30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعداد میں مکتبۃ المدینہ سے شائع ہوکر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں ۔
چونکہ صالحین کے واقعات میں دلوں کی جِلا، روحوں کی تازگی اورنظر و فکر کی پاکیزگی پِنْہاں ہے۔ لہٰذا امّت کی اصلاح و خیر خواہی کے مقدس جذبے کے تَحتمجلس المدینۃ العلمیۃ نے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حیاتِ مبارکہ کے روشن ابواب مثلاًآپ کی عبادات، مجاہَدات، اخلاقیات و دینی خدمات کے واقعات کے ساتھ ساتھ آپ کی ذاتِ مبارَکہ سے ظاہر ہونے والی بَرَکات و کرامات اور آپ کی تصنیفات و مکتوبات ، بیانات و ملفوظات کے فُیُوضات کو بھی شائع کرنے کا قَصْد کیا ہے۔ اس سلسلے میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بیانات کی بہت سی مَدنی بہاریں 3رسائل :
(۱) کافر خاندان کا قبولِ اسلام(۲)بدنصیب دُولہا (۳)فلمی اداکار کی توبہمیں پیش کی جاچکی ہیں ، اب رسالہ ’’ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بیانات مَدَنی بہاریں ‘‘کے چوتھے حصے ’’شرابی کی توبہ‘‘میں مزید12 بہاریں شائع کی جارہی ہیں جبکہ بہت سی بہاریں ابھی مرتَّب کی جارہی ہیں ۔
اللہ تَعَالٰی ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیۃ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
شعبہ امیرِ اَہلسنّت (مد ظلہ العالی) مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)
29 ربیع الغوث 1430ھ، 26اپریل 2009ء
باب المدینہ(کراچی) کے علاقہ اورنگی ٹاؤن میں مُقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ میں ایک دُنیادار شخص تھا۔ دن رات مال کمانے کی دُھن میرے دل ودماغ پر سوار رہتی ۔ کسی نے ’’کیبل ‘‘کے کاروبار کا مشورہ دیا تو میں انجامِ آخرت کی پرواہ کئے بغیر اس کاروبار میں لگ گیا ۔ کچھ ہی عرصہ میں میرا کاروبار اتنا پھیل گیا کہ ماہانہ کم و بیش 80,000روپے کی آمدنی ہونے لگی۔دولت کی ریل پیل نے مجھے اندھا کردیا ، آہ! مجھے نہیں معلوم تھا کہ آمدنی کے ساتھ ساتھ میرے سر پر گناہِ جاریہ کا انبار بھی بڑھ رہا ہے ۔ 2006 ء میں بچوں کے ماموں کے اِصرار پرحج کے لئے فارم جمع کروادئیے۔ حج کے لئے روانگی سے چند دن پہلے بچوں کے ماموں جو شَیخِ طریقت ، امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مرید ہیں ، مجھ سے کہنے لگے : ’’میں اپنے پیرو مرشِد امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں حاضر ی کے لئے جارہا ہوں آپ بھی چلیں ۔‘‘ میں یہ سوچ کر ان کے ساتھ ہو لیا کہ اِن کے مرشد کی ساری دنیا میں شہرت ہے جاکر دیکھنا چاہئے۔ میں جب امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملا قات کیلئے قریب پہنچا توآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ارشاد فرمایا : ’’حج پر کتنے لوگ جارہے ہیں ؟‘‘
میں نے عرض کی : ’’تین۔‘‘ آپ نے تینوں کے لئے تحفے عطا فرمائے۔ملاقات کے بعد میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ انہیں کیسے پتا چلا کہ میں حج پر جارہا ہوں !اُسی وقت سے میں اپنے دل ان کے لئے عقیدت و محبت محسوس کرنے لگا ۔
کرامتِ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ
جنوری 2006ء، 1426ھ میں پہلی بار حجِ بیتُ اللہ کی سعادت حاصل ہوئی۔11 ذُوالْحِجَِّۃِ الْحَرام 1426ھ مکّۂ مکرَّمہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں صبح کم و بیش 9 بجے اونٹ نَحر کرتے وقت چُھری میرے ہاتھ پر جالگی جس سے انگوٹھے اور انگلی کے درمیان کا حصّہ کَٹ کر الگ ہو گیا۔مجھے فوراً ہسپتال لے جایاگیا۔ ڈاکٹروں نے تقریباً25ٹانکے لگائے اور تسلی دی کہ اِنْ شَاء اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ایک ہفتے کے اندرزَخْم بھر جائے گا۔ 10دن گزرگئے مگر زَخْمجُوں کاتُوں باقی تھایہاں تک کہ مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی طرف روانگی کا وقت آپہنچا۔ڈاکٹر نے پٹی کھول کر چیک کیا تو کافی تشویش کا اظہار کیا کہ ٹانکے گَل کر نکل چکے ہیں اورزَخْم خراب ہوگیا ہے ، آپریشن کرکے انگوٹھا جوڑ سے نکال کر الگ کرنا پڑے گا، ورنہ زَخْم کے مزید سڑنے کاخدشہ ہے۔میں بَہُت پریشان ہوا مگر مدینے شریف حاضری کی تاریخ آچکی تھی ، لہٰذا یہ طے ہوا کہ مدینے شریف جاکر ڈاکٹر کو چیک کروائیں گے۔
بالآخِر ہم مدینے شریف کی پُر کیف فضاؤں میں جاپہنچے ۔ چونکہ میں نے زَخْم کے پیش نظر کافی دنوں سے غسل نہیں کیا تھا، اسلئے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضری سے پہلے میں نے ڈاکٹر کو چیک کروانے کا ارادہ کیا تاکہ اس کے مشورے سے غسل کروں پھرمَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضری دوں ۔نمازِعشاء کے بعد اپنی قیام گاہ پہنچا اورشدید پریشانی کے عالم میں سوگیا ۔میں نے خواب میں دیکھا کہ امیرِ اَہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادِریدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف لے آئے اور تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ بیٹا ! گھبراؤ مت! آپ کا ہاتھ تو بالکل صحیح ہوچکا ہے، غسل کرو اور بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضری دو۔‘‘ میں چَونک کر اُٹھ بیٹھا ، میرے جسم پرسنسناہٹ طاری تھی۔ میں نے بے اختیار ہاتھ کی پٹی کھولنا شرو ع کردی ۔یہ دیکھ کر میں حیران وششدر رہ گیا کہ میرے ہاتھ کا وہ زَخْمہاتھ سے ایسا غائب ہوچکا تھا جیسے کبھی تھا ہی نہیں ۔ صرف ایک باریک لکیر زَخْم کی جگہ موجود تھی جس سے گوشت جُڑنے کا پتا چل رہا تھا۔ اس وقت کم و بیش رات کے 2 بجے کا وقت تھا، دیگرشرکائے قافلہ آرام کررہے تھے اور میں زما نے کے ولی امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی اس کرامت پر سردُھن رہا تھا۔میری خوشی کی انتہانہ تھی ۔میں نے اُسی وقت غسل کیا ، کپڑے تبدیل کئے اور بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضری کے لئے اکیلا ہی نکل کھڑا ہوا ۔میں نے اُسی وقت نیت کرلی کہ واپس جاکر اِن صاحبِ کرامت بزرگ کا ضرور مرید بنوں گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع