30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 397 صفْحات پر مشتمِل کتاب ’’پردے کے بارے میں سُوال جواب‘‘ صفْحہ 1 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ دُرُودِ پاک کی فضیلت نقْل فرماتے ہیں : حضرتِ اُبَیّبن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے عرْض کی کہ میں (سارے وِرد، وظیفے، دُعائیں چھوڑ دوں گا اور) اپنا سارا وقْت دُرُود خوانی میں صَرْف کروں گا۔ تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:ـ ’’یہ تمہاری فِکروں کو دُور کرنے کے لئے کافی ہوگا اور تمہارے گناہ مُعاف کر دئیے جائیں گے۔‘‘ (سُنَنُ التِّرْمِذِی،ابواب صفۃ القیامۃوالرقائق والورع، باب ما جاء فی صفۃ اوانی الحوض، ص۵۸۳، الحدیث:۲۴۵۷، ملتقطاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی’’مِراٰۃُ المَناجیح‘‘ جلد2 صفْحہ103 پر اِس حدیثِ پاک کی شرْح میں فرماتے ہیں : یعنی (حضرتِ سیِّدُنا اُبَیّ بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے عرْض کی کہ میں ) سارے وظیفے دعائیں چھوڑ دوں گا سب کی بجائے دُرود ہی پڑھوں گا کیونکہ اپنے لیے دعائیں مانگنے سے بہتر یہ ہے کہ ہر وقْت آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو دعائیں دیا کروں (جس کے جواب میں سروَرِکائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیسی پیاری بِشارت سے نوازا) یعنی اگر تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری دین و دُنْیا دونوں سنبھل جائیں گی، دُنْیا میں رنج و غم دَفْع ہوں گے، آخِرت میں گناہوں کی مُعافی ہو گی۔
اسی بِنا پر عُلَما فرماتے ہیں کہ جو تمام دعائیں وظیفے چھوڑ کر ہمیشہ کثرت سے دُرود شریف پڑھا کرے تو اسے بغیر مانگے سب کچھ ملے گا اور دین و دُنْیا کی مشکِلیں خود بخود حل ہوں گی۔ پتا لگا کہ حُضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر دُرود پڑھنا درحقیقت ربّ (عَزَّوَجَلَّ ) سے اپنے لیے بھیک مانگنا ہے ہمارے بھکاری ہمارے بچوں کو دعائیں دے کر ہم سے مانگتے ہیں ہم ربّ (عَزَّوَجَلَّ ) کے بھکاری ہیں ، اس کے حبیب (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو دعائیں دے کر اس سے بھیک مانگیں ، ہمارے دُرود سے حُضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا بھلا نہیں ہوتا بلکہ ہمارا اپنا بھلا ہوتا ہے، اس تقریر سے یہ اِعتِراض بھی اٹھ گیا کہ جب حُضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر ہر وقْت رحمتوں کی بارِش ہو رہی ہے تو ان کے لیے دعائے رحمت کرنےسے فائدہ کیا؟ شیخ عبدُالحق (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) فرماتے ہیں کہ مجھے عبدُ الوہّاب مُتَّقِی (عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) جب بھی مدینہ (زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا) سے وداع کرتے تو فرماتے کہ سفرِ حج میں فرائض کے بعد دُرود سے بڑھ کر کوئی دُعا نہیں ، اپنے سارے اوقات دُرود میں گھیرو اور اپنے کو دُرود کے رنگ میں رنگ لو۔ (مراٰۃ المناجیح، کتاب الصلاۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وفضلھا، الفصل الثانی، ج۲، ص۱۰۳، ملتقطاً)
وِرْدِ لب ہر دم دُرودِ پاک ہو
یا شہِ عَرَب و عجم! چَشمِ کرَم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع