30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 679صفْحات پر مشتمل کتاب ’’جنّتی زیور‘‘ صفْحہ153پرشیخُ الحدیث حضرتِ علّامہ مولانا عبدُ المصطفٰے اعظمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تحریر فرماتے ہیں : ’’ماں باپ کچھ کپڑے، کچھ زیورات، کچھ سامان، برتن، پلنگ، بستر، میز کرسی، تخت، جائے نماز، قرآنِ مجید، دینی کتابیں وغیرہ لڑکی کو دے کر سُسرال بھیجتے ہیں یہ لڑکی کا جہیز کہلاتا ہے۔ بلا شبہ یہ جائز بلکہ سنّت ہے کیونکہ ہمارے حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اپنی پیاری بیٹی حضرت بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو جہیز میں کچھ سامان دے کر رخصت فرمایا تھا لیکن یاد رکھو کہ جہیز میں سامان کا دینا یہ ماں باپ کی مَحبت وشفقت کی نشانی ہے اور ان کی خوشی کی بات ہے۔ ماں باپ پر لڑکی کو جہیز دینا یہ فرض و واجِب نہیں ہے۔ لڑکی اور داماد کے لئے ہرگز ہرگز جائز نہیں کہ وہ زبردستی ماں باپ کو مجبور کر کے اپنی پسند کا سامان جہیز میں وُصول کریں ، ماں باپ کی حیثیت اس قابِل ہو یا نہ ہو مگر جہیز میں اپنی پسند کی چیزوں کا تقاضا کرنا اور ان کو مجبور کرنا کہ وہ قرض لے کربیٹی، دامادکی خواہش پوری کریں ، یہ خلافِ شریعت بات ہے بلکہ آج کلتِلَک جیسی رسم مسلمانوں میں بھی چل پڑی ہے کہ شادی طے کرتے وقْت ہی یہ شرط لگادیتے ہیں کہ جہیز میں فلاں فلاں سامان اور اتنی اتنی رقم دینی پڑے گی ، چُنانچہ بہت سے غریبوں کی لڑکیاں اسی لئے بیاہی نہیں جا رہی ہیں کہ ان کے ماں باپ لڑکی کے جہیز کی مانگ پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتے یہ رسم یقیناً خلافِ شریعت ہے اور جبراً قہراً (یعنی بہ زور) ماں باپ کو مجبور کرکے زبردستی جہیز لینا یہ ناجائز ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازِم ہے کہ اس بری رسم کو ختم کر دیں ۔‘‘(جنّتی زیور، رسومات، ص۱۵۳تا ۱۵۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آج کے اس پُرفِتَن دَور میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والی ان ناجائز رسومات سےاِجتِناب کرتے ہیں ؛ ان میں نمایاں نام شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ہے؛ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ شادی بیاہ کی خوشی میں ہونے والی بے ہودہ تقریبات و رسومات کو نہ صرف خود ناپسند کرتے ہیں بلکہ دیگر مسلمانوں کو بھی ان گناہوں بھرے معمولات سے اِجتِناب کی شفقت آمیز تاکید فرماتے رہتے ہیں ؛ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی بھی سادَگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے عین سنّت کے مطابق کرنے کی کوشش فرمائی تھی۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک مدَنی مذاکرے میں کچھ یوں ارشاد فرمایا: میں نے پوری کوشش کی کہ حضرت سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو میرے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو جو عِنایت فرمایا اس کی پیروی کی جائے۔
واسطے جن کے بنے دونوں جہاں
ان کے گھر تھیں سیدھی سادی شادیاں
اس جہیزِ پاک پر لاکھوں سلام
صاحبِ لَولاک پر لاکھوں سلام
(دیوانِ سالِک از حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان)
مثلاً مشکیزہ، گیہوں پیسنے والی ہاتھ کی چکی، نُقرَئی (نُق۔رَ۔ئی یعنی چاندی کے) کنگن پیش کئے، اسی طرح کی دیگر چیزیں کتابوں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع