ سر پرسارا دن عمامہ شریف سجانے کی نیت کی مَدَنی فیس دینا ہوگی۔‘‘میں نے بخوشی یہ نیت کی اور بڑھ کر آپ کی پیشانی مبارَک چوم لی۔ یقین جانئے!  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی رنگ میں رنگنے سے پہلے میں گندی گندی گالیاں بکنے کا عادی تھامگر  امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    کی مبارَک پیشانی چومنے کی بَرَکت سے میری یہ عادت نکل گئی ، تادمِ بیان اس بات کو دو سال ہوچکے ہیں مگر مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میری زبان سے کبھی دوبارہ گالی نکلی ہو۔

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرتے کرتے آج میں ذیلی حلقہ مشاورت کے خادم (نگران)اورتحصیل سطح پر مجلسِ رابطہ کے ذمہ دار کے طور پر مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(3) منزل مل گئی

        نواب شاہ (بابُ الاسلام سندھ)کے حاجی محمد یاسر عطّاری(جو اس وقت دعوتِ اسلامی کی پاکستان سطح کی انتظامی کابینہ کے رُکن بھی ہیں ) کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھا ۔میں فیشن زدہ اور اسٹیج پر گانے کا شوقین تھا ۔ رمضان المبارک کا مُبارک مہینہ تشریف لایا تو میں نے بھی نمازوں کی پابندی شروع کردی ۔ دل عمل کی طرف مزیدمائل ہوا مگر میرے ساتھ پریشانی یہ تھی کہ میں کسی مکتبِ فکر سے سوفیصد مطمئن نہیں تھا ، لوگوں کے ایک مخصوص طبقے کی طرح میرا بھی یہی خیال تھا کہ مذہبی لوگوں سے دُور ہی رہنا چاہئے کہ ہر گروہ خُود کو صحیح اور دُوسرے کو غلط کہتا ہے ۔بالآخر مجھے دعوتِ اسلامی کے صدقے مذہبِ مہذب اہلسنّت کے حق ہونے کا یقینِ کامل ہوگیا ۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ 27ویں رمضان کی مقدس رات تھی ، میں نے بھی چوکی مسجد بیلہ انجینئرنگ میں شب بیداری کی اور بارگاہِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ   میں رو رو کر دُعا کی :  ’’یااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اپنے نیک بندوں کے قریب کر دے ، مجھے اہلِ حق سے ملا دے ، سیدھا راستہ دکھا دے۔‘‘  مجھ پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ میں سحری بھی نہ کر سکا اور بغیر سحری کے روزہ رکھا۔

        رَمَضَان شریف کے مہینہ تشریف لے گیا تو باجماعت نمازوں کا جذبہ کچھ کم ہوگیا ۔ ایک دن ظہر کے وقت نفس کی پکار پر میں نے سوچا کہ آج مسجد کے بجائے فیکٹری ہی میں نماز پڑھ لیتاہوں مگر کوئی رُوحانی قوت مجھے مسجد کی جانب کھینچ رہی تھی ، چنانچہ میں نماز ادا کرنے کے لئے مسجد بیلہ انجینئرنگ پہنچ گیا۔وہاں پر میں نے بہت سے عمامے اور داڑھیوں والوں کو دیکھا تو دل ہی دل میں اُن کا مذاق اڑانے لگا ۔مگر نہ جانے اُن میں کیا کشش تھی کہ کچھ ہی دیر میں میری حالت ایسی ہوگئی کہ میں بار بار انہی کی طرف دیکھنے لگا ، ان کی داڑھی اور عمامہ اب مجھے اچھا لگنے لگا۔جماعت کا وقت ہوا تو امام صاحب نے امامت کے لئے اُنہی عمامے والوں میں سے ایک کو آگے کردیا ۔ نماز کے بعد اعلان ہوا کہ ’’ نماز کے بعد تشریف رکھیں ، ہم سنتیں سیکھیں گے اور سنت پر بیان ہو گا۔‘‘ کچھ اسی طرح کے الفاظ تھے۔ان کی دعوت میں بڑی مٹھاس تھی جس کی حلاوت سے میں پہلی بار آشنا ہوا تھا۔ بقیہ نماز کے بعد نفس نے مجھے بھاگ نکلنے کا مشورہ دیا مگر میں نے دیکھاکہ دو عمامے والے وہاں سے جانے والوں کو محبت وشفقت سے بیان میں بیٹھنے کی درخواست کر رہے ہیں تو میں نے اٹھنے کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیااور وہیں بیٹھ گیا ۔ایک عمامے والے جن کا چہرہ بڑا نُورانی تھا ، بیان فرمایا ۔ ان کی ایک بات میرے دل پر چوٹ کر گئی کہ ’’ اپنے سر سے لیکر پاؤں تک دیکھیں کہ ہم عملی طور پر کیسے مسلمان ہیں کہ چہرہ یہودیوں جیسا اور لباس عیسائیوں جیسا ! اگرمَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بروزِ محشر ہمیں چھوڑ دیا تو ہم کیا کریں گے!‘‘ بیان کے بعد اُس مبلغ نے مسلسل چار جمعرات جامع مسجد گلزار حبیب گلستانِ اوکاڑوی باب المدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے کی نیتیں کروائیں تو میں نے بھی ہاتھ اٹھا دیا ۔بیانات کے بعد ملاقات کی معلوم ہوا کہ وہ مبلغ ہمارے میٹھے میٹھے امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادریدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    تھے ۔

         اب میں بے چینی سے جمعرات کا انتظار کرنے لگا ۔جمعرات کواجتماع میں پہنچا ، بیان سنا، دعا میں شرکت کی اور ہمیشہ کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں رہنے کی نیت کی۔ گاناگانے



[1]         امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیہ کی آواز میں آڈیو کیسٹ ، سی ڈی اور وی سی ڈی اوراسی بیان کا رسالہ’’ T.Vکی تباہ کاریاں‘‘مکتبۃالمدینہ سے ھدیۃًطلب کیجئے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن